কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৮৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن مسجد جلدی جانے کے فضائل
ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعۃ المبارک کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب کے مطابق لکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی تو اس آدمی کی طرح ہوں گے جس نے اعلیٰ درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین مرغی صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی مرغی صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے قیمتی چڑیا صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام چڑیا صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین انڈہ صدقہ کیا اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام انڈہ صدقہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٥٨٣) (حسن صحیح) (لیکن عصفور (گوریا) کا لفظ منک رہے، معروف ” دجاجہ “ (مرغی) کا لفظ ہے جیسا کہ پچھلی روایات میں گزرا، اور نکارت کا سبب ” ابن عجلان “ ہیں، ان سے ابوہریرہ کی روایات میں بڑا وہم ہوا ہے ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح لکن قوله عصفور منکر والمحفوظ دجاجة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1387
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، فَالنَّاسُ فِيهِ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ دَجَاجَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ عُصْفُورًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند (خوب اہتمام سے) غسل کیا، پھر وہ (جمعہ میں شریک ہونے کے لیے) پہلی ساعت (گھڑی) میں مسجد گیا، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا، اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آجاتے ہیں، اور خطبہ سننے لگتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٤ (٨٨١) ، ٣١ (٩٢٩) ، صحیح مسلم/الجمعة ٢ (٨٥٠) ، سنن ابی داود/الطھارة ١٢٩ (٣٥١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤١ (الجمعة ٦) (٤٩٩) ، موطا امام مالک/الجمعة ١ (١) ، مسند احمد ٢/٤٦٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٣ (١٥٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کردیتے ہیں، اس میں نماز جمعہ کے لیے جلد سے جلد جانے کی ترغیب و فضیلت کا بیان ہے، جو جتنی جلدی جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1388
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ کا دن بارہ ساعتوں (گھڑیوں) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٨ (١٠٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس گھڑی کے بارے میں علماء میں بہت اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک راجح قول یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں : یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے تک کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1389
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْجُلَاحِ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً، لَا يُوجَدُ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے، پھر ہم لوٹتے تو اپنے اونٹوں کو آرام دیتے، میں نے کہا : وہ کون سا وقت ہوتا ؟ ، انہوں نے کہا : سورج ڈھلنے کا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٥٨) ، مسند احمد ٣/٣٣١، (تحفة الأشراف : ٢٦٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1390
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا، قُلْتُ: أَيَّةَ سَاعَةٍ ؟ قَالَ: زَوَالُ الشَّمْسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جاسکے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٥ (٤١٦٨) ، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٦٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٤ (١٠٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٤ (١١٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١٢) ، مسند احمد ٤/٤٦، ٥٠، ٥٤، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤ (١٥٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی زوال ہوئے ابھی تھوڑا سا وقت گزرا ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1391
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان جمعہ سے متعلق احادیث
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا، پھر جب عثمان (رض) عنہ کا دور خلافت آیا، اور لوگ بڑھ گئے تو انہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا ١ ؎، وہ اذان مقام زوراء پر دی گئی، پھر اسی پر معاملہ قائم رہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢) ، ٢٢ (٩١٣) ، ٢٤ (٩١٥) ، ٢٥ (٩١٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٥ (١٠٨٧، ١٠٨٨، ١٠٨٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (الجمعة ٢٠) (٥١٦) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٧ (١١٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٩٩) ، مسند احمد ٣/٤٤٩، ٤٥٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تکبیر کو شامل کر کے تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان غنی (رض) کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے، اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کی سنت کی اتباع کی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1392
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ، أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان جمعہ سے متعلق احادیث
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ تو تیسری اذان کا حکم عثمان (رض) عنہ نے دیا تھا جب اہل مدینہ زیادہ ہوگئے تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا صرف ایک ہی مؤذن تھا، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : أنظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1393
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ الثَّالِثِ عُثْمَانُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان جمعہ سے متعلق احادیث
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ بلال (رض) اس وقت اذان دیتے جب رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ جاتے، پھر جب آپ اترتے تو وہ اقامت کہتے، اسی طرح ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی ہوتا رہا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٣٩٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1394
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ، ثُمَّ كَانَ كَذَلِكَ فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب خطبہ کے واسطے نکل چکا ہو تو اس وقت مسجد میں آجائے تو سنت پڑھے یا نہیں؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی (مسجد) آئے اور امام (خطبہ کے لیے) نکل چکا ہو ١ ؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے ۔ شعبہ کی روایت میں ہے : جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٢٥ (١١٦٦) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٤٩) ، مسند احمد ٣/٣٨٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢) ، وانظر أیضا مایأتی برقم : ١٤٠١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خواہ اس نے خطبہ شروع کردیا ہو یا ابھی نہ کیا ہو، بلکہ ایک روایت میں والإمام یخطب کے الفاظ وارد ہیں، اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں بھی یہ دونوں رکعتیں پڑھی جائیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1395
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام خطبہ کے لئے کس چیز پر کھڑا ہو؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دیتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنا سے آپ ٹیک لگاتے تھے، پھر جب منبر بنایا گیا، اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون (جس سے آپ سہارا لیتے تھے) بیقرار ہو کر رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے، یہاں تک کہ اسے مسجد والوں نے بھی سنا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اتر کر اس کے پاس گئے، اور اسے گلے سے لگایا تو وہ چپ ہوا۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢٦ (٩١٧) ، المناقب ٢٥ (٣٥٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٩ (١٤١٧) ، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٨٧٧) ، مسند احمد ٣/٢٩٥، ٣٠٠، ٣٠٦، ٣٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1396
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَاسْتَوَى عَلَيْهِ، اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَتَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام خطبہ کے لئے کس چیز پر کھڑا ہو؟
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا : اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں (الجمعہ : ١١ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١١ (٨٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١٢٠) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1397
أخبرنا أحمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قریب بیٹھنے کی فضیلت
اوس بن اوس ثقفی (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے، اور امام سے قریب رہے، اور خاموشی سے خطبہ سنے، پھر کوئی لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے، اور قیام کا ثواب ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٣٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1398
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَابْتَكَرَ وَغَدَا وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ ثُمَّ لَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس وقت امام منبر پر خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ممنوع ہے
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر (رض) کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا : ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اے فلان ! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٨ (١١١٨) ، (تحفة الأشراف : ٥١٨٨) ، مسند احمد ٤/١٨٨، ١٩٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہوگا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1399
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام خطبہ دے رہا ہو اور اس وقت کوئی شخص آجائے تو نماز پڑھے یا نہیں؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں ؟ اس نے کہا : نہیں، تو آپ نے فرمایا : تو پڑھ لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠) ، ٣٣ (٩٣١) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥) ، سنن الترمذی/فیہ ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٥٧) ، مسند احمد ٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩، ٣٨٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٤٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1400
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْكَعْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس وقت خطبہ ہو رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا : خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٩٣٤) ، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (الجمعة ١٦) (٥١٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٦ (١١١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٠٦) ، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦) ، مسند احمد ٢/٢٤٤، ٢٧٢، ٢٨٠، ٣٩٣، ٣٩٦، ٤٨٥، ٥١٨، ٥٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٩٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1401
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس وقت خطبہ ہو رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو : خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1402
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قال: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّأَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاموش رہنے کے فضائل سے متعلق
سلمان (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کرلے، تو (اس کا یہ عمل) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوگا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٤٥٠٨) ، مسند احمد ٥/٤٣٨، ٤٣٩، ٤٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1403
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ کس طریقہ سے پڑھے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجة ١ ؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے : الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے : يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا (آل عمران : ١٠٢ ) ۔ يا أيها الناس اتقوا ربکم الذي خلقکم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا کثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ کان عليكم رقيبا اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے (الاحزاب : ٧٠ ) يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو (النساء : ١ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود (رض) سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، (یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/النکاح ٣٣ (٢١١٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٦١٨) ، مسند احمد ١/٣٩٢، ٤٣٢، سنن الدارمی/النکاح ٢٠ (٢٢٤٨) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” ابو عبیدہ “ اور ان کے باپ ” ابن مسعود “ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، دیکھئے البانی کا رسالہ خطبة الحاجہ ) وضاحت : ١ ؎: حاجۃ کا لفظ عام ہے نکاح اور بیع وغیرہ سبھی چیزوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے بیع و نکاح وغیرہ تمام عقود میں اس خطبہ کے پڑھنے کو مسنون قرار دیا ہے۔ نسائی کی اس سند میں بھی ابوعبیدہ ہیں، مگر ابوداؤد اور دیگر کی سندوں میں ابو عبیدہ کی جگہ ابوالاحوص ہیں، جن کا سماع ابن مسعود (رض) سے ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1404
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا، وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَلَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٦٥٠) ، مسند احمد ٢/٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث
ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٨٠٥) ، مسند احمد ٢/٣٥ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: سُنَّةٌ، وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ.
তাহকীক: