আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭৩ টি
হাদীস নং: ১৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع کرنے کا بیان
نافع سے روایت ہے عبداللہ بن عمر جب شروع کرتے نماز کو اٹھاتے دونوں ہاتھوں کو برابر دونوں مونڈھوں کے اور جب سر اٹھاتے رکوع سے اٹھاتے دونوں ہاتھ ذرا کم اس سے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْکِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع کرنے کا بیان
وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری سکھاتے تھے ان کو تکبیر نماز میں تو حکم کرتے تھے کہ تکیبر کہیں ہم جب جھکیں ہم اور اٹھیں ہم۔
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ کَانَ يُعَلِّمُهُمْ التَّکْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَکَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُکَبِّرَ کُلَّمَا خَفَضْنَا وَرَفَعْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع کرنے کا بیان
ابن شہاب کہتے تھے جب پا لیا کسی شخص نے رکوع اور تکبیر کہہ لی تو یہ تکبیر کافی ہوجائے کی تکبیر تحریمہ سے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِذَا أَدْرَکَ الرَّجُلُ الرَّکْعَةَ فَکَبَّرَ تَکْبِيرَةً وَاحِدَةً أَجْزَأَتْ عَنْهُ تِلْکَ التَّکْبِيرَةُ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ إِذَا نَوَی بِتِلْکَ التَّکْبِيرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان
جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ سنا انہوں نے رسول اللہ ﷺ نے پڑھا سورت طور کو مغرب کی نماز میں
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان
ام فضل نے عبداللہ بن عباس کو سورت المرسلات عرفا پڑھتے سنا تو کہا اے بیٹے میرے ! یاد دلا دیا تو نے یہ سورت پڑھ کر اخیر جو سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سورت کو پڑھا تھا آپ ﷺ نے مغرب میں
عَنْ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَقَالَتْ لَهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ ذَکَّرْتَنِي بِقِرَائَتِکَ هَذِهِ السُّورَةَ إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان
ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ میں آیا مدینہ میں جب ابوبکر خلیفہ تھے تو پڑھی میں نے پیچھے ان کے مغرب کی نماز تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہوگیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو سنا میں نے پڑی انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو ربنا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) 3 ۔ ال عمران : 8) ۔
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَصَلَّيْتُ وَرَائَهُ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّالِثَةِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّی إِنَّ ثِيَابِي لَتَکَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب اکیلے نماز پڑھتے تھے تو چاروں رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی دو دو تین سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے فرض کی نماز میں اور مغرب کی نماز میں دو رکعتوں میں فاتحہ اور سورت پڑھتے تھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا صَلَّی وَحْدَهُ يَقْرَأُ فِي الْأَرْبَعِ جَمِيعًا فِي کُلِّ رَکْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ وَکَانَ يَقْرَأُ أَحْيَانًا بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الرَّکْعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنْ صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ وَيَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ مِنْ الْمَغْرِبِ کَذَلِکَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان
برا بن عازب سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی ساتھ رسول اللہ ﷺ کے عشاء کی تو پڑھی آپ ﷺ نے اس میں والتین والزیتوں۔
عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَائَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کلام پڑھنے کا طریقہ۔
حضرت علی سے روایت ہے کہ منع کیا حضرت نے ریشمی کپڑا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور قرآن کو رکوع میں پڑھنے سے۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّکُوعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کلام پڑھنے کا طریقہ۔
فروہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آئے لوگوں کے پاس اور وہ نماز پڑھ رہے تھے آوازیں ان کی بلند تھیں کلام اللہ پڑھنے سے تو فرمایا آپ ﷺ نے نمازی کانا پھوسی کرتا ہے اپنے پروردگار سے تو چاہئے کہ سمجھ کر کانا پھوسی کرے اور نہ پکارے ایک تم میں دوسرے پر قرآن میں۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ عَنْ الْبَيَاضِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَائَةِ فَقَالَ إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ بِهِ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کلام پڑھنے کا طریقہ۔
انس بن مالک نے کہا نماز کو کھڑا ہوا میں پیچھے ابوبکر اور عمر اور عثمان کے جب نماز شروع کرتے تو کوئی ان میں سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھتا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ قُمْتُ وَرَائَ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّهُمْ کَانَ لَا يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کلام پڑھنے کا طریقہ۔
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ ہم سنتے تھے قرأت عمر بن خطاب کی اور وہ ہوتے تھے نزدیک دار ابی جہم کے اور ہم ہوتے تھے بلاط میں
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا نَسْمَعُ قِرَائَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عِنْدَ دَارِ أَبِي جَهْمٍ بِالْبَلَاطِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کلام پڑھنے کا طریقہ۔
نافع سے روایت ہے عبداللہ بن عمر جب فوت ہوجاتی کچھ نماز ان کی ساتھ امام کے جس میں پکار کر قرأت کی ہوتی تو جب سلام پھیرتا امام، اٹھتے عبداللہ بن عمر اور پڑھتے جو رہ گئی تھی نماز میں پکار کر۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا فَاتَهُ شَيْئٌ مِنْ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَائَةِ أَنَّهُ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَرَأَ لِنَفْسِهِ فِيمَا يَقْضِي وَجَهَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کلام پڑھنے کا طریقہ۔
یزید بن رومان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھتا تھا نافع کے ایک جانب تو اشارہ کردیتے تھے مجھ کو واپس بتادیتا تھا میں ان کو جہاں وہ بھول جاتے تھے اور ہم نماز میں ہوتے تھے۔
عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَؤُصَلِّ إِلَی جَانِبِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَيَغْمِزُنِي فَأَفْتَحُ عَلَيْهِ وَنَحْنُ نُصَلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے نماز پڑھائی صبح کی تو پڑھی اس میں سورت بقرہ دو رکعتوں میں
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ صَلَّی الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ کِلْتَيْهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
عروہ بن زبیر نے سنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے کہتے تھے نماز پڑھی ہم نے پیچھے عمر بن خطاب کے صبح کی تو پڑھی انہوں نے سورت یوسف اور سورت حج ٹھہر ٹھہر کر عروہ نے کہا قسم اللہ کی پس اس وقت کھڑے ہوتے ہوں گے نماز کو جب نکلتی ہے صبح صادق کہا عبداللہ نے ہاں
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَقُولُ صَلَّيْنَا وَرَائَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِسُورَةِ يُوسُفَ وَسُورَةِ الْحَجِّ قِرَائَةً بَطِيئَةً فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِذًا لَقَدْ کَانَ يَقُومُ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ قَالَ أَجَلْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ فرافصہ بن عمیر حنفی نے کہا کہ میں نے سورت یوسف یاد کرلی حضرت عثمان کے پڑھنے سے آپ صبح کی نماز میں اس کو بہت پڑھا کرتے تھے۔
عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ الْفُرَافِصَةَ بْنَ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيَّ قَالَ مَا أَخَذْتُ سُورَةَ يُوسُفَ إِلَّا مِنْ قِرَائَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ إِيَّاهَا فِي الصُّبْحِ مِنْ کَثْرَةِ مَا کَانَ يُرَدِّدُهَا لَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سفر میں مفصل کے پہلی دس سورتوں میں سے ہر ایک رکعت میں سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھا کرتے تھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ فِي السَّفَرِ بِالْعَشْرِ السُّوَرِ الْأُوَلِ مِنْ الْمُفَصَّلِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضلیت کا بیان
ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا ابی بن کعب کو اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو جب نماز سے فارغ ہوئے مل گئے آپ ﷺ سے پس رکھا رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ اپنا ابی کے ہاتھ پر اور وہ نکلنا چاہتے تھے مسجد کے دروازے سے سو فرمایا آپ ﷺ نے میں چاہتا ہوں کہ نہ نکلے تو مسجد کے دروازے سے یہاں تک کہ سیکھ لے ایک سورت ایسی کہ نہیں اتری تورات اور انجیل اور قرآن میں مثل اس کے کہا ابی نے پس ٹھہر ٹھہر کر چلنے لگا میں اسی امید میں پھر کہا میں نے اے اللہ کے رسول وہ سورت جس کا آپ ﷺ نے وعدہ کیا تھا بتلائیے مجھ کو فرمایا آپ ﷺ نے کیونکر پڑھتا ہے تو جب شروع کرتا ہے نماز کو کہا ابی نے تو میں پڑھنے لگا الحمد للہ رب العالمین یہاں تک کہ ختم کیا میں نے سورت کو پس فرمایا رسول اللہ ﷺ نے وہ یہی سورت ہے اور یہ سورت سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا۔
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَی أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ لَحِقَهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی يَدِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ حَتَّی تَعْلَمَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلَهَا قَالَ أُبَيٌّ فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ رَجَائَ ذَلِکَ ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةَ الَّتِي وَعَدْتَنِي قَالَ کَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ قَالَ فَقَرَأْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّی أَتَيْتُ عَلَی آخِرِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضلیت کا بیان
ابی نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا جابر بن عبداللہ انصاری سے کہتے تھے جس شخص نے ایک رکعت پڑھی اور اس میں سورت فاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز نہ پڑھی مگر جب امام کے پیچھے ہو
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَنْ صَلَّی رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَائَ الْإِمَامِ
তাহকীক: