কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ১০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانوں کے مسح سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ١ ؎، اور اپنا چہرہ دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٧ (١٤٠) ، سنن ابی داود/الطہارة ٥٢ (١٣٧) مطولاً ، سنن الترمذی/الطہارة ٢٨ (٣٦) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٣ (٤٠٣) مختصرًا، ٥٢ (٤٣٩) مختصرًا، (تحفة الأشراف : ٥٩٧٨) ، مسند احمد ١/٢٦٨، ٣٦٥، ٧٠٣، سنن الدارمی/الطہارة ٢٩ (٧٢٣، ٧٢٤) مختصرًا (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ١٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 101
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنُ عَجْلَانَ، يَقُولُ فِي ذَلِكَ: وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانوں کا سر کے ساتھ مسح کرنا اور ان کے سر کے حکم میں شامل ہونے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا، اور کلی کی، اور ناک میں ڈالا، پھر دوسرا چلو لیا، اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ١٠١، (تحفة الأشراف : ٥٩٧٨) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 102
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بِإِبْهَامَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانوں کا سر کے ساتھ مسح کرنا اور ان کے سر کے حکم میں شامل ہونے سے متعلق
عبداللہ صنابحی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے ۔ قتیبہ کی روایت میں عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال کے بجائے عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦ (٢٨٢) ، موطا امام مالک/فیہ ٦ (٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٧٧) ، مسند احمد ٤/٣٤٨، ٣٤٩ (صحیح ) وضاحت : گناہ نکل جاتے ہیں اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں نہ کہ کبائر (گناہ کبیرہ) اس لیے کہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ مصنف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ دونوں کان سر ہی کا حصہ ہیں کیونکہ سر پر مسح کرنے سے دونوں کانوں سے خطاؤں کا نکلنا اسی صورت میں صحیح ہوگا جب وہ سر ہی کا حصہ ہوں، اس باب میں مصنف کو الأذنان من الرأس والی مشہور روایت ذکر کرنی چاہیئے تھی لیکن مصنف نے اس سے صرف نظر کیا کیونکہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حماد کو اس روایت کے سلسلہ میں شک ہے کہ یہ مرفوع ہے یا موقوف، نیز اس کی سند بھی قوی نہیں ہے، گرچہ متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن درجہ کو پہنچ گئی ہے، مصنف کا اس روایت سے اعراض کر کے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کرنا ان کی دقت نظری کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 103
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجْتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ. قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح سے متعلق
بلال (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٥) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٥ (١٠١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٩ (٥٦١) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٤٧) ، مسند احمد ٦/١٢، ١٣، ١٤، ١٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث میں لفظ خمار آیا ہے اس سے مراد پگڑی ہی ہے، اس لیے کہ خمار کے معنی ہیں جس سے سر ڈھانپا جائے اور مرد اپنا سر پگڑی ہی سے ڈھانپتا ہے لہٰذا یہاں پگڑی ہی مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 104
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْبِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح سے متعلق
بلال (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، مسند احمد ٦/١٥، (تحفة الأشراف : ٢٠٣٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 105
وأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، عَنْ طَلْقِ بْنِ غَنَّامٍ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْالْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح سے متعلق
بلال (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پگڑی اور چمڑے کے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ٢٠٤٣) ، مسند احمد ٦/١٣، ١٤، ١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 106
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمْسَحُ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشانی اور عمامے پر مسح کرنے کے متعلق
مغیرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو آپ ﷺ نے اپنی پیشانی، پگڑی اور چمڑے کے موزوں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٤) ، سنن ابی داود/فیہ ٥٩ (١٥٠، ١٥١) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٥ (١٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٤) ، مسند احمد ٤/٢٥٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 107
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ وَعِمَامَتَهُ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشانی اور عمامے پر مسح کرنے کے متعلق
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (کسی سفر میں) لشکر سے پیچھے ہوگئے، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہوگیا، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا : کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہوگئی، تو آپ نے (ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد) اسے (آستین کو) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٣ (١٢٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٥) ، موطا امام مالک/الطہارة ٨ (٤٢) ، مسند احمد ٤/٢٤٨، ٢٥١، سنن الدارمی/الصلاة ٨١ (١٣٧٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 108
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح کرنے کی کیفیت
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں : دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، (پہلی چیز یہ ہے کہ) ایک سفر میں ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، (دوسری چیز) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا، اور نبی اکرم ﷺ رکے رہ گئے، چناچہ لوگوں نے نماز کھڑی کردی اور ابن عوف (رض) کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اور ابن عوف (رض) کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف (رض) نے سلام پھیرا تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہوگئی تھی اسے پوری کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٥٢١) بھذا الإسناد، وأما بغیر ھذا الإسناد، ومطولا ومختصرا فقد أخرجہ کل من : صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٨٢) ، و ٤٨ (٢٠٣) ، الصلاة ٧ (٣٦٣) ، الجہاد ٩٠ (٢٩١٨) ، المغازي ٨١ (٤٤٢١) ، اللباس ١٠ (٥٧٩٨) ، ١١ (٥٧٩٩) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢، (٢٧٤) ، سنن ابی داود/فیہ ٥٩ (١٤٩) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٢ (٩٧) ، ٧٥ (١٠٠) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٤ (٥٤٥) ، موطا امام مالک/فیہ ٨ (٤١) ، مسند احمد ٤/٢٤٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٧، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٥٠، ٢٥١، ٢٥٢، ٢٥٣، ٢٥٥، سنن الدارمی/الطہارة ٤١ (٧٤٠) ، وتقدم عند المؤلف (بأرقام : ٧٩، ٨٢، ١٠٧، ١٠٨) ، ویأتي عندہ (برقم : ١٢٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 109
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کے واجب ہونے کے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : (وضو میں) ایڑی دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢٩ (١٦٥) ، صحیح مسلم/الطہارة ٩ (٢٤٢) ، قد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ٣١ (٤١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥٥ (٤٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٨١) ، مسند احمد ٢/٢٣١، ٢٨٢، ٢٨٤، ٣٨٩، ٤٠٦، ٤٠٩، ٤٣٠، ٤٧١، ٤٨٢، ٤٩٧، ٤٩٨، سنن الدارمی/الطہارة ٣٥ (٧٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو پاؤں کے مسح کو کافی سمجھتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 110
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قال أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کے واجب ہونے کے متعلق
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں (خشک ہونے کی وجہ سے) چمک رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے، وضو کامل طریقہ سے کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٩ (٢٤١) ، سنن ابی داود/فیہ ٤٦ (٩٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥٥ (٤٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٣٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العلم ٣ (٦٠) ، و ٣٠ (٩٦) ، الوضوء ٢٧ (١٦٣) ، مسند احمد ٢/١٦٤، ١٩٣، ٢٠١، ٢٠٥، ٢١١، ٢٢٦، سنن الدارمی/الطہارة ٣٥ (٧٣٣) ، ویأتي عندالمؤلف برقم : ١٤٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 111
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَرَأَى أَعْقَابَهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ: وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں کون سے پاؤں کو پہلے دھونا چاہئے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے وضو کرنے میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھی کرنے میں طاقت بھر داہنی جانب کو پسند کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں : پھر میں نے اشعث سے مقام واسط میں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ اپنے تمام امور کو داہنے سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، پھر میں نے کوفہ میں انہیں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حتیٰ المقدور داہنے سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٨) ، الصلاة ٤٧ (٤٢٦) ، الأطعمة ٥ (٥٣٨٠) ، اللباس ٣٨ (٥٨٥٤) ، و ٧٧ (٥٩٢٦) ، صحیح مسلم/الطہارة ١٩ (٢٦٨) ، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٤٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣١٦ (٦٠٨) ، ١٠ (٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٢ (٤٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٥٧) ، مسند احمد ٦/٩٤، ١٣٠، ١٤٧، ١٨٧، ١٨٨، ٢٠٢، ٢١٠، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٢١، ٥٠٦٢، ٥٢٤٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شعبہ کے اس قول کا ماحصل یہ ہے کہ میں نے اس روایت کو اشعث سے درج ذیل تینوں طرح سے سنا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 112
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الأَشْعَثُ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَذَكَرَتْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَتَرَجُّلِهِ. قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ بِوَاسِطٍ، يَقُولُ: يَحِبُّ التَّيَامُنَ، فَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ. ثُمَّ سَمِعْتُهُ بِالْكُوفَةِ، يَقُولُ: يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دونوں پاؤں کو ہاتھوں سے دھونے سے متعلق
عمارہ کہتے ہیں : مجھ سے قیسی (رض) نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ١ ؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٦٤٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ‘’ عمارہ بن عثمان بن حنیف “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: حدیث میں فقال على يديه وارد ہے عرب قول کو مختلف افعال و اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً قال بيده سے لیا قال برجله سے چلا اور قالت له العينان سے اشارہ کیا مراد لیتے ہیں، اسی طرح قال على يديه من الإنائ سے برتن سے پانی دونوں ہاتھوں پر انڈیلا مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ يَعْنِي عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍفَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَيْهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کے درمیان خلال کرنے سے متعلق
لقیط بن صبرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشراف : ١١١٧٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ٨٧ ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 114
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، ح وَأَنْبَأَنَامُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ پاؤں دھونا چاہئے
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا : یہی رسول اللہ ﷺ کا وضو ہے۔ تخریج دارالدعوہ : (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٢١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّاتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھونے کی حد سے متعلق
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان (رض) عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ٨٤، ٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہاتھ کہنی تک اور پیر ٹخنے تک دھویا جائے، اور سر کے مسح کے علاوہ سارے اعضاء تین تین بار دھوئے جائیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْيُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا. ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توں میں وضو سے متعلق یعنی جوتے پہن کر وضو کرنا؟
عبید بن جریج کہتے ہیں : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں ؟ ١ ؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٠ (١٦٦) مطولاً ، اللباس ٣٧ (٥٨٥١) مطولاً ، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧) ، سنن ابی داود/الحج ٢١ (١٧٧٢) مطولاً ، سنن الترمذی/الشمائل ١٠ (٧٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٦) ، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣١) ، مسند احمد ٢/١٧، ٦٦، ١١٠، ١٣٨ (تحفة الأشراف : ٧٣١٦) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ٢٧٦١، ٢٩٥٣، ٥٢٤٥ ) وضاحت : ١ ؎: یہاں وضو سے مراد پاؤں دھونا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَمَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا : کیا آپ مسح کرتے ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسح کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٥ (٣٨٧) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٢) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٠ (٩٣) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٤ (٥٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٣٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/فیہ ٥٩ (١٥٤) ، مسند احمد ٤/٣٥٨، ٣٦١، ٣٦٤، ویأتي عند المؤلف برقم : ٧٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 118
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَمْسَحُ ؟ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ، وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ قَوْلُ جَرِيرٍ، وَكَانَ إِسْلَامُ جَرِيرٍ قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
عمرو بن امیہ ضمری (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٨ (٢٠٤، ٢٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٩ (٥٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠١) ، مسند احمد ٤/١٣٩، ١٧٩، و ٥/٢٨٧، ٢٨٨، سنن الدارمی/الطہارة ٣٨ (٧٣٧) ، بزیادة ” العمامة “ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 119
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے سے متعلق
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور بلال (رض) اسواف ١ ؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ (رض) کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال (رض) سے دریافت کیا : آپ ﷺ نے کیا کیا ؟ بلال (رض) نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا، چناچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٠٣٠) (حسن صحیح) (صحیح موارد الظمآن ١٥١ ) وضاحت : ١ ؎: اسواف حرم مدینہ کو کہتے ہیں۔ اور مدینہ میں ایک مقام کا نام بھی اسواف ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 120
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ الْأَسْوَاقَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا: مَا صَنَعَ ؟ فَقَالَ بِلَالٌ: ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ صَلَّى.
তাহকীক: