কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ১৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاخانہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جانے کا بیان
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے شکایت کی گئی کہ آدمی (بسا اوقات) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہوگئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جب تک بو نہ پالے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧) و ٣٤ (١٧٧) مختصرًا، البیوع ٥ (٢٠٥٦) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦١) ، سنن ابی داود/الطہارة ٦٨ (١٧٦) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٤ (٥١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٦) ، مسند احمد ٤/٣٩، ٤٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہوجائے تب نماز توڑے اور جا کر وضو کرے، محض وہم پر نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 160
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قال: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١، (تحفة الأشراف : ١٥٢٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ نہی (ممانعت) اکثر علماء کے نزدیک تنزیہی ہے اور بعض کے نزدیک تحریمی ہے، امام احمد سے منقول ہے کہ اگر رات کو سو کر اٹھے تو کراہت تحریمی ہے اور دن کو سو کر اٹھے تو کراہت تنزیہی، في الإنائ کی قید سے معلوم ہوا کہ نہر، بڑا حوض اور تالاب وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ (الگ) ہیں اور ان میں ہاتھ داخل کرنا جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 161
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونگھ آنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کرلے، ایسا نہ ہو کہ وہ (اونگھ میں) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٦٧٦٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٨ (١٣١٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٦ (٣٥٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧٠) ، موطا امام مالک/صلاة الیل ١ (٣) ، مسند احمد ٦/٥٦، ٢٠٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٧ (١٤٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مصنف نے یہ اخذ کیا ہے کہ اونگھ ناقض وضو نہیں ہے کیونکہ اگر ناقض وضو ہوتی تو آپ ﷺ نماز میں اس ڈر سے منع نہ فرماتے کہ وہ اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو، بلکہ آپ ﷺ یہ کہتے کہ اونگھنے کی حالت میں نماز درست نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 162
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ لَعَلَّهُ يَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لَا يَدْرِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا : ذکر (عضو تناسل) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا : مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا : بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے تو وضو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٧٠ (١٨١) ، سنن الترمذی/فیہ ٦١ (٨٢) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/٦٣ (٤٧٩) مختصرًا، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٥) ، موطا امام مالک/فیہ ١٥ (٥٨) ، مسند احمد ٦/٤٠٦، ٤٠٧، سنن الدارمی/الطہارة ٥٠ (٧٥١، ٧٥٢) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١٦٣، ٤٤٥- ٤٤٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 163
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا : جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے، تو مروان نے کہا : مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اور عضو تناسل چھونے سے (بھی) وضو کیا جائے گا ، عروہ کہتے ہیں : میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، چناچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 164
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِيبُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے سے متعلق
طلق بن علی (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی شکل میں نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص جو دیہاتی لگ رہا تھا آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو نماز میں اپنا عضو تناسل چھو لے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا یا حصہ ہی تو ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٧١ (١٨٢، ١٨٣) ، سنن الترمذی/فیہ ٦٢ (٨٥) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ ٦٤، ٤٨٣، (تحفة الأشراف : ٥٠٢٣) ، مسند احمد ٤/٢٢، ٢٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا اور طلق بن علی (رضی اللہ عنہم) دونوں کی روایتیں بظاہر متعارض ہیں لیکن بسرۃ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح حاصل ہے، اس لیے کہ وہ اثبت اور اصح ہے اور طلق بن علی رضی اللہ عنہم کی روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ پہلے کی ہے اور بسرۃ رضی اللہ عنہا کی روایت بعد کی ہے جیسا کہ ابن حبان اور حازمی نے اس کی تصریح کی ہے، دونوں کے اندر اس طرح بھی تطبیق دی جاتی ہے کہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بغیر کسی پردہ اور آڑ کے چھونے سے متعلق ہے، اور طلق رضی اللہ عنہم کی حدیث کپڑے وغیرہ کے اوپر سے چھونے سے متعلق ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 165
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي رَجُلٍ مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْكَ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے جنازے کی طرح چوڑان میں لیٹی رہتی تھی، یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے پاؤں سے کچوکے لگاتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠٨ (٥١٩) ، صحیح مسلم/صلاة المسافرین ١٧ (٧٤٤) ، سنن ابی داود/فیہ ١١٢ (٧١٢) ، مسند احمد ٦/٤٤، ٥٥، ٢٥٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مصنف نے باب پر حدیث میں وارد لفظ مسني برجله سے استدلال کیا ہے کیونکہ یہ بغیر شہوت کے چھونا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 166
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے، تو میں اسے سمیٹ لیتی، پھر آپ سجدہ کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠٨ (٥١٩) مطولاً ، سنن ابی داود/الصلاة ١١٢ (٧١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٧) ، مسند احمد ٢/٤٤، ٥٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 167
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکے لگاتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٢ (٣٨٢) ، ١٠٤ (٥١٣) ، العمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢) ، سنن ابی داود/فیہ ١١٢ (٧١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١٢) ، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١ (٢) ، مسند احمد ٦/١٤٨، ٢٢٥، ٢٥٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 168
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، وَالْبُيُوتُ يَوْمِئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم ﷺ کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے : أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٦) ، سنن ابی داود/فیہ ١٥٢ (٨٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٠٧) ، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣١) ، (وفیہ انقطاع) ، مسند احمد ٦/٥٨، ٢٠١، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١١٠١، ١١٣١، ٥٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 169
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسہ لینے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس باب میں اس سے اچھی کوئی حدیث نہیں ہے اگرچہ یہ مرسل ہے، اور اس حدیث کو اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے عروہ سے، اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، یحییٰ القطان کہتے ہیں : حبیب کی یہ روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اور حبیب کی تصلى وإن قطر الدم على الحصير مستحاضہ نماز پڑھے گرچہ چٹائی پر خون ٹپکے والی روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے دونوں کچھ نہیں ہیں ٢ ؎، (یعنی دونوں ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث إبراہیم بن یزید الیتمی عن عائشة أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ٦٩ (١٧٨) ، صحیح مسلم/٢١٠، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٥) ، وحدیث عروة المزنی عن عائشة أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ٦٩ (١٧٩) ، سنن الترمذی/الطہارة ٦٣ (٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٩ (٥٠٢) ، مسند احمد ٦/٢١٠، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧١) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ابراہیم تیمی کا سماع ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شہوت کے ساتھ عورت کو چھونے سے بھی وضو نہیں ہے کیونکہ اس کا بوسہ عام طور سے شہوت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ٢ ؎: اس کی وجہ حبیب اور عروہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 170
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، هَذَا وَحَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، تُصَليِّ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ لَا شَيْءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٣ (٣٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٨٢، ٣٥٥٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطھارة ٧٦ (١٩٤) ، سنن الترمذی/الطہارة ٥٨ (٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٥ (٤٨٥) ، مسند احمد ٢/٢٦٥، ٢٧١، ٤٢٧، ٤٥٨، ٤٧٩، ٤٦٩، ٤٧٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث منسوخ ہے، دیکھئیے حدیث رقم : ١٨٢ - ١٨٥۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 171
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧١، (تحفة الأشراف : ١٣٥٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 172
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا، تو انہوں نے کہا : میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧١ (تحفة الأشراف : ١٣٥٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 173
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، قال: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأْتُ مِنْهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُ بِالْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : کیا میں اس کھانے سے وضو کروں جسے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں، محض اس لیے کہ وہ آگ سے پکا ہوا ہے ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے کچھ کنکریاں جمع کیں اور کہا : ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ سے پکی چیزوں سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٤٦١٤) ، مسند احمد ٢/٥٢٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 174
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَلَالًا لِأَنَّ النَّارَ مَسَّتْهُ، فَجَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَصًى، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَدَدَ هَذَا الْحَصَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 175
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
ابوایوب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آگ سے پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٤٦٤) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 176
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال مُحَمَّدٌ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
ابوطلحہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٧٨١) ، مسند احمد ٤/٣٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 177
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قال: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
ابوطلحہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٧٧٨) ، مسند احمد ٤/٢٨، ٣٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 178
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا
زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٣ (٣٥١) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٠٤) ، مسند احمد ٥/١٨٤، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠، ١٩١، ١٩٢، سنن الدارمی/الطہارة ٥١ (٧٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 179
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক: