আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪৫ টি

হাদীস নং: ৬৪৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں خوشبو لگانے کا بیان
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے سو کہا کہ یہ خوشبو کس شخص سے آتی ہے معاویہ بن ابی سفیان بولے مجھ سے اے امیر المومنین، حضرت عمر نے کہا ہاں تمہیں قسم ہے خداوند کریم کے بقا کی، معاویہ بولے کہ حبیبہ نے خوشبو لگا دی میرے اے امیر المومنین۔ حضرت عمر نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم دھو ڈالو اس کو جا کر۔
عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ فَقَالَ مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ مِنْکَ لَعَمْرُ اللَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ طَيَّبَتْنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ عُمَرُ عَزَمْتُ عَلَيْکَ لَتَرْجِعَنَّ فَلْتَغْسِلَنَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں خوشبو لگانے کا بیان
صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی اپنے عزیزوں سے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے اور آپ کے پہلو میں کثیر بن صلت تھے تو کہا عمر نے کس میں سے یہ خوشبو آتی ہے کثیر نے کہا مجھ میں سے میں نے اپنے بال جمائے تھے کیونکہ میرا ارادہ سر منڈانے کا نہ تھا بعد احرام کھولنے کے، حضرت عمر نے کہا شربہ (وہ گڑھا جو کھجور کے درخت کے پاس ہوتا ہے جس میں پانی بھرا رہتا ہے) کے پاس جا اور سر کو مل کر دھو ڈال تب ایسا کیا کثیر بن صلت نے۔
عَنْ الصَّلْتِ بْنِ زُيَيْدٍ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ وَإِلَی جَنْبِهِ کَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ فَقَالَ عُمَرُ مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ فَقَالَ کَثِيرٌ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَبَّدْتُ رَأْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَحْلِقَ فَقَالَ عُمَرُ فَاذْهَبْ إِلَی شَرَبَةٍ فَادْلُکْ رَأْسَکَ حَتَّی تُنْقِيَهُ فَفَعَلَ کَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں خوشبو لگانے کا بیان
یحییٰ بن سعید اور عبداللہ بن ابی بکر اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا سالم بن عبداللہ اور خارجہ بن زید سے کہ بعد کنکریاں مارنے کے اور سر منڈانے کے قبل طواف الافاضہ کے خوشبو لانگا کیسا ہے تو منع کیا سالم نے اور جائز رکھا خارجہ بن زید بن ثابت نے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَخَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ أَنْ رَمَی الْجَمْرَةَ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ عَنْ الطِّيبِ فَنَهَاهُ سَالِمٌ وَأَرْخَصَ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احرام باندھنے کے میقاتوں کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ احرام باندھیں اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اور اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے کہا عبداللہ بن عمر نے پہنچا مجھ کو کہ فرمایا آپ ﷺ نے احرام باندھیں اہل یمن یلملم سے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احرام باندھنے کے میقاتوں کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کو ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا اور اہل شام کو جحفہ سے اور اہل نجد کو قرن سے عبداللہ بن عمر نے کہا ان تینوں کو تو سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اور مجھے خبر پہنچی کہ آپ ﷺ نے فرمایا احرام باندھیں اہل یمن یلملم سے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا هَؤُلَائِ الثَّلَاثُ فَسَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احرام باندھنے کے میقاتوں کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا فرع سے۔ مالک نے ایک معتبر شخص سے سنا کہ عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا بیت المقدس سے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا عمرہ کا جعرانہ سے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَهَلَّ مِنْ الْفُرُعِ عَنْ مَالِک عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَهَلَّ مِنْ إِيلِيَائَ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ بِعُمْرَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک کہنے کا بیان اور احرام کی ترکیب کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی لبیک یہ تھی لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنمعہ لک والملک لا شریک لک اور عبداللہ بن عمر اس میں زیادہ کرتے لیبک لبیک لبیک وسعدیک والخیر بیدیک لبیک الرغباء الیک والعمل۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْکَ لَبَّيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک کہنے کا بیان اور احرام کی ترکیب کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پڑھتے تھے ذوالحلیفہ میں مسجد میں دو رکعتیں پھر جب اونٹ پر سوار ہوجاتے لبیک پکار کر کہتے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک کہنے کا بیان اور احرام کی ترکیب کا بیان
سالم بن عبداللہ نے سنا اپنے باپ عبداللہ بن عمر سے کہتے تھے کہ یہ میدان ہے جس میں تم جھوٹ باندھتے ہو رسول اللہ ﷺ پر کہ آپ ﷺ نے احرام باندھا وہاں سے حالانکہ نہیں لبیک کہی آپ ﷺ نے مگر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سے۔
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ بَيْدَاؤُکُمْ هَذِهِ الَّتِي تَکْذِبُونَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک کہنے کا بیان اور احرام کی ترکیب کا بیان
عبیداللہ بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن میں نے تم کو چار باتیں ایسی کرتے ہوئے دیکھیں جو تمہارے ساتھیوں میں سے کسی کو نہیں کرتے دیکھا، عبداللہ بن عمر نے کہا کون سے باتیں بتاؤ اے ابن جریج، انہوں نے کہا میں نے دیکھا تم کو نہیں چھوتے ہو تم طواف میں مگر رکن یمانی اور حجر اسود کو اور میں نے دیکھا تم کو کہ پہنتے ہو تم جوتیاں ایسے چمڑے کی جس میں بال نہیں رہتے اور میں نے دیکھا خضاب کرتے ہو تم زرد اور میں نے دیکھا تم کو جب تم مکہ میں ہوتے ہو تو لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لینے ہیں اور تم نہیں باندھتے مگر آٹھویں تاریخ کو، عبداللہ بن عمر نے جواب دیا ارکان کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے اور جوتیوں کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے چمڑے کی جوتیاں پہنتے دیکھا جس میں بال نہیں رہتے آپ ﷺ وضو کر کے بھی ان کو پہن لیتے تو میں بھی ان کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زرد خضاب کئے ہوئے دیکھا تو میں بھی اس کو پسند کرتا ہوں اور احرام کا حال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ لبیک نہیں پکارتے تھے یہاں تک کہ اونٹ آپ ﷺ کا سیدھا کھڑا ہوجاتا چلنے کے واسطے۔
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ يَصْنَعُهَا قَالَ وَمَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُکَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْکَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَرَأَيْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُکَ إِذَا کُنْتَ بِمَکَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّی يَکُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الْأَرْکَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک کہنے کا بیان اور احرام کی ترکیب کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے ذوالحلیفہ کی مسجد میں پھر نکل کر سوار ہوتے اس وقت احرام باندھتے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبدالملک بن مروان نے لبیک پکارا ذوالحلیفہ کی مسجد سے جب اونٹ ان کا سیدھا ہوا چلنے کو اور ابان بن عثمان نے یہ حکم کیا تھا ان کو۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَرْکَبُ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَحْرَمَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَأَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ أَشَارَ عَلَيْهِ بِذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک بلند آواز سے کہنے کا بیان
سائب بن خلاد انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آئے میرے پاس جبرائیل اور کہا کہ حکم کروں میں اپنے اصحاب کو بلند آواز سے لبیک پکارنے کا۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے یہ حکم عورتوں کو نہیں ہے بلکہ عورتیں آہستہ سے لبیک کہیں اس طرح کہ آپ ہی سنیں۔
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَوْ مَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ أَوْ بِالْإِهْلَالِ يُرِيدُ أَحَدَهُمَا عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ لَيْسَ عَلَی النِّسَائِ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ لِتُسْمِعْ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج افراد کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہ الوداع کے سال تو ہم میں سے بعض لوگوں نے احرام باندھا عمرہ کا اور بعضوں نے حج اور عمرہ دونوں کا اور بعضوں نے صرف حج کا اور رسول اللہ ﷺ نے صرف حج کا احرام باندھا سو جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا اور جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا یا صرف حج کا اس نے احرام نہ کھولا دسویں تاریخ تک۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَّلَ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يُحِلُّوا حَتَّی کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج افراد کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج افراد کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے افراد کیا حج کا۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قران کا بیان
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ مقداد بن الاسود آئے حضرت علی کے پاس اور وہ پلا رہے تھے اپنے اونٹ کے بچوں کو گھلا ہو آٹا اور چارہ پانی میں، تو کہا مقداد نے یہاں عثمان بن عفان منع کرتے ہیں قران سے درمیان حج اور عمرہ کے پس نکلے علی اور ان کے ہاتھوں میں آٹے کے نشان تھے سو میں اب تک اس آٹے کے نشانوں کو جو ان کے ہاتھ پر تھے نہیں بھولا اور گئے حضرت عثماں بن عفان کے پاس اور کہا کیا تم منع کرتے ہو قران سے درمیان حج اور عمرہ کے انہوں نے کہا ہاں میرے رائے یہی ہے تو حضرت علی غصے سے باہر نکلے کہتے تھے لبیک اللہم البیک بحجہ وعمرۃ۔
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ دَخَلَ عَلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ يَنْجَعُ بَکَرَاتٍ لَهُ دَقِيقًا وَخَبَطًا فَقَالَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَنْهَی عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَی يَدَيْهِ أَثَرُ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ فَمَا أَنْسَی أَثَرَ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ عَلَی ذِرَاعَيْهِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ أَنْتَ تَنْهَی عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ ذَلِکَ رَأْيِي فَخَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا وَهُوَ يَقُولُ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قران کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے حجہالوادع کے سال حج کرنے کے لئے تو ان کے بعض اصحاب نے احرام باندھا حج کا اور بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا اور بعض نے صرف عمرہ کا سو جس شخص نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اس نے احرام نہ کھولا اور جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَرَجَ إِلَی الْحَجِّ فَمِنْ أَصْحَابِهِ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنْهُمْ مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَقَطْ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحْلِلْ وَأَمَّا مَنْ کَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک موقوف کرنے کا وقت
محمد بن ابی بکر نے پوچھا انس بن مالک (رض) جب وہ دونوں صبح کو جا رہے تھے منیٰ سے عرفہ کو، تم کیا کرتے تھے آج کے روز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بولے بعض لوگ ہم میں سے آج کے روز لبیک کہتے تھے پکار کر تو کوئی منع نہ کرتا بعض لوگ تکبیر کہتے تو کوئی منع نہ کرتا۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَةَ کَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ وَيُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک موقوف کرنے کا وقت
محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت علی لبیک کہتے تھے حج میں مگر جب زوال ہوتا آفتاب کا عرفہ کے روز تو موقوف کرتے لبیک کو۔
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يُلَبِّي فِي الْحَجِّ حَتَّی إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ لبیک موقوف کرنے کا وقت
ام المومنین عائشہ موقوف کرتی تھیں لبیک جب جاتی تھیں عرفات کو۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَانَتْ تَتْرُکُ التَّلْبِيَةَ إِذَا رَجَعَتْ إِلَی الْمَوْقِفِ
tahqiq

তাহকীক: