কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ১৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اضافہ کرنے کی ممانعت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا : اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٥١ (١٣٥) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٤٨ (٤٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٠٩) ، مسند احمد ٢/١٨٠ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 140
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِفَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو پورا کرنا
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا : قسم ہے اللہ کی ! رسول اللہ ﷺ نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں (یعنی بنی ہاشم کو) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ١ ؎ (پہلی یہ کہ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، (دوسری یہ کہ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور (تیسری یہ کہ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٣١ (٨٠٨) مطولاً ، سنن الترمذی/الجہاد ٢٣ (١٧٠١) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٩ (٤٢٦) مختصرًا، (تحفة الأشراف : ٥٧٩١) ، مسند احمد ١/٢٢٥، ٢٣٢، ٢٣٤، ٢٤٩، ٢٥٥، ویأتي عند المؤلف برقم : ٣٦١١، بزیادة في أوّلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ان باتوں کی بنی ہاشم کو زیادہ تاکید فرمائی، ان میں سے پہلی بات تو عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے، اور دوسری بات بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ خاص ہے، جب کہ تیسری بات یعنی گدھوں اور گھوڑیوں کا ملاپ عموماً مکروہ ہے کیونکہ اس سے گھوڑوں کی نسل کم ہوگی حالانکہ ان کی نسل بڑھانی چاہیئے کیونکہ گھوڑے آلات جہاد میں سے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 141
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كُنَّا جُلُوسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، فَإِنَّهُأَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو پورا کرنا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کامل وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 142
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضومکمل کرنے کی فضیلت سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے : ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٤ (٢٥١) ، سنن الترمذی/فیہ ٣٩ (٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٨٧) ، موطا امام مالک/ السفر ١٨ (٥٥) ، مسند احمد ٢/٢٧٧، ٣٠٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان : يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا (آل عمران : 200) میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے، بلکہ اس سے نفس اور بدن کو طاعات سے مربوط کرنا ہے، یا اس سے مراد افضل عمل ہے، یعنی یہ اعمال جہاد کی طرح ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو زیر کرتا ہے، اس وجہ سے اسے رباط کہا گیا ہے جس کے معنی سرحد کی حفاظت و نگہبانی کے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 143
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہوگیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ (رض) کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے : ابوایوب ! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ٢ ؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ؟ ، تو انہوں نے کہا : بھتیجے ! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ ! ایسے ہی ہے نا ؟ انہوں نے کہا : ہاں (ایسے ہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٦٢) ، مسند احمد ٥/٤٢٣، سنن الدارمی/الطہارة ٤٥ (٧٤٤) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” سفیان بن عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : غزوہ سلاسل یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ٨ ھ میں ہوا تھا، یہ کوئی ایسا غزوہ تھا جو عمر بن خطاب (رض) کے زمانہ میں ملک عراق کے اندر ہوا تھا۔ ٢ ؎: چاروں مسجدوں سے مراد مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قباء اور مسجد الاقصیٰ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 144
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ، أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا
عثمان (رض) عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٤ (٢٣١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥٧ (٤٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٨٩) ، مسند احمد ١/٥٧، ٦٦، ٦٩، وانظر ایضا الأرقام : ٨٤، ٨٥، ٨٥٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قال: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا
عثمان (رض) عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢٤ (١٦٠) ، صحیح مسلم/الطہارة ٤ (٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٩٣) ، موطا امام مالک/فیہ ٦ (٢٩) ، مسند احمد ١ (٥٧) وانظر أیضا رقم : ٨٤، ٨٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 146
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنَ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا
عمرو بن عبسہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وضو کا ثواب کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وضو کا ثواب یہ ہے کہ : جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے (زمین) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٠٧٦٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/مسافرین ٥٢ (٨٣٢) ، مسند احمد ٤/١١٢، کلاھما مطولاً لغیر ہذا السیاق (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 147
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ ؟ قَالَ: أَمَّا الْوُضُوءُ، فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ، فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ، فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقُلْتُ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو سے فراغت کے بعد کیا کہنا چاہئے؟
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٢٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٠ (٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٠٩) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ٤١ (٥٥) ، بزیادة ” اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین “ ، وأعادہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة ٣٤ (٨٤) ، سنن ابی داود/فیہ ٦٥ (١٦٩) ، م (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣) من مسند عقبة بن عامر، سنن الدارمی/الطہارة ٤٣ (٧٤٣) مطولاً (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 148
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِّحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے زیور سے متعلق ارشاد رسول ﷺ
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ (رض) کے پیچھے تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے، تو میں نے کہا : ابوہریرہ ! یہ کون سا وضو ہے ؟ انہوں نے مجھ سے کہا : اے بنی فروخ ! تم لوگ یہاں ہو ! ١ ؎ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ٢ ؎، میں نے اپنے خلیل (گہرے دوست) نبی اکرم ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٣ (٢٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٩٨) ، مسند احمد ٢/٣٧١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: فروخ ابراہیم (علیہ السلام) کے لڑکے کا نام تھا جو اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کے بعد پیدا ہوئے، ان کی نسل بہت بڑھی، کہا جاتا ہے کہ عجمی انہیں کی اولاد میں سے ہیں، قاضی عیاض کہتے ہیں، فروخ سے ابوہریرہ کی مراد موالی ہیں اور یہ خطاب ابوحازم کی طرف ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عوام کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اندیشہ ہے کہ وہ اسے فرض سمجھنے لگ جائیں، اس لیے ابوہریرہ (رض) نے یہ بات کہی کہ اگر میں جانتا کہ تم لوگ یہاں موجود ہو تو اس طرح وضو نہ کرتا۔ ٣ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز مومن کے اعضاء وضو میں زیور پہنائے جائیں گے، تو جو کامل وضو کرے گا اس کے زیور بھی کامل ہوں گے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن مسلمان کو زیور اس حد تک پہنایا جائے گا جہاں تک وضو میں پانی پہنچتا ہے یعنی ہاتھوں کا زیور کہنیوں تک، پاؤں کا ٹخنوں تک، اور منہ کا کانوں تک ہوگا۔ واللہ اعلم قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 149
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قال: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْلُغَ إِبْطَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ ؟ فَقَالَ لِي: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَبْلُغُ حِلْيَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے زیور سے متعلق ارشاد رسول ﷺ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا : السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بکم لاحقون مومن قوم کی بستی والو ! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے صحابہ (ساتھی) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ قیامت کے دن (میدان حشر میں) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٢ (٢٤٩) مطولاً ، سنن ابی داود/الجنائز ٨٣ (٣٢٣٧) ، سنن ابن ماجہ/ الزھد ٣٦ (٤٣٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٨٦) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٨) ، مسند احمد ٢/٣٠٠، ٣٧٥، ٤٠٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: پیش رو سے مراد میر سامان ہے جو قافلے میں سب سے پہلے آگے جا کر قافلے کے ٹھہرنے اور ان کی دیگر ضروریات کا انتظام کرتا ہے، یہ امت محمدیہ کا شرف ہے کہ ان کے پیش رو محمد رسول اللہ ﷺ ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 150
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا ؟قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین طریقہ سے وضو کر کے دو رکعات ادا کرنے والے کا اجر؟
عقبہ بن عامر جہنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٢٣٤) مطولاً ، سنن ابی داود/فیہ ٦٥ (١٦٩) مطولاً ، ١٦٢ (٩٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٤) ، مسند احمد ٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 151
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَارَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ١ ؎ آتی تھی، اور نبی اکرم ﷺ کی بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا : تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں وضو ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١٣ (٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٧٨) ، مسند احمد ١/١٢٥، ١٢٩ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مذی وہ لیس دار پتلا پانی ہے جو جماع کی خواہش سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 152
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا : جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو (اس پر کیا ہے ؟ ) تم اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے پوچھو، میں آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کرلیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢٠٨، ٢٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٤١) ، مسند احمد ١/١٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 153
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قُلْتُلِلْمِقْدَادِ: إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ فَأَمْذَى وَلَمْ يُجَامِعْ، فَسَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ وَابْنَتُهُ تَحْتِي، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی (رض) نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ (اس بارے میں) رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں، (چنانچہ انہوں نے پوچھا) تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں وضو کافی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠١٥٦) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے ) قال الشيخ الألباني : منکر بذکر عمار صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 154
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًا، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ عِنْدِي، فَقَالَ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ علی (رض) نے عمار (رض) کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے مذی کے بارے میں سوال کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور وضو کرلیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٥٥٠) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے، کما تقدم ) قال الشيخ الألباني : منکر والمحفوظ أن المأمور المقداد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 155
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
مقداد بن اسود (رض) سے روایت ہے کہ علی (رض) نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے، تو اس پر کیا واجب ہے ؟ (وضو یا غسل) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ ﷺ کی صاحبزادی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں، اس لیے میں (خود) آپ ﷺ سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطھارة ٨٣ (٢٠٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٠ (٥٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٤٤) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٣ (٥٣) ، مسند احمد ٦/٤، ٥ ویأتی عند المؤلف برقم : ٤٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 156
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو مقداد بن اسود (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا : آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں وضو واجب ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٥١ (١٣٢) ، الوضوء ٣٤ (١٧٨) ، صحیح مسلم/الحیض ٤ (٣٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٤) ، مسند احمد ١/٨٠، ٨٢، ١٠٣، ١٢٤، ١٤٠، ولہ طرق أخری عن علی ۔ انظر الأرقام : ٤٣٦-٤٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاخانہ پیشاب نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال (رض) کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا : طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا : کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : دونوں موزوں کے متعلق کہا : جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٦، (تحفة الأشراف : ٤٩٥٢) (حسن ) وضاحت : یعنی اگر جنابت لاحق ہوجائے تو اتارنے ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 158
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَجُلًا يُدْعَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَعَدْتُ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ: عَنِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاخانہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جانے کا بیان
صفوان بن عسال (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم (موزوں کو) تین دن تک نہ اتاریں، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، ١ ؎ لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٦، (تحفة الأشراف : ٤٩٥٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر نہانے کی حاجت ہو تو موزے اتار کر نہائیں، باقی صورتوں میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 159
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: قال صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ.
তাহকীক: