কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৭৯৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہدی کے گلے میں دو جوتے لٹکانے سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کے داہنی کوہان کی جانب اشعار کیا، پھر اس کا خون صاف کیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتے ڈالے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو جب وہ بیداء میں آپ لے کر پورے طور پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے حج کا احرام باندھا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2791
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِأَشْعَرَ الْهَدْيَ مِنْ جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، ثُمَّ قَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالے تو کیا اس وقت احرام بھی باندھے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٩٢٨) ، مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ہدی بھیجے اسے اختیار ہے چاہے وہ محرم ہو کر رہے چاہے غیر محرم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2792
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، بَعَثَ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ أَحْرَمَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے اسے ہدی کے گلے میں ڈالتے تھے اور اسے میرے والد کے ساتھ بھیجتے تھے تو رسول اللہ ﷺ کسی بھی ایسی چیز کا استعمال ترک نہیں کرتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہے یہاں تک کہ ہدی کو نحر کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2793
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٨ (١٧٠٠) ، الوکالة ١٤ (٢٣١٧) ، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٩٩) ، موطا امام مالک/الحج ١٥ (٥١) ، مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2794
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے (حاجی کو) بیت اللہ کے طواف ١ ؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٨٧) (صحیح) (حدیث کا آخری ٹکڑا ” لانعلم “ صحیح مسلم میں نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی طواف زیارت کے بعد ہی حاجی پورے طور سے حلال ہوتا ہے، رہا حلق تو اس سے کلی طور پر حلال نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2795
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا، وَلَا نَعْلَمُ الْحَجَّ، يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے جانور کے ہار بٹتی تھی، وہ ہار پہنا کر روانہ کردیئے جاتے، اور رسول اللہ ﷺ مقیم ہی رہتے اور اپنی بیویوں سے پرہیز نہیں کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٠٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2796
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْرَجُ بِالْهَدْيِ مُقَلَّدًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقِيمٌ مَا يَمْتَنِعُ مِنْ نِسَائِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتے دیکھا، آپ انہیں پہنا کر بھیج دیتے تھے، پھر ہمارے درمیان حلال شخص کی حیثیت سے رہتے تھے (کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٨١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2797
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائَشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ، فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قربانی کا جانور کو ساتھ لے جانے سے متعلق
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٢٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2798
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَاقَ هَدْيًا فِي حَجِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہدی کے جانور پر سوار ہونا
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کرلے جا رہا ہے آپ نے فرمایا : اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے (پھر) فرمایا : سوار ہو جاؤ، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے ويلك تمہارا برا ہو ١ ؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٨٩) ، ١١٢ (١٧٠٦) ، الوصایا ١٢ (٢٧٥٥) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٠) ، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢) ، سنن ابی داود/الحج ١٨ (١٧٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٨١) ، موطا امام مالک/الحج ٤٥ (١٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٣١٢، ٤٦٤، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٨٧، ٥٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے یہاں بدعا مقصود نہیں بلکہ زجر و توبیخ مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2799
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ، فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہدی کے جانور پر سوار ہونا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ اپنے ساتھ ہانکے لیے جا رہا ہے، آپ نے فرمایا : اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا : یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے (پھر) فرمایا : اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا : یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا : سوار ہوجاؤ تیرا برا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢١٩) ، مسند احمد (٣/١٧٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٩٠) ، الوصایا ١٢ (٢٧٥٤) ، الأدب ٩٥ (٦١٥٩) ، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٣) ، مسند احمد (٣/٩٩، ١٧٠، ١٧٣، ٢٠٢، ٢٣١، ٢٤٣، ٢٧٥، ٢٧٦، ٢٩١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2800
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تھک جائے وہ ہدی کے جانور پر سوار ہوسکتا ہے
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہوچکا تھا آپ نے اس سے فرمایا : اس پر سوار ہو جاؤ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا : وار ہوجاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٩٦) وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ الحج ٦٥ (١٣٢٣) ، مسند احمد (٣/٩٩، ١٠٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً وَقَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ، قَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت ضرورت ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پالو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٤) ، سنن ابی داود/المناسک ١٨ (١٧٦١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٨) ، مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٢٤، ٣٢٥، ٣٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2802
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ ﷺ نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہوگئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہوگئیں، تو مجھے حیض آگیا (جس کی وجہ سے) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا : کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، (اور طواف وغیرہ کر کے) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧١٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2803
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ، فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ، قَالَ: أَوَ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ ؟قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانُ كَذَا وَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٥١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2804
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ٤ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو ، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہوجائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہوگی، تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہوچکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہوگیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہوگئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا ۔ (اسی دوران) علی (رض) یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا : تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے ؟ انہوں نے کہا : جس کا نبی اکرم ﷺ نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا : تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو ۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : ہمیشہ کے لیے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/المناسک ٢٣ (١٧٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٥٩) ، مسند احمد (٣/٣١٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2805
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ ؟ قَالَ: هِيَ لِلْأَبَدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٨١٥) ، مسند احمد (٤/١٧٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2806
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِأَبَدٍ ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ لِأَبَدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع کیا ١ ؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا : کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٠٨ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2807
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ: سُرَاقَةُ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ ؟ قَالَ: بَلْ لِأَبَدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کردینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٢٥ (١٨٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٢ (٢٩٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٢٧) ، مسند احمد (٣/٤٦٩) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٧ (١٨٩٧) (ضعیف منکر) (اس کے راوی ” حارث “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث دیگر صحیح حدیثوں کے مخالف ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی حج کو عمرہ کے ذریعہ فسخ کرنا خاص ہے، نہ کہ تمتع کیونکہ اس کا حکم عام ہے جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا اور جو لوگ فسخ کو بھی عام کہتے ہیں وہ اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی حارث ہیں جو ضعیف ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2808
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ: بَلْ لَنَا خَاصَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قلیل صدقہ سے متعلق
ابوذر رضی الله عنہ سے حج کے متعہ کے سلسلہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے رخصت تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٢ (٢٩٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٥) (صحیح) (سند کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے، مگر یہ ابو ذر رضی الله عنہ کی اپنی غلط فہمی ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف مخالف للأحاديث المتقدمة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2809
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَعَيَّاشٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ، قَالَ: كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث
ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد ﷺ کے لیے تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨١١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2810
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ بْنَ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ: لَيْسَتْ لَكُمْ وَلَسْتُمْ مِنْهَا فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: