আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭৩ টি
হাদীস নং: ১৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا نبی ﷺ نے جس شخص نے پڑھی نماز اور نہ پڑھی اس میں سورت فاتحہ تو نماز اس کی ناقص ہے ناقص ہے ہرگز تمام نہیں ہے ابوالسائب نے کہا اے ابوہریرہ (رض) کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو دبا دیا ابوہریرہ (رض) نے میرا بازو اور کہا پڑھ لے اپنے دل میں اے فارس کے رہنے والے کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بٹ گئی نماز میرے اور میرے بندے کے بیچ میں آدھوں آدھ آدھی میری اور آدھی اس کی اور جو بندہ میرا مانگے اس کو دوں گا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے پڑھو بندہ کہتا ہے کہ سب تعریف اللہ کو ہے جو صاحب ہے سارے جہاں کا پروردگار کہتا ہے میری تعریف کی میرے بندے نے بندہ کہتا ہے بڑی رحمت کرنے والا مہربان پروردگار کہتا ہے خوبی بیان کی میرے بندے نے بندہ کہتا ہے کہ وہ مالک بدلے کے دن کا پروردگار کہتا ہے بڑائی کی میری میرے بندے نے بندہ کہتا ہے خاص تجھ کو پوجتے ہیں ہم اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں ہم تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے بیچ میں ہے بندہ کہتا ہے دکھا ہم کو سیدھی راہ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے اپنا کرم کیا نہ دشمنوں کی اور گمراہوں کی تو یہ آیتیں بندہ کے لئے ہیں اور میر ابندہ جو مانگے سو دوں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّی صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَکُونُ وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ فَغَمَزَ ذِرَاعِي ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِکَ يَا فَارِسِيُّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَئُوا يَقُولُ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی حَمِدَنِي عَبْدِي وَيَقُولُ الْعَبْدُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللَّهُ أَثْنَی عَلَيَّ عَبْدِي وَيَقُولُ الْعَبْدُ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللَّهُ مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَهَؤُلَائِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
عروہ بن زبیر سورت فاتحہ پڑھتے تھے امام کے پیچھے سری نماز میں
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَائَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
نافع بن جبیر امام کے پیچھے سری نماز میں سورت فاتحہ پڑھتے تھے۔
عَنْ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ کَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَائَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ جہری نماز میں امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب کوئی پوچھتا کہ سورت فاتحہ پڑھی جائے امام کے پیچھے تو جواب دیتے کہ جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے امام کے پیچھے تو کافی ہے اس کو قرأت امام کی اور جو اکیلے پڑھے تو پڑھ لے کہا نافع نے اور تھے عبداللہ بن عمر نہیں پڑھتے تھے پیچھے امام کے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ فَحَسْبُهُ قِرَائَةُ الْإِمَامِ وَإِذَا صَلَّی وَحْدَهُ فَلْيَقْرَأْ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ جہری نماز میں امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے ایک نماز جہری سے پھر فرمایا کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ کلام اللہ پڑھا تھا ایک شخص بول اٹھا کہ ہاں میں نے یا رسول اللہ ﷺ فرمایا آپ ﷺ نے جب ہی میں کہتا تھا اپنے دل میں کیا ہوا ہے مجھ کو چھینا جاتا ہے مجھ سے کلام اللہ کہا ابن شہاب یا ابوہریرہ (رض) نے تب لوگوں نے موقوف کیا قرأت کو حضرت کے پیچھے نماز جہری میں جب سے یہ حدیث سنی آپ ﷺ سے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَائَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْکُمْ أَحَدٌ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَانْتَهَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَائَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَائَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام کہے آمین تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین مل جائے گی ملائکہ کی آمین سے بخش دئیے جائیں گے اگلے گناہ اس کے کہا ابن شہاب نے اور رسول اللہ ﷺ آمین کہتے تھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس کا آمین کہنا برابر ہوجائے گا ملائکہ کے کہنے کے بخش دئیے جائیں گے اگلے گناہ اس کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
ابویرہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے فرشتے بھی آسمان میں آمین کہتے ہیں پس اگر برابر ہوجائے ایک آمین دوسری آمین سے تو بخش دئیے جاتے ہیں اگلے گناہ اس کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ أَحَدُکُمْ آمِينَ وَقَالَتْ الْمَلَائِکَةُ فِي السَّمَائِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فریاما رسول اللہ ﷺ نے جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو کیونکہ جس کا کہنا ملائکہ کے کہنے کے برابر ہوجائے گا اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بیٹھنے کا بیان
علی بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھ کو عبداللہ بن عمر نے نماز میں کنکریوں سے کھیلتا ہوا دیکھا تو جب فارغ ہوا میں نماز سے منع کیا مجھ کو اور کہا کہ کیا کر جیسے کرتے تھے رسول اللہ ﷺ میں نے کہا کیسے کرتے تھے کہا جب بیٹھتے تھے آپ ﷺ نماز میں تو داہنی ہتھیلی کو داہنی ران پر رکھتے تو سب انگلیوں کو بند کرلیتے اور کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی کو ران پر رکھتے اور کہا کہ اس طرح کرتے تھے آپ ﷺ ۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ أَنَّهُ قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصْبَائِ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفْتُ نَهَانِي وَقَالَ اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فَقُلْتُ وَکَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَالَ کَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ کَفَّهُ الْيُمْنَی عَلَی فَخِذِهِ الْيُمْنَی وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ کُلَّهَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ کَفَّهُ الْيُسْرَی عَلَی فَخِذِهِ الْيُسْرَی وَقَالَ هَکَذَا کَانَ يَفْعَلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بیٹھنے کا بیان
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے پہلو میں نماز پڑھی ایک شخص نے تو جب وہ بیٹھا بعد چار رکعت کے چار زانو بیٹھا اور لپیٹ لئے دونوں پاؤں اپنے تو جب فارغ ہوئے عبداللہ بن عمر نماز سے عیب کہا اس بات کو تو اس شخص نے جواب دیا آپ کیوں ایسا کرتے ہیں کہا میں تو بیمار ہوں ،۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَصَلَّی إِلَی جَنْبِهِ رَجُلٌ فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ فِي أَرْبَعٍ تَرَبَّعَ وَثَنَی رِجْلَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ عَبْدُ اللَّهِ عَابَ ذَلِکَ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ فَإِنَّکَ تَفْعَلُ ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَإِنِّي أَشْتَکِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بیٹھنے کا بیان
مغیرہ بن سکیم سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کہ بیٹھے تھے درمیان دونوں سجدوں کے دونوں پاؤں کی انگلیوں پر اور پھر سجدہ میں چلے جاتے تھے تو جب فارغ ہوئے نماز سے ذکر ہوا اس کا پس کہا عبداللہ نے کہ اس طرح بیٹھنا نماز میں درست نہیں ہے لیکن میں بیماری کی وجہ سے اس طرح بیٹھتا ہوں ،۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَکِيمٍ أَنَّهُ رَأَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَرْجِعُ فِي سَجْدَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَکَرَ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ سُنَّةَ الصَّلَاةِ وَإِنَّمَا أَفْعَلُ هَذَا مِنْ أَجْلِ أَنِّي أَشْتَکِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بیٹھنے کا بیان
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو چار زانوں بیٹھتے ہوئے نماز میں تو وہ بھی چار زانو بیٹھے اور کمسن تھے ان دنوں میں پس منع کیا ان کو عبداللہ نے اور کہا کہ سنت نماز میں یہ ہے کہ داہنے پاؤں کا کھڑا کرے اور بائیں پاؤں کو لٹا دے کہا عبداللہ نے کہ میں نے ان سے کہا تم چار زانو بیٹھتے ہو جواب دیا عبداللہ نے کہ میرے پاؤں میرا بوجھ اٹھا نہیں سکتے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ يَرَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ قَالَ فَفَعَلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَکَ الْيُمْنَی وَتَثْنِيَ رِجْلَکَ الْيُسْرَی فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّکَ تَفْعَلُ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بیٹھنے کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے سکھایا لوگوں کو بیٹھنا تشہد میں تو کھڑا کیا داہنے پاؤں کو اور جھکایا بائیں پاؤں کو اور بیٹھے بائیں سرین پر اور نہ بیٹھے بائیں پاؤں پر کہا قاسم نے کہ بتایا مجھ کو اس طرح بیٹھنا عبیداللہ نے اور کہا کہ میرے باپ عبداللہ بن عمر اسی طرح کرتے تھے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَرَاهُمْ الْجُلُوسَ فِي التَّشَهُّدِ فَنَصَبَ رِجْلَهُ الْيُمْنَی وَثَنَی رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَجَلَسَ عَلَی وَرِکِهِ الْأَيْسَرِ وَلَمْ يَجْلِسْ عَلَی قَدَمِهِ ثُمَّ قَالَ أَرَانِي هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَحَدَّثَنِي أَنَّ أَبَاهُ کَانَ يَفْعَلُ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
عبدالرحمن بن عبدالقاری نے سنا عمر بن خطاب سے اور وہ منبر پر تھے سکھاتے تھے لوگوں کو تشہد کہتے تھے کہو التحیات للہ الزاکیات لللہ الطیبات الصلوت لللہ الخ۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُّدَ يَقُولُ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الزَّاکِيَاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تشہد پڑھتے تھے اس طرح بسم اللہ التحیات لللہ کہتے تھے یہ پہلی دو رکعتوں کے بعد مانگتے تھے بعد تشہد کے جو کچھ جی چاہتا تھا پھر جب اخیر قعدہ کرتے اور اسی طرح پڑھتے مگر پہلے تشہد پڑھتے پھر دعا مانگتے جو چاہتے اور بعد تشہد کے جب سلام پھیرنے لگتے تو کہتے السلام علی البنی و (رح) وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد الصالحین السلام علیکم داہنی طرف کہتے پھر امام کے سلام کا جواب دیتے پھر اگر کوئی بائیں طرف والا ان کو سلام کرتا تو اس کو بھی جواب دیتے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَتَشَهَّدُ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ الزَّاکِيَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَی النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ شَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ شَهِدْتُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يَقُولُ هَذَا فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَيَدْعُو إِذَا قَضَی تَشَهُّدَهُ بِمَا بَدَا لَهُ فَإِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ تَشَهَّدَ کَذَلِکَ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ يُقَدِّمُ التَّشَهُّدَ ثُمَّ يَدْعُو بِمَا بَدَا لَهُ فَإِذَا قَضَی تَشَهُّدَهُ وَأَرَادَ أَنْ يُسَلِّمَ قَالَ السَّلَامُ عَلَی النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ يَرُدُّ عَلَی الْإِمَامِ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ أَحَدٌ عَنْ يَسَارِهِ رَدَّ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
حضرت بی بی عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ کہتیں تشہد میں التحیات الطیبات الصلوت الزکیات۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تَقُولُ إِذَا تَشَهَّدَتْ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِيَاتُ لِلَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
امام مالک نے ابن شہاب زہری اور نافع مولیٰ ابن عمر سے پوچھا کہ ایک شخص امام کے ساتھ آکر شریک ہوا جب ایک رکعت ہوچکی تھی اب وہ امام کے ساتھ تشہد پڑھے قعدہ اولی اور قعدہ اخیر میں یا نہ پڑھے کیونکہ اس کی تو ایک رکعت ہوئی قعدہ اولی میں اور تین رکعتیں ہوئیں قعدہ اخیرہ میں تو جواب دیا دونوں نے کہ ہاں تشہد پڑھے امام کے ساتھ امام مالک نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ وَنَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ مَعَ الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ وَقَدْ سَبَقَهُ الْإِمَامُ بِرَکْعَةٍ أَيَتَشَهَّدُ مَعَهُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ وَالْأَرْبَعِ وَإِنْ کَانَ ذَلِکَ لَهُ وِتْرًا فَقَالَا لِيَتَشَهَّدْ مَعَهُ قَالَ مَالِک وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص سر اٹھائے امام کے پیشتر رکوع یا سجدہ میں اس کا بیان
ابوہریرہ نے کہا کہ جو شخص سر اٹھاتا ہے یا جھکاتا ہے امام کے پیشتر تو اس کا ماتھا شیطان کے ہاتھ میں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الْإِمَامِ فَإِنَّمَا نَاصِيَتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اس کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیر دیا دو رکعتیں پڑھ کر تو کہا ذوالیدین نے کیا نماز گھٹ گئی یا آپ ﷺ بھول گئے۔ رسول آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں سے کیا سچ کہتا ہے ذوالیدین، کہا لوگوں نے ہاں سچ کہتا ہے پس کھڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ اور پڑھیں دو رکعتیں پھر سلام پھیر کر تکبیر کہی اور سجدہ کیا مثل سجدوں کے یا کچھ بڑا پھر سرا اٹھایا اور تکبیر کہی اور سجدہ کیا مثل سجدوں کے یا کچھ بڑا پھر سر اٹھایا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ
তাহকীক: