কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ১২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
سعد بن ابی وقاص (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٨ (٢٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٤ (٥٤٦) ، مسند احمد ١/١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 121
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
سعد بن ابی وقاص (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح الاسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 122
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، اور میں نے (اسے) آپ پر ڈالا، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑگیا، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی، ( پھر ہمیں نماز پڑھائی کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٧ (٣٦٣) ، ٢٥ (٣٨٨) مختصراً ، الجہاد ٩٠ (٢٩١٨) ، اللباس ١٠ (٥٧٩٨) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٩ (٣٨٩) ، مسند احمد ٤/ ٢٤٧، ٢٥٠، (تحفة الأشراف : ١١٥٢٨) (صحیح الاسناد) (لیکن ” صلى بنا “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس قصہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف (رض) کے پیچھے صلاة پڑھی تھی ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد م لکن قوله بنا خطأ لأنه صلى الله عليه وسلم کان مقتديا بابن عوف في هذه القصة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 123
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِفَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ بِهِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ١ ؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشراف : ١١٥١٤) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ٧٩ ) وضاحت : ١ ؎: مسلم کی روایت میں حتیٰ فرغ من حاجتہ کے بجائے حین فرغ من حاجتہ ہے یعنی جب آپ ﷺ حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی رو سے حتی کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح حین ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد فتوضأ کا جملہ بےموقع ہوگا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 124
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِفَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جراب اور جوتوں پر مسح سے متعلق
مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٦١ (١٥٩) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٤ (٩٩) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٨ (٥٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٣٤) مسند احمد ٤/٢٥٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم حدثنا وكيع أنبأنا سفيان عن أبي قيس عن هزيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الجوربين والنعلين . قال أبو عبد الرحمن ما نعلم أحدا تابع أبا قيس على هذه الرواية والصحيح عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوران سفر موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا : مغیرہ ! تم پیچھے ہوجاؤ اور لوگو ! تم چلو ، چناچہ میں پیچھے ہوگیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہوگیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشراف : ١١٤٩٥) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ١٠٨ ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، قال: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ وَمَضَى النَّاسُ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ يَدَهُ مِنْهَا فَضَاقَتْ عَلَيْهِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کے لئے موزوں پر مسح کرنے کی مدت کا بیان
صفوان بن عسال (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطہارة ٧١ (٩٦) مطولاً ، الزہد ٥٠ (٢٣٨٧) ببعضہ، الدعوات ٩٩ (٣٥٣٥، ٣٥٣٦) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٣ (٤٧٨) ، الفتن ٣٢ (٤٠٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٥٢) ، مسند احمد ٤/ ٢٣٩، ٢٤٠، ٢٤١، وأعادہ المؤلف بأرقام : ١٥٨، ١٥٩ بزیادة في متنہ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 126
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قال: رَخَّصَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ، أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کے لئے موزوں پر مسح کرنے کی مدت کا بیان
زر کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن عسال (رض) سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا ؟ تو انہوں نے کہا : جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں، اور اسے تین دن تک پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 127
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَان الثَّورِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَزُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: سَأَلْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا وَلَا نَنْزِعَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقیم کے واسطے موزوں پر مسح کرنے کی مدت
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے ١ ؎ یعنی (موزوں پر) مسح کے سلسلے میں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٢٧٦) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٦ (٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٢٦) ، مسند احمد مسند احمد ١/٩٦، ١٠٠، ١١٣، ١١٧، ١٢٠، ١٣٣، ١٣٤، ١٤٦، ١٤٩، ٦/١١٠، سنن الدارمی/الطہارة ٤٢ (٧٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ مدت حدث کے وقت سے معتبر ہوگی نہ کہ موزہ پہننے کے وقت سے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 128
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ يَعْنِي فِي الْمَسْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقیم کے واسطے موزوں پر مسح کرنے کی مدت
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا : علی (رض) سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چناچہ میں علی (رض) کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر : ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ (رض) کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 129
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُعَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ با وضو شخص کس طریقہ سے نیا وضو کرے؟
عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے علی (رض) کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ١ ؎، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ١٦ (٥٦١٥، ٥٦١٦) مختصراً ، سنن ابی داود/فیہ ١٣ (٣٧١٨) ، سنن الترمذی/الشمائل ٣٢ (٢٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٩٣) ، مسند احمد ١/٧٨، ١٢٠، ١٢٣، ١٣٩، ١٤٤، ١٥٣، ١٥٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی باوضو ہو اور نماز کا وقت آجائے، اور وہ ثواب کے لیے تازہ وضو کرنا چاہے تو تھوڑا سا پانی لے کر سارے اعضاء پر مل لے تو کافی ہوگا، پورا وضو کرنا اور ہر عضو کے لیے الگ الگ پانی لینا ضروری نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 130
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قال: سَمِعْتُالنَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَمَسَحَ بِهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا. وَقَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لئے وضو بنانا
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے (اس سے) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں : میں نے پوچھا : کیا نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ١ ؎! اس پر (عمرو بن عامر) نے پوچھا : اور آپ لوگ ؟ کہا : ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا : ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطہارہ ٥٤ (٢١٤) مختصراً ، سنن ابی داود/الطہارة ٦٦ (١٧١) مختصراً ، سنن الترمذی/فیہ ٤٤ (٦٠) مختصراً ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٢ (٥٠٩) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ١١١٠) ، مسند احمد ٣/١٣٢، ١٣٣، ١٥٤، ١٩٤، ٢٦٠، سنن الدارمی/الطہارة ٤٦ (٧٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، اگرچہ کبھی کبھی ایک وضو سے دو اور اس سے زیادہ نمازیں بھی آپ نے پڑھی ہیں، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ انس (رض) نے اپنی معلومات کے مطابق جواب دیا ہو، شاید انہیں اس کا علم نہ رہا ہو کہ آپ نے ایک وضو سے کئی نمازیں بھی پڑھی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأُتِيَ بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَتَوَضَّأَ. قُلْتُ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتُمْ ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ مَا لَمْ نُحْدِثْ، قَالَ: وَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لئے وضو بنانا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا : کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں ؟ آپ ﷺ نے کہا : مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأطعمة ١١ (٣٧٦٠) ، سنن الترمذی/فیہ ٤٠ (١٨٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٩٣) ، مسند احمد ١/٢٨٢، ٣٥٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 132
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيَّوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لئے وضو بنانا
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چناچہ عمر (رض) نے آپ سے کہا : آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ١ ؎؟ فرمایا : عمر ! میں نے اسے عمداً (جان بوجھ کر) کیا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٥ (٢٧٧) مختصراً ، سنن ابی داود/فیہ ٦٦ (١٧٢) مختصراً ، سنن الترمذی/فیہ ٤٥ (٦١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٢ (٥١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٨) ، مسند احمد ٥/٣٥٠، ٣٥١، ٣٥٨، سنن الدارمی/الطہارة ٣ (٢٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ ﷺ عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ٢ ؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہوجائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 133
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے چھڑکنے کا بیان
سفیان ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ ﷺ اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، (خالد بن حارث کہتے ہیں) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی (رض) کے بیٹے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٦٤ (١٦٦، ١٦٧، ١٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٨ (٤٦١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٢٠) ، مسند احمد ٣/٤١٠، ٤/٦٩، ١٧٩، ٢١٢، ٥/٣٨٠، ٤٠٨، ٤٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 134
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ بِهَا هَكَذَا، وَوَصَفَ شُعْبَةُ نَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ، فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَعْجَبَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ السُّنِّيِّ الْحَكَمُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے چھڑکنے کا بیان
حکم بن سفیان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں و نضح فرجه کی جگہ فنضح فرجه ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حکم بن سفیان ان کے نام میں اضطراب ہے، حکم بن سفیان، سفیان بن حکم، ابن ابی سفیان یا أبو الحکم کئی طرح سے آیا ہے، نیز کسی کی روایت میں عن أبيه ہے اور کسی کی روایت میں نہیں ہے، اس لیے ان کی یہ روایت اضطراب کے سبب ضعیف ہے، (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : تحفۃ الأشراف : ٣٤٢٠ ) لیکن ابن ماجہ میں مروی زید اور جابر رضی اللہ عنہم کی روایتوں سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہوجاتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 135
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَأَنْبَأَنَاأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ، قَالَ أَحْمَدُ: فَنَضَحَ فَرْجَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کا بچا ہوا پانی کار آمد کرنا
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا (تو اپنے اعضاء) تین تین بار (دھوئے) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ نے (بھی) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطہارة ٣٤ (٤٤) مختصرًا، وانظر حدیث رقم : ٩٦، ١١٥ (تحفة الأشراف : ١٠٣٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 136
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، وَقَالَ: صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَنَعْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کا بچا ہوا پانی کار آمد کرنا
ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال (رض) نے آپ کے وضو کا پانی (جو برتن میں بچا تھا) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ ﷺ کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٦٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٨١٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٠ (١٨٧) ، الصلاة ١٧ (٣٧٦) ، ٩٣ (٤٩٩) ، ٩٤ (٥٠١) ، المناقب ٢٣ (٣٥٥٣) ، اللباس ٣ (٥٧٨٦) ، ٤٢ (٥٨٥٩) ، مسند احمد ٤/٣٠٧، ٣٠٨، ٣٠٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٤٩) ، وأعادہ المؤلف برقم : ٧٧٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 137
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَونِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَأَخْرَجَ بِلَالٌ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَنِلْتُ مِنْهُ شَيْئًا، وَرَكَزْتُ لَهُ الْعَنَزَةَفَصَلَّى بِالنَّاسِ وَالْحُمُرُ وَالْكِلَابُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کا بچا ہوا پانی کار آمد کرنا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) میری عیادت کے لیے آئے، دونوں نے مجھے بیہوش پایا، تو رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المرضی ٥ (٥٦٥١) مطولاً ، الفرائض ١ (٦٧٢٣) مطولاً ، الاعتصام ٨ (٧٣٠٩) ، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦) مطولاً ، سنن ابی داود/فیہ ٢ (٢٨٨٦) مطولاً ، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧) ، التفسیر ٥ (٣٠١٥) ، سنن ابن ماجہ/الفرائض، الجنائز ١ (١٤٣٦) ، ٥ (٢٧٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٢٨) ، مسند احمد ٣/٣٠٧، سنن الدارمی/الطہارة ٥٦ (٧٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جو پانی وضو سے بچ رہا تھا اسے میرے اوپر ڈالا، یہ تفسیر باب کے مناسب ہے، یا جو پانی وضو میں استعمال ہوا تھا اس کو اکٹھا کر کے ڈالا، ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب ماء مستعمل سے نفع اٹھانا جائز ہے تو بچے ہوئے پانی سے نفع اٹھانا بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 138
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي فَوَجَدَانِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّفَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ وَضُوءَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فرضیت
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٣١ (٥٩) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢ (٢٧١) ، (تحفة الأشراف ١٣٢) ، مسند احمد ٥/٧٤، ٧٥، سنن الدارمی/الطہارة ٢١ (٧١٣) ، ویأتي عندالمؤلف برقم : ٢٥٢٥، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٤) ، عن ابن عمر، مسند احمد ٢/٢٠، ٣٩، ٥١، ٥٧ وغیرہما (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مال غنیمت میں سے چرا کر اگر کوئی صدقہ دے تو وہ صدقہ مقبول نہ ہوگا، یہی حکم ہر مال حرام کا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 139
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ.
তাহকীক: