কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
امامت کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৯ টি
হাদীস নং: ৭৯৮
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی پیروی کرنا جو امام کی اتباع کر رہا ہو
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی اکرم ﷺ ابوبکر (رض) کے آگے تھے، تو آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، اور لوگ ابوبکر (رض) کے پیچھے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٣١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 797
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৯
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کی پیروی کرنا جو امام کی اتباع کر رہا ہو
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اور ابوبکر (رض) آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ ﷺ اللہ اکبر کہتے، تو ابوبکر (رض) بھی اللہ اکبر کہتے، وہ ہمیں (آپ کی تکبیر) سنا رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٨٦) (صحیح ) وضاحت : اور یہ بتار ہے تھے کہ آپ ایک حالت سے دوسری حالت میں جا رہے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 798
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০০
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت تین آدمی موجود ہوں تو مقتدی اور امام کس طرف کھڑے ہوں؟
اسود اور علقمہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم دوپہر میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا : عنقریب امراء نماز کے وقت سے غافل ہوجائیں گے، تو تم لوگ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا، پھر وہ اٹھے اور میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٧١ (٦١٣) ، مسند احمد ١/٤٢٤، ٤٥١، ٤٥٥، ٤٥٩، (تحفة الأشراف : ٩١٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اہل علم کی ایک جماعت جن میں امام شافعی بھی شامل ہیں نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے آپ ﷺ سے اسے مکہ میں سیکھا تھا، اس میں تطبیق کے ساتھ اور دوسری باتیں بھی تھیں جو اب متروک ہیں، یہ بھی منجملہ انہیں میں سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 799
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِالْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ نِصْفَ النَّهَارِ فَقَالَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْتَغِلُونَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلُّوا لِوَقْتِهَا ثُمَّقَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০১
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت تین آدمی موجود ہوں تو مقتدی اور امام کس طرف کھڑے ہوں؟
فروہ اسلمی کے غلام مسعود بن ھبیرۃ (رض) کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) گزرے، تو ابوبکر (رض) نے مجھ سے کہا : مسعود ! تم ابوتمیم یعنی اپنے مالک کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ وہ ہمیں سواری کے لیے ایک اونٹ دے دیں، اور ہمارے لیے کچھ زاد راہ اور ایک رہبر بھیج دیں جو ہماری رہنمائی کرے، تو میں نے اپنے مالک کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے میرے ساتھ ایک اونٹ اور ایک کُپّا دودھ بھیجا، میں انہیں لے کر خفیہ راستوں سے چھپ چھپا کر چلا تاکہ کافروں کو پتہ نہ چل سکے، جب نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اور ابوبکر (رض) آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوئے، ان دونوں کے ساتھ رہ کر میں نے اسلام سیکھ لیا تھا، تو میں آ کر ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر (رض) کے سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں پیچھے کی طرف ہٹایا، تو (وہ آ کر ہم سے مل گئے اور) ہم دونوں آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ بریدہ بن سفیان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٢٦٤) (ضعیف) (اس کا راوی ” بریدہ بن سفیان “ ضعیف ہے، اور رافضی شیعہ ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 800
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ فَرْوَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ غُلَامٍ لِجَدِّهِ يُقَالُ لَهُ مَسْعُودٌ، فَقَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لِي: أَبُو بَكْرٍ يَا مَسْعُودُ ائْتِ أَبَا تَمِيمٍ يَعْنِي مَوْلَاهُ فَقُلْ لَهُ يَحْمِلْنَا عَلَى بَعِيرٍ وَيَبْعَثْ إِلَيْنَا بِزَادٍ وَدَلِيلٍ يَدُلُّنَا فَجِئْتُ إِلَى مَوْلَايَ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ مَعِي بِبَعِيرٍ وَوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَجَعَلْتُ آخُذُ بِهِمْ فِي إِخْفَاءِ الطَّرِيقِ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُفَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ عَرَفْتُ الْإِسْلَامَ وَأَنَا مَعَهُمَا فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُمَا فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقُمْنَا خَلْفَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: بُرَيْدَةُ هَذَا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০২
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر تین اشخاص اور ایک عورت ہو تو کس طرح کھڑے ہوں؟
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر مدعو کیا جسے انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر فرمایا : اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، انس (رض) کہتے ہیں : تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو کافی دنوں سے پڑی رہنے کی وجہ سے کالی ہوگئی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا، اور اسے آپ کے پاس لا کر بچھایا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر واپس تشریف لے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٠ (٣٨٠) ، الأذان ١٦١ (٨٦٠) ، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٥٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ٧١ (٦١٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٥٩ (٢٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٩٧) ، موطا امام مالک/السفر ٩ (٣١) ، مسند احمد ٣/١٣١، ١٤٩، ١٦٤، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 801
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْقَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت دو مرد اور دو خواتین ہوں تو کس طریقہ سے صف بنائی جائے؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ، (یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا) تو آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠) ، فضائل الصحابة ٣٢ (٢٤٨١) (في سیاق أطول وبدون ذکر الیتیم في کلا الموضعین) ، (تحفة الأشراف : ٤٠٩) ، مسند احمد ٣/١٩٣، ٢١٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 802
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَالْيَتِيمُ وَأُمُّ حِرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ: قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْقَالَ: فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍقَالَ: فَصَلَّى بِنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت دو مرد اور دو خواتین ہوں تو کس طریقہ سے صف بنائی جائے؟
انس (رض) سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ تھے، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، آپ نے انس (رض) کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس (رض) کے پیچھے کھڑا کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦٠٩) مختصراً ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤٤ (٩٧٥) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٩) ، مسند احمد ٣/١٩٤، ٢٥٨، ٢٦١، ویأتی عند المؤلف برقم : ٨٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُخْتَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت ایک لڑکا اور ایک خاتون موجود ہو تو امام کو کس جگہ کھڑا ہونا چاہئے؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اور میں نبی اکرم ﷺ کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٢٠٦) ، مسند احمد ١/٣٠٢، ویأتی عند المؤلف برقم : ٨٤٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 804
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৬
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت ایک لڑکا اور ایک خاتون موجود ہو تو امام کو کس جگہ کھڑا ہونا چاہئے؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور میرے گھر کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، تو آپ نے مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کیا، اور عورت ہمارے پیچھے تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٠٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 805
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْأَنَسٍ، قال: صَلَّى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةُ خَلْفَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৭
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت ایک لڑکا امام کے ساتھ موجود ہو تو کس جگہ امام کو کھڑا ہونا چاہئے؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، رسول اللہ ﷺ رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کرلیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٥٩ (٦٩٩) ، تحفة الأشراف : ٥٥٢٩) ، مسند احمد ١/٣٦٠، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧) ، الوضوء ٥ (١٣٨) ، الأذان ٥٧ (٦٩٧) ، ٧٩ (٧٢٨) ، الوتر ١ (٩٩٢) ، اللباس ٧١ (٥٩١٩) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦١٠) ، مسند احمد ١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٥، سنن الدارمی/الصلاة ٤٣ (١٢٩٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 806
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قال: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ بِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৮
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کے قریب کن لوگ کھڑے ہوں اور ان کے قریب کون ہوں؟
ابومسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں (صف بندی کے وقت) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے، اور فرماتے : تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑجائے، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو (اس وصف میں) ان سے قریب ہو ، ابومسعود (رض) کہتے ہیں : اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٦ (٦٧٤) مختصراً ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤٥ (٩٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٩٤) ، مسند احمد ٤/١٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٢) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٨١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 807
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کے قریب کن لوگ کھڑے ہوں اور ان کے قریب کون ہوں؟
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہوگیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ (سلام پھیر کر) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب (رض) ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا : اے نوجوان ! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے ! حقیقت میں نبی اکرم ﷺ سے ہمارا میثاق (عہد) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا : رب کعبہ کی قسم ! تباہ ہوگئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا : لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا : اے ابو یعقوب ! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب ؟ تو انہوں نے کہا : امراء (حکام) مراد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٢) ، مسند احمد ٥/١٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قال: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَخْبَرَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْقَيْسِ بنِ عُبَادٍ، قال: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: يَا فَتَى لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِوَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّواقُلْتُ: يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا يَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ قَالَ: الْأُمَرَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کے نکلنے سے پہلے صفیں سیدھی کر لینا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلیں درست کرلی گئیں، پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوگئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا : تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو ، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١٧ (٢٧٥) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٥) ، سنن ابی داود/الطہارة ٩٤ (٢٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٠٩) ، مسند احمد ٢/٥١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 809
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ: لَنَا مَكَانَكُمْفَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১১
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کس طریقہ سے صفوں کو درست کرے
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تم اپنی صفیں ضرور درست کرلیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٦) ، سنن ابی داود/الأذان ٩٤ (٦٦٣، ٦٦٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٥٣ (٢٢٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٠ (٩٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٢٠) ، مسند احمد ٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، مطلب ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا جس کی وجہ سے تمہارے اندر تفرق و انتشار عام ہوجائے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے اس کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انہیں بدل اور بگاڑ دے گا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 810
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ فَأَبْصَرَ رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১২
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کس طریقہ سے صفوں کو درست کرے
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ١ ؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے : اختلاف نہ کرو ٢ ؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں ٣ ؎ نیز فرماتے : اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٦) ، مسند احمد ٤/٢٨٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی انہیں درست کرتے ہوئے۔ ٢ ؎: یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو۔ ٣ ؎: یعنی ان میں پھوٹ پڑجائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 811
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৩
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت امام آگے کی جانب بڑھے تو صف کو برابر کرنے کے واسطے کیا کہنا چاہئے؟
ابومسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے ١ ؎ اور فرماتے : صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ٢ ؎ ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہوجائے گا، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں، پھر (اس وصف میں) وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٠٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں درست فرماتے تاکہ کوئی صف سے آگے پیچھے نہ رہے۔ ٢ ؎: اختلاف نہ کرو کا مطلب ہے کسی کا کندھا آگے پیچھے نہ ہو، ورنہ اس کا اثر دلوں پر پڑے گا، اور تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 812
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَيَقُولُ: اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَلْيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৪
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کتنی بار یہ کہے کہ تم لوگ برابر ہوجاؤ؟
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے : برابر ہوجاؤ، برابر ہوجاؤ، برابر ہوجاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٨١) ، مسند احمد ٣/٢٦٨، ٢٨٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 813
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: اسْتَوُوا اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام لوگوں کو صفیں درست کرنے کی توجہ دلائے اور لوگوں کو ملا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کرے
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے : تم اپنی صفیں درست کرلو، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہوجاؤ، ١ ؎ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٥٩٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٧١ (٧١٨) ، ٧٢ (٧١٩) ، ٧٦ (٧٢٥) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٤) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٨٤٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تراص کے معنی اس طرح مل کر کھڑے ہونے کے ہیں جیسے دیوار میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کے ساتھ پیوست ہوتی ہے درمیان میں ذرا سا بھی فاصلہ اور شگاف نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 814
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام لوگوں کو صفیں درست کرنے کی توجہ دلائے اور لوگوں کو ملا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کرے
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کرلو، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں شیاطین کو صف کے درمیان ١ ؎ گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٢) ، مسند احمد ٣/٢٦٠، ٢٨٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ کا صفوں کے درمیان شگافوں میں شیطان کو گھستے ہوئے دیکھنا یا تو حقیقتاً ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو معجزے کے طور پر یہ منظر دکھایا ہو، یا بذریعہ وحی آپ کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو کہ صفوں میں خلا رکھنے سے شیطان خوش ہوتا ہے، اور اسے وسوسہ اندازی کا موقع ملتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 815
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قال حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭
امامت کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام لوگوں کو صفیں درست کرنے کی توجہ دلائے اور لوگوں کو ملا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کرے
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا : کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ، لوگوں نے پوچھا : فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) مطولاً ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٠ (٩٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٧) ، مسند احمد ٥/١٠١، ١٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 816
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْقَالُوا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ. قَالَ: يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ.
তাহকীক: