কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
زکوة سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৪ টি
হাদীস নং: ২৬১৭
زکوة سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے (ایک آدمی کو) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کردیا، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا : تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠) ، الھبة ٣٠ (٢٦٢٣) ، ٣٧ (٢٦٣٦) ، الوصایا ٣١ (٢٩٧٠) ، الجھاد ١١٩ (٢٩٧٠) ، ١٣٧ (٣٠٠٣) ، صحیح مسلم/الھبات ١ (١٦٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١ (٢٣٩٠) ، ٢ (١٣٩٢) ، ما/الزکاة ٢٦ (٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٨٥) ، مسند احمد (١/ ٢٥، ٣٧، ٤٠، ٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2615
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮
زکوة سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2616
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهَا تُبَاعُ، فَأَرَادَ شِرَاءَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعْرِضْ فِي صَدَقَتِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯
زکوة سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیچا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے اس بارے میں اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا : اپنا صدقہ واپس نہ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٨٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2617
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُجَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدَهَا تُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০
زکوة سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو (درخت پر لگے) انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تاکہ اس کی زکاۃ کشمش سے ادا کی جاسکے، جیسے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ پکی کھجور سے ادا کی جاتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الزکاة ١٣ (١٦٠٣) ، سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٤) ، سنن ابن ماجہ/١٨ (١٨١٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٤٨) (حسن الإسناد) (حدیث کی سند میں ارسال ہے، اور یہ سعید بن مسیب کی مرسل ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ سب سے صحیح مراسیل سعید بن مسیب ہی کی ہیں ) وضاحت : ١ ؎: بظاہر اس حدیث کا تعلق اس کے باب صدقہ خریدنے کا بیان سے نظر نہیں آتا، ممکن ہے کہ مؤلف کی مراد یہ ہو کہ جب درخت پر لگے پھل کا تخمینہ لگا کر مالک کے گھر میں موجود کھجور سے اس کی زکاۃ لے لی گئی تو گویا یہ بیع ہوگئی ، اور تب عمر رضی الله عنہ کے واقعہ میں ممانعت تنزیہ پہ محمول کی جائے گی، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد مرسل صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2618
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، وَيَزِيدُ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ، فَتُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا.
তাহকীক: