কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৮ টি
হাদীস নং: ৪৩০৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس وقت شکار کے جانور سے بدبو آنے لگ جائے؟
ابوثعلبہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی اپنا شکار تین دن کے بعد پائے تو اسے کھائے إلا کہ اس میں بدبو پیدا ہوگئی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصید ٢ (١٩٣١) ، سنن ابی داود/الصید ٤ (٢٨٦١) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٦٣) ، مسند احمد (٤/١٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4303
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَلْيَأْكُلْهُ، إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس وقت شکار کے جانور سے بدبو آنے لگ جائے؟
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، وہ شکار پکڑ لیتا ہے، لیکن مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جس سے ذبح کروں تو میں پتھر (چاقو نما سفید پتھر) سے یا (دھاردار) لکڑی سے اسے ذبح کرتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام لو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الضحایا ١٥ (٢٨٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٥ (٣١٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٧٥) ، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٨) ، ویأتي عند المؤلف فی الضحایا ١٩ (برقم : ٤٤٠٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4304
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ، وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأُذَكِّيهِ بِالْمَرْوَةِ وَالْعَصَا ؟، قَالَ: أَهْرِقِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ معراض کے شکار سے متعلق
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اس سے کھا سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم کتے دوڑاؤ یا چھوڑو، (یعنی سدھائے ہوئے) اور اللہ کا نام لے لو اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ لائیں تو تم کھاؤ۔ میں نے عرض کیا : اور اگر وہ اسے مار ڈالیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں جب تک کہ اس میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان کتوں میں سے نہیں تھا ۔ میں نے عرض کیا : میں معراض (بےپر کے تیر) سے شکار کرتا ہوں اور مجھے شکار مل جاتا ہے تو کیا میں کھاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم معراض (بغیر پر والا تیر) پھینکو اور بسم اللہ پڑھ لو اور وہ (شکار کو) چھید ڈالے تو کھاؤ اور اگر وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٧٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شکار کو چھید ڈالنے کی صورت میں اس سے خون بہے گا جو ذبح کا اصل مقصود ہے، اور آڑا لگنے کی صورت میں صرف چوٹ لگے گی اور خون بہے بغیر شکار مرجائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4305
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ، فَتُمْسِكُ عَلَيَّ فَآكُلُ مِنْهُ ؟، قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ يَعْنِي الْمُعَلَّمَةَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ ؟، قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا، قُلْتُ: وَإِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ فَآكُلُ ؟، قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، وَسَمَّيْتَ فَخَزَقَ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس جانور پر آڑا معراض پڑے
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب (شکار میں) معراض کی نوک لگے تو اسے کھاؤ اور جب آڑا معراض پڑے اور وہ (شکار) مرجائے تو وہ موقوذہ ١ ؎ ہے، اسے مت کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٧٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: موقوذہ: چوٹ کھایا ہوا جانور، اس کا کھانا حرام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4306
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِالشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقُتِلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ معراض کے نوک سے جو شکار مارا جائے اس سے متعلق حدیث
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے پوچھا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : جب (شکار میں) معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٨٥٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4307
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّرَّاعُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحْصَنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ معراض کے نوک سے جو شکار مارا جائے اس سے متعلق حدیث
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب اس (شکار) میں معراض کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ کیونکہ وہ موقوذہ (چوٹ کھایا ہوا شکار) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4308
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَغَيْرُهُ عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ؟، فَقَالَ: مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کے پیچھے جانا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو باديہ (دیہات) میں رہے گا وہ سخت مزاج ہوگا، اور جو شکار کا پیچھا کرے گا وہ (اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے) غافل ہوجائے گا، اور جو بادشاہ کا چکر لگائے گا وہ فتنے اور آزمائش میں پڑجائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصید ٤ (٢٨٥٩) ، سنن الترمذی/الفتن ٦٩ (٢٢٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٣٩) مسند احمد (١/٣٥٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4309
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنِ اتَّبَعَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ. وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ خرگوش سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا، اس نے اسے بھون رکھا تھا، اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ رکے رہے اور خود نہیں کھایا اور لوگوں کو کھانے کا حکم دیا۔ اعرابی بھی رک گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : تمہیں کھانے سے کیا چیز مانع ہے ؟ وہ بولا : میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اگر تمہیں روزے رکھنے ہیں تو چاندنی راتوں (تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں) میں رکھا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٢٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالملک “ مدلس اور مختلط ہیں، موسیٰ بن طلحہ سے صحیح سند ” عن أبی ذر “ ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4310
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ، قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ الْغُرَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ خرگوش سے متعلق
عمر (رض) کہتے ہیں کہ قاحہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کے دن ہمارے ساتھ کون تھا ؟ ابوذر (رض) بولے : میں، (اس دن) نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا گیا تو جو لے کر آیا اس نے کہا : میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے نہیں کھایا پھر فرمایا : تم لوگ کھاؤ، ایک شخص نے کہا : روزہ دار ہوں، آپ نے فرمایا : تمہارا یہ کون سا روزہ ہے ؟ اس نے کہا : ہر ماہ تین دن والا، آپ ﷺ نے فرمایا : تو تم ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں راتوں کے روزے کیوں نہیں رکھتے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٢٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4311
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَنَا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَدْمَى، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ، ، ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ: كُلُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: وَمَا صَوْمُكَ ؟، قَالَ: مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، قَالَ: فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ ؟ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ خرگوش سے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ مرالظہران میں میں نے ایک خرگوش کو چھیڑا اور اسے پکڑ لیا، میں اسے لے کر ابوطلحہ (رض) کے پاس آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر مجھے اس کی دونوں رانیں اور پٹھے دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا، تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٥ (٢٥٧٢) ، الصید ١٠ (٥٤٨٩) ، ٣٢ (٥٥٣٥) ، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٢٧ (٣٧٩١) ، سنن الترمذی/الأطعمة ٢ (١٧٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٩) ، مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١، ١٩١) ، سنن الدارمی/الصید ٧ ٩٢٠٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مرالظہران مکے سے کچھ دور ایک مقام کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4312
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَنِي بِفَخِذَيْهَا وَوَرِكَيْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ خرگوش سے متعلق
ابن صفوان (رض) کہتے ہیں کہ مجھے دو خرگوش ملے، انہیں ذبح کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو میں نے انہیں سفید پتھر سے ذبح کردیا ١ ؎، پھر نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے انہیں کھانے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الضحایا ١٥ (٢٨٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٢٤) ، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٧) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٤٠٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ سفید پتھر نوک دار تھا، کسی بھی دھاردار یا نوکدار چیز سے جس سے خون بہہ جائے، ذبح کردینے سے جانور کا ذبح کرنا شرع کے مطابق صحیح ہوگا اور اس کا کھانا حلال ہوگا، ذبح کا اصل مقصود اللہ کا نام لینا اور خون بہنا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4313
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، وَدَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: أَصَبْتُ أَرْنَبَيْنِ فَلَمْ أَجِدْ مَا أُذَكِّيهِمَا بِهِ، فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ،فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے تو ضب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأطعمة ٣ (١٧٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٤٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصید ٣٣ (٥٥٣٦) ، صحیح مسلم/الصید ٧ (١٩٤٣) ، موطا امام مالک/الاستئذان ٤ (١١) ، مسند احمد (٢/٩، ١٠، ٣٣، ٤١، ٤٦، ٦٠، ٦٢، ٧٤، ١١٥) ، سنن الدارمی/الصید ٨ (٢٠٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ضب : گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لیے یا طلاء کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ ﷺ کے دستر خوان پر یہ کھایا گیا اس لیے حلال ہے۔ جس جانور کو نبی اکرم ﷺ کے دستر خوان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہء زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے۔ نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے : ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈاز رعی اور پانی والے علاقوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے، کبھی طویل صبر کے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیر کا گوہ پانی کے کناروں پر پایا جاتا ہے، اور خوب پانی پیتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے، جلد شکار ہوجاتا ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ کا پکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ - ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے، جب کہ نجدی ضب (گوہ) ایسا نہیں کرتی۔ نجدی ضب (گوہ) کی کھال کو پکا کر عرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے، جس کو ضبة کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسا استعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے۔ ضب اور ورل میں کیا فرق ہے ؟ صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانور کو وَرَل کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے : ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانور ہے، جو ضب کی خلقت پر ہے، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے، بالو اور صحراء میں پایا جاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور ہے، جس کی دم لمبی اور سر چھوٹا ہوتا ہے، ازہری کہتے ہیں : وَرَل عمدہ قامت اور لمبی دم والا جانور ہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے، بسا اوقات اس کی دم دو ہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکار کرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے، دم کا رنگ سبز زردی مائل ہوتا ہے، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے، اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلا ہوجاتا ہے، اور یہ صرف ٹڈی، چھوٹے کیڑے اور سبز گھاس کھاتی ہے، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی، اور ورل بچھو، سانپ، گرگٹ اور گوبریلا سب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے، تریاق ہے، بہت تیز موٹا کرتا ہے، اسی لیے عورتیں اس کو استعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کو تیز کرتا ہے، اور اس کی چربی کی مالش سے عضو تناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو : تاج العروس : مادہ ورل، و لسان العرب) سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانور جس کو گوہ یا سانڈا کہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے، بایں ہمہ نجدی ضب (گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت و حرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیئے، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبو اٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غور کرنے کی ہے، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہوجائے تو اس کا کھانا منع ہے، اس کو اصطلاح میں جلالہ کہتے ہیں، تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہوگا، البتہ برصغیر کے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہوگا۔ ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوں لکھ کردی : نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے، اور ورل نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ورل کا شکار مشکل کام ہے، ضب گھاس کھاتا ہے، اور ورل گوشت کھاتا ہے، ضب چیر پھاڑ کرنے والا جانور نہیں ہے، جب کہ ورل چیر پھاڑ کرنے والا جانور ہے، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے، ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے، ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے، اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے، ضب کھُردرا اور کانٹے دار ہوتا ہے، اور ورل نرم ہوتا ہے، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور دم سے شکار بھی کرتا ہے، ضب گوشت بالکل نہیں کھاتا، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے، ضب تیز جانور ہے، اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجود ہے، وہ دانتوں سے کاٹتا ہے، اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کر اور ہاتھوں سے نوچ کر یا دم سے مار کرتا ہے، اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے، ضب میں کچلی دانت نہیں ہے، اور وَرل میں کچلی دانت ہے، ضب حلال ہے، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ زہریلا جانور ہے۔ صحرائے عرب کا ضب، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جانور کے بارے میں صحیح صورت حال سامنے آجائے، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بنا پر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایسا جانور ہے جس کو پانی سے پیار اور کیچڑ سے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہوجائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے، اگر بھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کر کے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہیئے، اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیئے اور عاملین حدیث کے نقطہٰ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہیئے۔ گوہ کی کئی قس میں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشتر کہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفید ہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔ حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں : نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے، دم سخت اور چھوٹی، قد بلی کے برابر ہوتا ہے، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے، رنگ زرد سیاہی مائل، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم … اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔ (کتاب المفردات : ٤٢٧ ) ، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے۔ گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں : مشہور جانور ہے، جو گرگٹ یا گلہری کی مانند لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے، مزاج گرم و تر بدرجہ اول، افعال و استعمال بطور مقوی جاذب رطوبت، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات : صفحہ ٢٧٥ ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4314
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ سُئِلَ عَنِ الضَّبِّ ؟، فَقَالَ: لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ضب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نہ اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ٧٢٤٠، ٨٣٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4315
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الضَّبِّ ؟، قَالَ: لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
خالد بن ولید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھنا ہوا ضب لایا گیا اور آپ کے قریب رکھا گیا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تاکہ اس سے کھائیں، تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ضب کا گوشت ہے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا، اس پر خالد بن ولید (رض) نے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول ! کیا ضب حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی زمین میں نہیں تھا، لہٰذا مجھے اس سے گھن آرہی ہے ، پھر خالد (رض) نے اپنا ہاتھ ضب کی طرف بڑھایا اور اس میں سے کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ١٠ (٥٣٩١) ، ١٤ (٥٤٠٠) ، الذبائح ٣٣ (٥٥٣٧) ، صحیح مسلم/الذبائح ٧ (١٩٤٦) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٢٨ (٣٧٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٦ (٣٢٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٠٤) ، موطا امام مالک/الإستئذان ٤ (١٠) ، مسند احمد (٤/٨٨، ٨٩) ، سنن الدارمی/الصید ٨ (٢٠٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4316
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ، قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ الضَّبُّ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید (رض) ١ ؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے (یہ ان کی خالہ تھیں) ٢ ؎، تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ وہ کیا ہے، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا : کیا تم رسول اللہ ﷺ کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے، چناچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا، خالد (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن آرہی ہے ۔ خالد بن ولید (رض) کہتے ہیں : تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس کے دونوں بیٹے عبداللہ اور فضل اور خالد بن الولید تین کی خالہ ہیں، عبداللہ بن عباس کی والدہ کا نام لبابۃ الکبری ام الفضل ہے، اور خالد کی والدہ کا نام لبابۃ الصغریٰ بنت حارث بن حزن الھلالی ہے، رضی اللہ عنھن۔ ٢ ؎: ام المؤمنین خالد بن ولید (رض) کی خالہ تھیں، ابن الاصم یہ یزید بن الاصم، عمرو بن عبید بن معاویہ ہیں اور یزید میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4317
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ ؟، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَتَرَكَهُ، قَالَ خَالِدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ. قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ، فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میری خالہ (ام حفید رضی اللہ عنہا) نے مجھے پنیر، گھی اور ضب دے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، آپ نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دی، لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر کھائی گئی ١ ؎ اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ ہی آپ اسے کھانے کا حکم فرماتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٧ (٢٥٧٥) ، الأطعمة ٨ (٥٧٨٩) ، ١٦ (٥٤٠٢) ، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٨) ، صحیح مسلم/الذبائح ٧ (١٩٤٥) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٢٨ (٣٧٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٤٨) ، مسند احمد (١/٢٥٤، ٣٢٢، ٣٢٨، ٣٤٠، ٢٤٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دوسروں نے ضب بھی کھایا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4318
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِطًا، وَسَمْنًا، وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ الْأَقِطِ، وَالسَّمْنِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ان سے ضب کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : ام حفید (ابن عباس (رض) کی خالہ) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس گھی پنیر اور ضب بھیجا تو آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دیا، لیکن اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ آپ اسے کھانے کا حکم دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4319
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ ؟، فَقَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا، وَأَقِطًا، وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ، وَالْأَقِطِ، وَتَرَكَ الضِّبَابَ تَقَذُّرًا لَهُنَّ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
ثابت بن یزید انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ ٹھہرے، لوگوں کو ضب ملی، میں نے ایک ضب پکڑی اور اسے بھونا، پھر اسے لے کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کی انگلیاں گنیں، پھر فرمایا : بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی شکل مسخ کر کے زمین کے کچھ جانوروں کی طرح بنادی گئی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے ١ ؎، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں نے اس میں سے کھالیا ہے، تو پھر نہ آپ نے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأطعمة ٢٨ (٣٧٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٦ (٣٢٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٦٩) ، مسند احمد (٤/٢٢٠) ، ویأتي فیما یلي : ٤٣٢٦، ٤٣٢٧ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: احتمال ہے کہ آپ کا یہ فرمان اس وقت کا ہو جب آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ مسخ کی ہوئی مخلوق تین دن سے زیادہ مدت تک باقی نہیں رہتی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4320
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ عُودًا يَعُدُّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكَلُوا مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَمَرَ بِأَكْلِهَا، وَلَا نَهَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
ثابت بن یزید بن ودیعہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ضب لایا۔ آپ اسے دیکھنے لگے اور اسے الٹا پلٹا اور فرمایا : ایک امت کی صورت مسخ کردی گئی تھی، نہ معلوم اس کا کیا ہوا، اور میں اس کا علم نہیں، شاید یہ اسی میں سے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4321
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُزَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيُقَلِّبُهُ، وَقَالَ: إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ گوہ سے متعلق حدیث
ثابت بن یزید بن ودیعہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ضب لایا، آپ نے فرمایا : ایک امت مسخ کردی گئی تھی ، واللہ اعلم۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ٤٢٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4322
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ ابْنِ وَدِيعَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক: