কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৮ টি
হাদীস নং: ৪২৮৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس مکان میں کتا موجود ہو وہاں پر فرشتوں کا داخل نہ ہو نا
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ ﷺ بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم ! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ، آپ اس دن اسی طرح (غمزدہ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے (پلے) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل (علیہ السلام) ملے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٥) ، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٨) ، مسند احمد (٦/٣٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4283
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمَ. فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي. قَالَ: فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ. قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ. قَالَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کے گلے کی حفاظت کی خاطر کتا پالنے کی اجازت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے اجر سے دو قیراط اجر کم ہوگا، سوائے شکاری یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ٦ (٥٤٨٠) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠(١٥٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٥٠) مسند احمد (٢/٤٧، ١٥٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4284
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ إِلَّا ضَارِيًا، أَوْ صَاحِبَ مَاشِيَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کے گلے کی حفاظت کی خاطر کتا پالنے کی اجازت
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی (رض) ہمارے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جس نے ایسا کتا پالا جو نہ کھیت کی حفاظت کرے اور نہ جانوروں کی تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا ، میں نے عرض کیا : سفیان ! کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم ! ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣) ، بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٥) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٧٦) ، موطا امام مالک/الإستئذان ٥ (١٣) ، مسند احمد (٥/٢١٩، ٢٢٠) ، سنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایک قیراط اور دو قیراط کا اختلاف شاید زمان و مکان کے اعتبار سے ہے، چناچہ ابتداء میں کتوں کے قتل کا حکم ہوا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ثواب میں سے دو قیراط کی کمی کی خبر دی گئی پھر اس میں تخفیف ہوئی اور ایک قیراط کی خبر دی گئی (واللہ اعلم) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4285
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ خُصَيْفَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَائِيُّ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ. قُلْتُ: يَا سُفْيَانُ، أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے شکار کرنے والے کتے یا جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٣١٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4286
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٣١) ، مسند احمد (٢/٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4287
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کھیت کی حفاظت کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے شکاری کتے، یا جانوروں یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر ایک قیراط کم ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٨٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4288
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ومحمد بن جعفر، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، أَوْ زَرْعٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کھیت کی حفاظت کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے شکاری کتے یا کھیتی اور جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو اس کے عمل (اجر) میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (البیوع ٣١) (١٥٧٥) سنن ابی داود/الصید ١(٢٨٤٤) ، سنن الترمذی/الصید ٤(١٤٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧١) ، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٤٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4289
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کھیت کی حفاظت کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی ایسے کتے کو پالا جو نہ تو شکاری ہو نہ جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو اور نہ ہی زمین (کھیتی) کی رکھوالی کے لیے، تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4290
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کھیت کی حفاظت کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے عمل (اجر) میں سے ایک قیراط کم ہوگا ، عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : ابوہریرہ (رض) نے یہ بھی کہا : یا کھیتی کا کتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٩٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4291
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کتے کی قیمت لینے کی ممانعت
ابومسعود عقبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎ زانیہ عورت کی کمائی ٢ ؎ اور کاہن کی اجرت ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧) ، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢) ، الطلاق ٥١(٥٣٤٦) ، الطب ٤٦ (٥٧٦١) ، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠) (١٥٦٧) ، سنن ابی داود/البیوع ٤١(٣٤٢٨) ، ٦٥(٣٤٨١) ، سنن الترمذی/النکاح ٣٧ (١١٣٣) ، البیوع ٤٦ (١٢٧٦) ، الطب ٢٣ (٢٠٧١) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩(٢١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠١٠) ، موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨) ، مسند احمد ١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠) ، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩١ (برقم ٤٦٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کتا نجس و ناپاک جانور ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے جس میں پہلی مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خریدو فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائیداد اور جانوروں کی رکھوالی کے لیے ہو۔ مگر ایسے کتوں کی بھی تجارت ناپسندیدہ ہے، اور جس حدیث میں اس کی رخصت کی بات آئی ہے اس کی صحت میں سخت اختلاف ہے، (جیسے حدیث نمبر ٤٣٠٠ ) ٢ ؎ چونکہ زنا بڑے گناہوں اور فحش کاموں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب رب العالمین کے لیے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا بڑا گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل طریقے سے لوگوں سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4292
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کتے کی قیمت لینے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کتے کی قیمت حلال نہیں، نہ ہی کاہن کی اجرت، اور نہ ہی زانیہ عورت کی کمائی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٦٥ (٣٤٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4293
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ، وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کتے کی قیمت لینے کی ممانعت
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بری کمائی زانیہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت، اور پچھنا لگانے کی اجرت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠) (١٥٦٨) ، سنن ابی داود/البیوع ٣٩ (٣٤٢١) ، سنن الترمذی/البیوع ٤٦ (١٢٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٥٥) ، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥ و ٤/١٤١) ، سنن الدارمی/البیوع ٧٨ (٢٦٦٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کسب الحجام کے سلسلہ میں شرالکسب کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے محیصہ (رض) کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ ﷺ نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق شر کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ثوم و بصل (لہسن، پیاز) کو خبیث کہا جب کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ یہ پیشہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4294
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَرُّ الْكَسْبِ مَهْرُ الْبَغِيِّ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکاری کتے کی قیمت لینا جائز ہے اس سے متعلق حدیث رسول ﷺ
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی ١ ؎ اور کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا، سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : حماد بن سلمہ سے حجاج (حجاج بن محمد) نے جو حدیث روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٦٩٧) ، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩٠ (برقم : ٤٦٧٢) (صحیح) ” إلا کلب صید “ کا جملہ امام نسائی کے یہاں صحیح نہیں ہے، لیکن البانی صاحب نے طرق اور شواہد کی روشنی میں اس کو بھی صحیح قرار دیا ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٢٩٧١، ٢٩٩٠، وتراجع الالبانی ٢٢٦ ) وضاحت : ١ ؎: چونکہ بلی سے کوئی ایسا فائدہ جو مقصود ہو حاصل ہونے والا نہیں اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے اور یہی اس کے حرام ہونے کی علت اور اس کا سبب ہے۔ ٢ ؎: اس کے راوی ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یہ لفظ مسلم کی روایت میں ہے بھی نہیں ہے، انہیں اسباب و وجوہ سے بہت سے ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئیے فتح الباری ( ٤/٤٢٧ ) اور التعلیقات السلفیہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4295
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ، وَالْكَلْبِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، لَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکاری کتے کی قیمت لینا جائز ہے اس سے متعلق حدیث رسول ﷺ
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ شکاری کتے ہیں، آپ نے فرمایا : تمہارے لیے تمہارے کتے جو پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ۔ میں نے عرض کیا : اگرچہ وہ اسے قتل کر ڈالیں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ قتل کر ڈالیں ، اس نے کہا : (میں اپنے تیر کمان سے فائدہ اٹھاتا ہوں لہٰذا) مجھے تیر کمان کے سلسلے میں بتائیے، آپ نے فرمایا : جو شکار تمہیں تیر سے ملے تو اسے کھاؤ، اس نے کہا : اگر وہ (شکار تیر کھا کر) غائب ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ وہ غائب ہوجائے، جب تک کہ تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی چیز کا نشان نہ پاؤ یا اس میں بدبو نہ پیدا ہوئی ہو ١ ؎۔ ابن سواء کہتے ہیں : میں نے اسے ابو مالک عبیداللہ بن اخنس سے سنا ہے وہ اسے بسند عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) عن النبی کریم ﷺ روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٥٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصید ٢(٢٨٥٧) ، مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے مؤلف نے باب پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ جب شکار کے لیے کتے استعمال کرنے کی رخصت ہے تو بھر اس کی خریدو فروخت کی بھی رخصت ہے، لیکن جمہور اس استدلال کے خلاف ہیں، پچھلی احادیث میں صراحت ہے کہ کتے کی قیمت لینی دینی حرام ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4296
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَال: حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِيهَا ؟، قَالَ: مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كِلَابُكَ فَكُلْ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ ؟، قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: أَفْتِنِي فِي قَوْسِي ؟، قَالَ: مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَكُلْ، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيَّ ؟، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَهْمٍ غَيْرَ سَهْمِكَ، أَوْ تَجِدْهُ قَدْ صَلَّ يَعْنِي قَدْ أَنْتَنَ. قَالَ ابْنُ سَوَاءٍ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر پالتو جانور وحشی ہوجائے؟
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ اسی دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تہامہ کے ذی الحلیفہ میں تھے تو لوگوں کو کچھ اونٹ ملے اور کچھ بکریاں (بطور مال غنیمت) اور رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں کے پیچھے تھے، تو آگے کے لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم غنیمت سے پہلے) انہیں ذبح کیا اور ہانڈیاں چڑھا دیں، اتنے میں رسول اللہ ﷺ پہنچے، آپ نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا، ابھی وہ اسی میں مصروف تھے کہ اچانک ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں کے پاس گھوڑے بہت کم تھے، وہ اس کو پکڑنے دوڑے تو اس نے انہیں تھکا دیا، ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا (تیر لگ جانے سے) اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان چوپایوں میں بعض وحشی ہوجاتے ہیں جنگلی جانوروں کی طرح، لہٰذا جو تم پر غالب آجائے (یعنی تمہارے ہاتھ نہ آئے) اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ٣ (٢٤٨٨) ، ١٦(٢٥٠٧) ، الجہاد ١٩١(٣٠٧٥ مطولا) ، الذبائح ١٥ (٥٤٩٨) ، ١٨ (٥٥٠٣) ، ٢٣ (٥٥٠٩) ، ٣٦ (٥٥٤٣) ، ٣٧ (٥٥٤٤) ، صحیح مسلم/الأضاحي ٤ (١٩٦٨) ، سنن ابی داود/٤ الأضاحي ١٥ (٢٨٢١) ، سنن الترمذی/الصید ١٩(١٤٩٢) ، السیر ٤٠ (١٦٠٠) (مختصراً ) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٦١) ، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤، و ٤/١٤٠، سنن الدارمی/الأضاحي ١٥ (٢٠٢٠) ، ویأتي عند المؤلف في الضحایا ١٥، ٢٦ (بأرقام ٤٣٩٦، ٤٤٠٨، ٤٤١٥، ٤٤١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : جب اختیاری طور پر ذبح نہ کرسکو تو ذبح کی اضطراری شکل اختیار کرو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4297
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ، فَعَجَّلَ أَوَّلُهُمْ فَذَبَحُوا، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَدُفِعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَدَّ بَعِيرٌ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شکار کو تیر مارے پھر وہ تیر کھا کر پانی میں گر جائے؟
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا : جب تم اپنا تیر چلاؤ تو اللہ کا نام لو پھر اگر تم دیکھو کہ وہ اس تیر سے مرگیا تو اسے کھاؤ إلا یہ کہ وہ پانی میں گرجائے، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تیر سے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٦٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4298
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ؟، فَقَالَ: إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُتِلَ فَكُلْ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ وَلَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ، أَوْ سَهْمُكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شکار کو تیر مارے پھر وہ تیر کھا کر پانی میں گر جائے؟
عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا : جب تم اپنا تیر چلاؤ یا کتا دوڑاؤ اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ تمہارے تیر سے مرجائے تو اسے کھاؤ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر وہ ایک رات میری پہنچ سے باہر رہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم اپنا تیر پاؤ اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا اثر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ اور اگر وہ پانی میں گرجائے تو نہ کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4299
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْعَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ سَهْمَكَ، وَكَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ سَهْمُكَ فَكُلْ، قَالَ: فَإِنْ بَاتَ عَنِّي لَيْلَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: إِنْ وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ شَيْءٍ غَيْرَهُ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر شکار تیر کھا کر غائب ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ شکاری ہیں، ہم میں سے ایک شخص شکار کو تیر مارتا ہے تو وہ ایک رات یا دو رات غائب ہوجاتا ہے، وہ اس کا پتا لگاتا ہے یہاں تک کہ اسے مردہ پاتا ہے اور اس کا تیر اس کے اندر ہوتا ہے، آپ نے فرمایا : جب تم اس میں تیر پاؤ اور اس میں کسی درندے کا نشان نہ ہو اور تمہیں یقین ہوجائے کہ وہ تمہارے تیر سے مرا ہے تو اسے کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصید ٤ (١٤٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٥٤) ، مسند احمد (٤/٣٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4300
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ الصَّيْدِ، وَإِنَّ أَحَدَنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ اللَّيْلَةَ وَاللَّيْلَتَيْنِ، فَيَبْتَغِي الْأَثَرَ فَيَجِدُهُ مَيِّتًا وَسَهْمُهُ فِيهِ ؟، قَالَ: إِذَا وَجَدْتَ السَّهْمَ فِيهِ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ، وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر شکار تیر کھا کر غائب ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم اپنا تیر اس (شکار) میں دیکھو اور اس کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھو اور تمہیں یقین ہوجائے کہ اسی سے وہ مرا ہے تو اسے کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4301
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ سَهْمَكَ فِيهِ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر شکار تیر کھا کر غائب ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر میں ایک رات کے بعد اس کے نشانات ڈھونڈتا ہوں، آپ نے فرمایا : جب تم اس کے اندر اپنا تیر پاؤ اور اس میں سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٣٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4302
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ ؟، قَالَ: إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ.
তাহকীক: