কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৮১৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ متعہ کی رخصت ہمارے لیے خاص تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨١١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2811
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كَانَتِ الْمُتْعَةُ رُخْصَةً لَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء کہتے ہیں کہ میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، تو میں نے کہا : میں نے اس سال حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر ابراہیم نے کہا : اگر تمہارے والد ہوتے تو ایسا ارادہ نہ کرتے، وہ کہتے ہیں : ابراہیم تیمی نے اپنے باپ کے واسطہ سے روایت بیان کی، اور انہوں نے ابوذر (رض) سے روایت کی کہ ابوذر (رض) نے کہا : متعہ ہمارے لیے خاص تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨١١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2812
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، فَقُلْتُ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَجْمَعَ الْعَامَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَوْ كَانَ أَبُوكَ لَمْ يَهُمَّ بِذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ لَنَا خَاصَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرلینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم (کے مہینے) کو صفر کا (مہینہ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے : جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہوجائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آجائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہوگیا چناچہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو (مکہ میں) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنالیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ١ ؎، چناچہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی ؟ تو آپ نے فرمایا : احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہوجائیں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٤) ، مناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٢) ، صحیح مسلم/الحج ٣١ (١٢٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧١٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحج ٨٠ (١٩٨٧) ، مسند احمد (١/٢٥٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٨ (١١٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ یہ بات ان کے عقیدے کے خلاف تھی، وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2813
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرَ، وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْوَبَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، أَوْ قَالَ: دَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحِلِّ ؟ قَالَ: الْحِلُّ كُلُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ کے اصحاب نے حج کا، اور آپ نے جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں، تو جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص تھے، یہ دونوں احرام کھول کر حلال ہوگئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٣٠ (١٢٣٩) ، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٦٢) ، مسند احمد (١/٢٤٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2814
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ وَهُوَ الْقُرِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍيَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَحِلَّ، وَكَانَ فِيمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَأَحَلَّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہوجائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہوگیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٣١ (١٢١٤) ، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٨٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ٨٩ (٩٣٢) ، مسند احمد (١/٢٣٦، ٣٤١) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٨ (١٨٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2815
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَاهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جو شکار کھانا جائز ہے اس سے متعلق حدیث
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ (حج کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، اور وہ خود محرم نہیں تھے (وہاں) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے، اور اسے مار گرایا، تو اس میں سے نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے کھایا، اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو پا لیا تو آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو ایسی غذا ہے جسے اللہ عزوجل نے تمہیں کھلایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٤ (١٨٢٣) ، الہبة ٣ (٢٥٧٠) ، الجہاد ٤٦ (٢٨٥٤) ، ٨٨ (٢٩١٤) ، الأطعمة ١٩ (٥٤٠٦، ٥٤٠٧) ، الذبائح ١٠ (٥٤٩١) ، ١١ (٥٤٩٢) ، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦) ، سنن ابی داود/المناسک ؟ ؟ (١٨٥٢) ، سنن الترمذی/الحج ٢٥ (٨٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٣١) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٩٣ (٣٠٩٣) ، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٧٦) ، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠١، ٣٠٦) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2816
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، وَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ، فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ، فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ، فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جو شکار کھانا جائز ہے اس سے متعلق حدیث
عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے ہوئے تھے، تو انہیں (شکار کی ہوئی) ایک چڑیا ہدیہ کی گئی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو ہم میں سے بعض نے کھایا اور بعض نے احتیاط برتی تو جب طلحہ (رض) جاگے، تو انہوں نے کھانے والوں کی موافقت کی، اور کہا کہ ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٠٢) ، مسند احمد (١/١٦١، ١٦٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2817
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْمُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَهُوَ رَاقِدٌ، فَأَكَلَ بَعْضُنَا، وَتَوَرَّعَ بَعْضُنَا، فَاسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جو شکار کھانا جائز ہے اس سے متعلق حدیث
زید بن کعب بہزی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ مکہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے یہاں تک کہ جب آپ روحاء پہنچے تو اچانک ایک زخمی نیل گائے دکھائی پڑا، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے پڑا رہنے دو ، ہوسکتا ہے اس کا مالک (شکاری) آجائے (اور اپنا شکار لے جائے) اتنے میں بہزی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور وہی اس کے مالک (شکاری) تھے انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ گور نیل گائے آپ کے پیش خدمت ہے ١ ؎ آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔ تو رسول ﷺ نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا، تو انہوں نے اس کا گوشت تمام ساتھیوں میں تقسیم کردیا، پھر آپ آگے بڑھے، جب اثایہ پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہرن اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کئے ہوئے ہے، ایک سایہ میں کھڑا ہے اس کے جسم میں ایک تیر پیوست ہے، تو ان کا (یعنی بہزی کا) گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وہاں کھڑا ہوجائے تاکہ کوئی شخص اسے چھیڑنے نہ پائے یہاں تک کہ آپ (مع اپنے اصحاب کے) آگے بڑھ جائیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٦٥٥) ، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٧٩) ، مسند احمد (٣/٤١٨، ٤٥٢) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ہماری طرف سے آپ کو تحفہ ہے۔ اثایہ جحفہ سے مکہ کے راستہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔ رویثہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ عرج ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ سے چند میل کی دوری پر واقع ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2818
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ، وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَقِفُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جس شکار کا کھانا درست نہیں ہے
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے انہیں واپس کردیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا : ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٦ (١٨٢٥) ، الہبة ٦ (٢٥٧٣) ، ١٧ (٢٥٩٦) ، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٣) ، سنن الترمذی/الحج ٢٦ (٨٤٩) ، ق ٩٢ (٣٠٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٤٠) ، موطا امام مالک/الحج ٢٥ (٨٣) ، مسند احمد (٤/٣٧، ٣٨، ٧١، ٧٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابواء اور ودّان یہ دونوں جگہوں کے نام ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2819
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جس شکار کا کھانا درست نہیں ہے
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا (جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا : ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2820
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَدَّانَ رَأَى حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جس شکار کا کھانا درست نہیں ہے
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے زید بن ارقم (رض) سے کہا : آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا : جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٤١ (١٨٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٧٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٥) ، مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2821
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: مَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ، قَالَ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جس شکار کا کھانا درست نہیں ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ زید بن ارقم (رض) آئے تو ابن عباس (رض) نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ ﷺ کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، نبی اکرم ﷺ کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ (عضو) بطور ہدیہ دیا، تو آپ ﷺ نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا : ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٦٣) ، مسند احمد (٤/٣٦٧، ٣٧٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2821
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، وَقَالَ: إِنَّا لَا نَأْكُلُ إِنَّا حُرُمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جس شکار کا کھانا درست نہیں ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٩٩) ، مسند احمد (١/٢٨٠، ٢٩٠، ٣٤١، ٣٤٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2822
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ تَقْطُرُ دَمًا وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهُوَ بِقُدَيْدٍفَرَدَّهَا عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ محرم کے واسطے جس شکار کا کھانا درست نہیں ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2823
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، وَحَبِيبٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَأَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم شکار کو دیکھ کر ہنس پڑے؟
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، (ان کا بیان ہے) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور (اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا : تم نے رسول اللہ ﷺ کو کہاں چھوڑا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چناچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! (راستے میں) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا : کھاو ٔ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٢ (١٨٢١) ، ٣ (١٨٢٢) ، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٩٣ (٣٠٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٩) ، مسند احمد (٥/٣٠١، ٣٠٤) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2824
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي ضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَفِّعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ وَهُوَ قَائِلٌ بِالسُّقْيَا، فَلَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ، فَانْتَظَرَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم شکار کو دیکھ کر ہنس پڑے؟
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا۔ تو میں نے (راستہ میں) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا، اور وہ محرم تھے، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے، تو آپ نے (لوگوں سے) فرمایا : کھاؤ، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2825
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي، فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي مِنْهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً، فَقَالَ: كُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ سفر میں تھے ان میں سے بعض نے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض بغیر احرام کے تھے، میں نے ایک نیل گائے دیکھا تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا، اور اپنا نیزہ لے لیا، اور ان لوگوں سے مدد چاہی تو ان لوگوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کیا تو میں نے ان میں سے ایک کا کوڑا اچک لیا اور تیزی سے نیل گائے پر جھپٹا اور اسے پا لیا (مار گرایا) تو ان لوگوں نے اس کا گوشت کھایا پھر ڈرے (کہ ہمارے لیے کھانا اس کا حلال تھا یا نہیں) تو اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا تھا یا کسی طرح کی مدد کی تھی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : پھر تو کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٥ (١٨٢٤) مطولا، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٢) ، مسند احمد (٥/٣٠٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2826
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ بَعْضُهُمْ مُحْرِمٌ وَبَعْضُهُمْ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَاخْتَلَسْتُ سَوْطًا مِنْ بَعْضِهِمْ، فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَأَصَبْتُهُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَأَشْفَقُوا، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ ؟قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكُلُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس حدیث میں عمرو بن ابی عمرو قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٤١ (١٨٥١) ، سنن الترمذی/الحج ٢٥ (٨٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٩٨) ، مسند احمد (٣/٣٦٢، ٣٨٧، ٣٨٩) (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2827
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کاٹنے والے کتے کو محرم کا قتل کرنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٦) ، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٥) ، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٦٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحج ٤٠ (١٨٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٨) ، موطا امام مالک/الحج ٢٨ (٨٨) ، مسند احمد (٢/١٣٨) ، سنن الدارمی/المناسک ١٩ (١٨٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کٹ کھنے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیتے ہوں، مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2828
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ: جُنَاحٌ الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سانپ کو ہلاک کرنا کیسا ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم مار سکتا ہے : سانپ، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٢٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٩) ، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٤) ، سنن الترمذی/الحج ٢١ (٨٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٧) ، مسند احمد (٦/٩٧، ٢٠٣) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٨٨٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2829
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ: الْحَيَّةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.
তাহকীক: