আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭৩ টি

হাদীস নং: ১৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تو سلام پھیر دیا دو رکعتیں پڑھ کر پس کھڑا ہوا ذوالیدین اور کہا کیا نماز کم ہوگئی یا بھول گئے آپ ﷺ اے اللہ کے رسول اللہ فرمایا آپ ﷺ نے کوئی بات نہیں ہوئی متوجہ ہوئے آپ ﷺ لوگوں پر اور کہا کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے لوگوں نے کہا ہاں پس اٹھے رسول اللہ ﷺ اور تمام کیا جس قدر نماز باقی تھی پھر دو سجدے کئے بعد سلام کے اور آپ ﷺ بیٹھے تھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان
ابی بکر بن سلیمان سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں ظہر یا عصر کی پھر سلام پھیر دیا تو کہا ذولشمالین اور وہ ایک شخص تھا بنی زہرہ بن کلاب سے کہ نماز کم ہوگئی یا رسول اللہ ﷺ یا آپ ﷺ بھول گئے آپ ﷺ نے فرمایا نہ نماز کم ہوئی نہ میں بھولا ذوالشمالین نے کہا کچھ تو ہوا یا رسول اللہ ﷺ پس متوجہ ہوئے آپ ﷺ لوگوں پر اور کہا کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے لوگوں نے کہا ہاں تو تمام کیا رسول اللہ ﷺ نے باقی نماز کو پھر سلام پھیرا۔
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکَعَ رَکْعَتَيْنِ مِنْ إِحْدَی صَلَاتَيْ النَّهَارِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَمَا نَسِيتُ فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ الصَّلَاةِ ثُمَّ سَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان
سعید بن مسیب اور ابی سلمہ بن عبدالرحمن (رض) بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شک ہو تم میں سے کسی کو نماز میں تو نہ یاد رہے اس کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو چاہئے کہ ایک رکعت اور پڑھ لے اور دو سجدے کرے قبل سلام کے پھر اگر یہ رکعت جو اس نے پڑھی ہے درحقیقت پانچویں ہوگی تو ان سجدوں سے مل کر ایک دوگانہ ہوجائے گا اگر چوتھی ہوگی تو ان سجدوں سے ذلت ہوگی شیطان کو۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ کَمْ صَلَّی أَثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّي رَکْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَإِنْ کَانَتْ الرَّکْعَةُ الَّتِي صَلَّی خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ وَإِنْ کَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ جب شک کرے کوئی تم میں اپنی نماز کا تو سوچے جو بھول گیا ہے پھر پڑھ لے اس کو اور دو سجدے سہو کے بیٹھ کر کرلے۔
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَوَخَّ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص اور کعب احبار سے اس شخص کے بارے میں جو شک کرے اپنی نماز میں تو نہ یاد رہے اس کو کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار پس جواب دیا دونوں نے کہ ایک رکعت اور پڑھ کردو سجدے سہو کے کرلے بیٹھے بیٹھے۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَکَعْبَ الْأَحْبَارِ عَنْ الَّذِي يَشُکُّ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی أَثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَکِلَاهُمَا قَالَ لِيُصَلِّ رَکْعَةً أُخْرَی ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب مصلی کو شک ہوجائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا نماز میں بھول جانے کا تو کہا سوچ لے جو بھول گیا ہے پھر پڑھ لے اس کو۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ النِّسْيَانِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لِيَتَوَخَّ أَحَدُکُمْ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز پڑھ کر یا دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے اسکا بیان
عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتیں پڑھا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور نہ بیٹھے تب لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے پس جب تمام کیا نماز کو اور انتظار کیا ہم نے سلام کا تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے دو سجدے کئے بیٹھے بیٹھے قبل سلام کے پھر سلام پھیرا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ کَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز پڑھ کر یا دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے اسکا بیان
عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی پھر کھڑے ہوگئے دو رکعتیں پڑھ کر اور نہ بیٹھے تو جب پورا کرچکے نماز کو دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا بعد اس کے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي اثْنَتَيْنِ وَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِمَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
مرجانہ سے روایت ہے کہ عائشہ نے فرمایا کہ ابوجہم بن حذیفہ نے تحفہ بھیجی ایک چادر شام کی رسول اللہ ﷺ کے واسطے جس میں نقش تھے تو نماز کو آئے آپ ﷺ اس کو اوڑھ کر پھر جب فارغ ہوئے نماز سے فرمایا کہ پھیر دے یہ چادر ابوجہم کو کیونکہ میں نے دیکھا اس کے بیل بوٹوں کو نماز میں پس قریب تھا کہ غافل ہوجاؤں میں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهْدَی أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رُدِّي هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَی أبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَکَادَ يَفْتِنُنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر شام کی بنی ہوئی نقشی بھیجی پھر وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ایک چادر موٹی سادی لے لی تو ابوجہم نے کہا کیوں ایسا یا رسول اللہ ﷺ ؟ فرمایا میں نے نماز میں اس کو نقش ونگار کی طرف دیکھا۔
حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَمِيصَةً لَهَا عَلَمٌ ثُمَّ أَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ مِنْ أَبِي جَهْمٍ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِمَ فَقَالَ إِنِّي نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصاری نماز پڑھ رہے تھے باغ میں تو ایک چڑیا اڑی اور ڈھونڈے لگی راہ نکلنے کی کیونکہ باغ اس قدر گنجان تھا اور پیڑ آپس میں ملے ہوئے تھے کہ چڑیا کو جگہ نکلنے کی نہ ملتی تھی پس پسند آیا ان کو یہ امر اور خوش ہوئے اپنے باغ کا یہ حال دیکھ کر تو ایک گھڑی تک اس طرف دیکھتے رہے پھر خیال آیا نماز کا سو بھول گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں تب کہا مجھے آزمایا اللہ جل جلالہ نے اس مال سے تو آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور بیان کیا جو کچھ باغ میں قصہ ہوا تھا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ صدقہ ہے واسطے اللہ کے اور صرف کریں اس کو جہاں آپ ﷺ چاہیں۔
حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطِهِ فَطَارَ دُبْسِيٌّ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِکَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنْ الْفِتْنَةِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ صَدَقَةٌ لِلَّهِ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار میں سے نماز پڑھ رہا تھا اپنے باغ میں اور وہ باغ قف میں تھا جو نام ہے ایک وادی کا جو مدینہ کی وادیوں میں سے ہے ایسے موسم میں کہ کھجور پک کر لٹک رہی تھی گویا پھلوں کے طوق شاکوں کے گلوں میں پڑے تھے تو اس نے نماز میں اس طرف دیکھا اور نہایت پسند کیا پھلوں کو پھر جب خیال کیا نماز کا تو بھول گیا کتنی رکعتیں پڑھیں تو کہا کہ مجھے اس مال میں آزمائش ہوئی اللہ جل جلالہ کی پس آیا حضرت عثمان کے پاس اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے رسول اللہ ﷺ کے اور بیان کیا ان سے یہ قصہ پھر کہا کہ وہ صدقہ ہے تو صرف کرو اس کو نیک راہوں میں پس بیچا اس کو حضرت عثمان نے پچاس ہزار کا اور اس مال کا نام ہوگیا پچاس ہزارہ۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ بِالْقُفِّ وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ الثَّمَرِ وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ فَهِيَ مُطَوَّقَةٌ بِثَمَرِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَأَعْجَبَهُ مَا رَأَی مِنْ ثَمَرِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَذَکَرَ لَهُ ذَلِکَ وَقَالَ هُوَ صَدَقَةٌ فَاجْعَلْهُ فِي سُبُلِ الْخَيْرِ فَبَاعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِينَ أَلْفًا فَسُمِّيَ ذَلِکَ الْمَالُ الْخَمْسِينَ
tahqiq

তাহকীক: