কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৬ টি
হাদীস নং: ১৪২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا بعد جمعہ نماز ادا کرنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ گھر لوٹ آتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٤ (١١٢٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٩ (الجمعة ٢٤) (٥٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٣) ، مسند احمد ٢/٤٤٩، ٤٩٩، وانظر حدیث رقم : ٨٧٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1427
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا بعد جمعہ نماز ادا کرنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٤ (١١٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے بعد دو طویل رکعات ادا کرنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کو لمبی کرتے تھے اور کہتے : رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٤ (١١٢٧، ١١٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٨، مسند احمد ٢/١٠٣ (شاذ) (ان دونوں رکعتوں کو لمبی کرنے کا ذکر شاذ ہے ) قال الشيخ الألباني : شاذ بذکر إطالتهما صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1429
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا، وَيَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز جمعہ قبولیت کی گھڑی کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں طور پہاڑی پر آیا تو وہاں مجھے کعب (کعب احبار) (رض) ملے تو میں اور وہ دونوں ایک دن تک ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں (دنیا میں) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی، زمین پر رہنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو جمعہ کے دن قیامت کے ڈر سے صبح کو سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے، سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کسی مومن کو یہ گھڑی مل جائے اور نماز کی حالت میں ہو اور وہ اللہ سے اس ساعت میں کچھ مانگے تو وہ اسے ضرور دے گا ، کعب نے کہا : یہ ہر سال میں ایک دن ہے، میں نے کہا : نہیں، بلکہ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو کعب نے تورات پڑھ کر دیکھا تو کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ہے، یہ ہر جمعہ میں ہے۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا، تو میری ملاقات بصرہ بن ابی بصرہ غفاری (رض) سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا : آپ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : طور سے، انہوں نے کہا : کاش کہ میں آپ سے وہاں جانے سے پہلے ملا ہوتا، تو آپ وہاں نہ جاتے، میں نے ان سے کہا : کیوں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے : سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف : ایک مسجد الحرام کی طرف، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف، اور تیسری مسجد بیت المقدس ١ ؎ کی طرف۔ پھر میں عبداللہ بن سلام (رض) سے ملا تو میں نے کہا : کاش آپ نے مجھے دیکھا ہوتا، میں طور گیا تو میری ملاقات کعب سے ہوئی، پھر میں اور وہ دونوں پورے دن ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنوں میں بہترین دن جمعہ کا دن ہے جس میں سورج نکلا، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں دنیا میں اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی میں قیامت قائم ہوگی، زمین پر کوئی ایسی مخلوق نہیں ہے جو قیامت کے ڈر سے جمعہ کے دن صبح سے سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس مسلمان کو وہ گھڑی نماز کی حالت میں مل جائے، اور وہ اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور دے گا، اس پر کعب نے کہا : ایسا دن ہر سال میں ایک ہے، تو عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا : کعب نے غلط کہا، میں نے کہا : پھر کعب نے (تورات) پڑھی اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ہے، وہ ہر جمعہ میں ہے، تو عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا : کعب نے سچ کہا، پھر انہوں نے کہا : میں اس گھڑی کو جانتا ہوں، تو میں نے کہا : اے بھائی ! مجھے وہ گھڑی بتادیں، انہوں نے کہا : وہ گھڑی جمعہ کے دن سورج ڈوبنے سے پہلے کی آخری گھڑی ہے، تو میں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا : جو مومن اس گھڑی کو پائے اور وہ نماز میں ہو جبکہ اس گھڑی میں کوئی نماز نہیں ہے، تو انہوں نے کہا : کیا آپ نے نہیں سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جو شخص نماز پڑھے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ، میں نے کہا : کیوں نہیں سنا ہے ؟ اس پر انہوں نے کہا : تو وہ اسی طرح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٧ (١٠٤٦) مختصراً ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٧ (الجمعة ٢) (٤٩١) مختصراً ، موطا امام مالک/الجمعة ٧ (١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٠٠٠) ، مسند احمد ٢/٤٧٦، ٥٠٤، ٥/٤٥١، ٤٥٣، وقولہ : ” فیہ ساعة لایصادفھا ۔۔۔ الخ عند الشیخین و الترمذی من طریق الأعرج عنہ، أنظر رقم : ١٤٣٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: لہٰذا ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے ثواب کی نیت سے سفر جائز نہیں ہے، ایسے ہی مقام کی زیارت کے لیے ثواب کی نیت سے جانا خواہ وہ کوئی قبر ہو یا شہر درست نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1430
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أَتَيْتُ الطُّورَ فَوَجَدْتُ ثَمَّ كَعْبًا، فَمَكَثْتُ أَنَا وَهُوَ يَوْمًا أُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَدِّثُنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ تُصْبِحُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مُصِيخَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا ابْنَ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا مُؤْمِنٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ يَوْمٌ فِي كُلِّ سَنَةٍ، فَقُلْتُ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز جمعہ قبولیت کی گھڑی کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اس گھڑی کو پالے، اور اس میں اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٣٣٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1431
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنْمَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز جمعہ قبولیت کی گھڑی کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : جمعہ والے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اسے نماز میں کھڑا پالے، پھر اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا ، اور آپ اسے ہاتھ کے اشارے سے کم کر کے بتا رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ہم کسی کون ہیں جانتے جس نے اس حدیث کو عن معمر، عن الزهري، عن سعيد (المقبري) کے طریق سے روایت کیا ہو، سوائے رباح کے، البتہ ایوب بن سوید نے اس کو عن يونس، عن الزهري، عن سعيد وأبي سلمة کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن ایوب بن سوید متروک الحدیث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٦١ (٦٤٠٠) ، صحیح مسلم/الجمعة ٤ (٨٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤٠٦) ، مسند احمد ٢/٢٣٠، ٢٨٤، ٤٩٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٤ (١٦١٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1432
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، قُلْنَا: يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ رَبَاحٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا أَيُّوبَ بْنَ سُوَيْدٍ، فَإِنَّهُ حَدَّثَ بِهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
তাহকীক: