কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
امامت کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৯ টি
হাদীস নং: ৮৩৮
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ فضیلت جماعت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٣٠ (٦٤٥) ، ٣١ (٦٤٩) ، صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٥٠) ، وقد أخرجہ : (تحفة الأشراف : ٨٣٦٧) ، موطا امام مالک/الجماعة ١ (١) ، مسند احمد ٢/١٧، ٦٥، ١٠٢، ١١٢، ١٥٦، سنن الدارمی/الصلاة ٥٦ (١٣١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 837
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৯
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ فضیلت جماعت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٤٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٧ (٢١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٣٩) ، موطا امام مالک/الجماعة ١ (٢) ، مسند احمد ٢/٢٥٢، ٢٦٤، ٢٦٦، ٢٧٣، ٣٢٨ (بلفظ : سبع وعشرون) ٣٩٦، ٤٥٤، ٤٧٣، ٤٧٥، ٤٨٥، ٤٨٦، ٥٢٠، ٥٢٥، ٥٢٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ٢٧ گنا، اور اس میں ٢٥ گنا زیادہ فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ بعض علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کو پہلے ٢٥ گنا بتلائی گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں مزید اضافہ فرما کر اسے ٢٧ گنا کردیا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 838
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ جُزْءًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪০
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ فضیلت جماعت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٧٤٧١) ، مسند احمد ٦/٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 839
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت تین آدمی ہوں تو نماز جماعت سے پڑھیں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٨٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 840
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر تین اشخاص ہوں ایک مرد ایک بچہ اور ایک عورت تو جماعت کرائیں
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم ﷺ کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب دو آدمی ہوں تو جماعت کرائیں
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا، اور (پیچھے سے لا کر) اپنے دائیں کھڑا کرلیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣) مطولاً ، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦١٠) مطولاً ، (تحفة الأشراف : ٥٩٠٧) ، مسند احمد ١/٢٤٩، ٣٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 842
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب دو آدمی ہوں تو جماعت کرائیں
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا فلاں نماز میں موجود ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اور فلاں ؟ لوگوں نے کہا : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ١ ؎، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٨ (٥٥٤) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٦ (٧٩٠) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ٣٦) ، مسند احمد ٥/١٤٠، ١٤١، سنن الدارمی/الصلاة ٥٣ (١٣٠٧، ١٣٠٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: اسی جملے سے باب کی مناسبت ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 843
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شُعْبَةُ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ: أَشَهِدَ فُلَانٌ الصَّلَاةَقَالُوا: لَا قَالَ: فَفُلَانٌقَالُوا: لَا قَالَ: إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৫
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز کے واسطے جماعت کرنا
عتبان بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان (برسات میں) سیلاب حائل ہوجاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچھا ہم آئیں گے ، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ نے پوچھا : تم کہاں چاہتے ہو ؟ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٨٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے جماعت کے ساتھ نفل پڑھنے کا جواز ثابت ہوا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 844
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ لَتَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ مِنْ بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَنَفْعَلُفَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِفَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৬
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو نماز قضاء ہوجائے اس کے واسطے جماعت کرنے سے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنی صفوں کو درست کرلیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨١٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے بلکہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور جماعت کے وقت اللہ کی مشیئت سے ہوتا تھا، یہ حدیث نُسّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، باب سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے، اور بقول علامہ پنجابی : یہ بعض نسخوں کے اندر ہے بھی نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 845
أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو نماز قضاء ہوجائے اس کے واسطے جماعت کرنے سے متعلق
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم (سفر میں) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے، آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ، اس پر بلال (رض) نے کہا : میں آپ سب کی نگرانی کروں گا، چناچہ سب لوگ لیٹے، اور سب سو گئے، بلال (رض) نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی، (اور وہ بھی سو گئے) رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا، آپ ﷺ نے بلال (رض) سے فرمایا : بلال ! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی ؟ بلال (رض) نے عرض کیا : مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے، بلال اٹھو ! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو ؛ چناچہ بلال کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اذان دی، پھر لوگوں نے وضو کیا، اس وقت سورج بلند ہوچکا تھا، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٣٥ (٥٩٥) ، التوحید ٣١ (٧٤٧١) (مختصراً علي قولہ : إن اللہ إذا الخ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ١١ (٤٣٩، ٤٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٩٦) ، مسند احمد ٥/٣٠٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 846
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَاسْمُهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا، عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ بِلَالٌ: أَنَا أَحْفَظُكُمْ فَاضْطَجَعُوا فَنَامُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ: يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَقَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ فَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ قُمْ يَا بِلَالُ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلَاةِفَقَامَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَتَوَضَّئُوا يَعْنِي حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز با جماعت میں حاضر نہ ہونے کی وعید
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء (رض) نے پوچھا : تمہارا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا : حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء (رض) نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے ۔ سائب کہتے ہیں : جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٦٧) ، مسند احمد ٥/١٩٦ و ٦/٤٤٦ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 847
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، قال: قال لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُوَيْنَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ قَالَ: السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جماعت میں شرکت نہ کرنے کی وعید
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے (مسجد میں) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٢٩ (٦٤٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان الأحکام ٥٢ (٧٢٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٣٢) ، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ١ (٣) ، مسند احمد ٢/٢٤٤، ٣٧٦، ٤٧٩، ٤٨٠، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ٥٤ (١٣١٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 848
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫০
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس جگہ پر اذان ہوتی ہے وہاں پر جماعت میں شرکت کرنا لازم ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ١ ؎، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے (اپنے گھر سے) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں (صحابہ کرام) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، (تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے (عہدرسالت میں) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر (مسجد) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کردیا جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٤ (٦٥٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥٠) مختصراً ، وقد أخرجہ : (تحفة الأشراف : ٩٥٠٢) ، مسند احمد ١/٣٨٢، ٤١٤، ٤١٥، ٤١٩، ٤٥٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی انہیں مسجد میں جا کر جماعت سے پڑھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 849
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنِّي لَا أَحْسَبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى صَلَاةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً أَوْ يَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ يُكَفِّرُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس جگہ پر اذان ہوتی ہے وہاں پر جماعت میں شرکت کرنا لازم ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ١ ؎، اور اس نے عرض کیا : میرا کوئی راہبر (گائیڈ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ ﷺ نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا : کیا تم اذان سنتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو (مؤذن کی پکار پر) لبیک کہو ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٣ (٦٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم (رض) تھے۔ ٢ ؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 850
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْعَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ: أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِقَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَجِبْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس جگہ پر اذان ہوتی ہے وہاں پر جماعت میں شرکت کرنا لازم ہے
عبداللہ بن ام مکتوم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں) آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم حى على الصلاة، اور حى على الفلاح کی آواز سنتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ ﷺ نے فرمایا : پھر تو آؤ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥٣) ، وقد أخرجہ : (تحفة الأشراف : ١٠٧٨٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 851
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ: هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৩
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنا
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم (رض) اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے : جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطھارة ٤٣ (٨٨) مطولاً ، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٨ (١٤٢) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٤ (٦١٦) ، (تحفة الأشراف : ٥١٤١) ، (بدون ذکر القصة) ، موطا امام مالک/قصرالصلاة في السفر ١٧ (٤٩) ، مسند احمد ٣/٤٨٣، ٤/٣٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 852
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৪
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنا
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز (جماعت) کھڑی کردی گئی ہو، تو پہلے کھانا کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ١٦ (٥٥٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٦ (٣٥٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٤ (٩٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٦) ، مسند احمد ٣/١٠٠، ١١٠، ١٦١، ٢٣١، ٢٣٨، ٢٤٩، سنن الدارمی/الصلاة ٥٨ (١٣١٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 853
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৫
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنا
اسامہ بن عمیر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے آواز لگائی : (لوگو ! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢١٣ (١٠٥٧، ١٠٥٨، ١٠٥٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٥ (٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣) ، مسند احمد ٥/٢٤، ٧٤، ٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 854
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌفَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৬
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بغیر جماعت کے جماعت کا اجر کب ہے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٥٢ (٥٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٨١) ، مسند احمد ٢/٣٨٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 855
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ الْفِهْرِيِّ، عَنْعَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ حَضَرَهَا وَلَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بغیر جماعت کے جماعت کا اجر کب ہے؟
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں (تنہا) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ١ ؎ کو بخش دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٨ (٦٤٣٣) ، صحیح مسلم/الطھارة ٤ (٢٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٩٧) ، مسند احمد ١/٦٤، ٦٧، ٧١، (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 856
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ.
তাহকীক: