কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ২৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کی اجازت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، (کبھی) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی، یہاں تک کہ آپ ﷺ فرماتے : میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی : میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٦٩) ، مسند احمد ٦/٩١، ١٠٣، ١١٨، ١٢٣، ١٦١، ١٧١، ١٧٢، ١٩٣، ٢٣٥، ٢٦٥، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 239
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْعَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءِ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، حَتَّى يَقُولَ: دَعِي لِي، وَأَقُولُ أَنَا: دَعْ لِي. قَالَ سُوَيْدٌ: يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، فَأَقُولُ: دَعْ لِي، دَعْ لِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک پیالہ سے غسل کرے کا بیان
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نے ایک ہی برتن سے غسل کیا، ایک ٹب سے جس میں گندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٥ (٣٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠١٢) ، مسند احمد ٦/٣٤٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْأُمِّ هَانِئٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاغْتَسَلَ هُوَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس وقت کوئی خاتون غسل جنابت کرے تو اس کو اپنے سر کی چوٹی کھولنا لازم نہیں
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کی چوٹی مضبوط باندھتی ہوں، تو کیا اسے غسل جنابت کے وقت کھولوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣٠) ، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٠ (٢٥١) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٧ (١٠٥) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٠٨ (٦٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٧٢) ، مسند احمد ٦/٢٨٩، ٣١٥، سنن الدارمی/الطھارة ١١٥ (١١٩٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 241
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهَا عِنْدَ غَسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى جَسَدِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر حائضہ عورت احرام باندھنے کا ارادہ کرے اور اس کے لئے وہ غسل کرے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہوگئی، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کرسکی، نہ صفا ومروہ کے بیچ سعی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اپنا سر کھول لو، کنگھی کرلو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرہ چھوڑ دو ، چناچہ میں نے (ایسا ہی) کیا، تو جب ہم نے حج پورا کرلیا، تو آپ ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر (رض) کے ساتھ تنعیم بھیجا (وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور) میں نے عمرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے (جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا) ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی (رح)) کہتے ہیں : ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث مالک عن بن شہاب أخرجہ، صحیح البخاری/١٨ (٣١٩) ، الحج ٣١ (١٥٥٦) ، ٧٧ (١٦٣٨) ، المغازي ٧٧ (٤٣٩٥) ، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١) ، سنن ابی داود/فیہ ٢٣ (١٧٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩١) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٨ (٣٠٠٠) ، موطا امام مالک/ الحج ٧٤ (٢٢٣) ، مسند احمد ٦/ ٨٦، ١٦٤، ١٦٨، ١٦٩، ٧٧ ا، ١٩١، ٢٤٦، وحدیث مالک عن ہشام بن عروة، تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٧١٧٥) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٢٧٦٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 242
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، وَهِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ حَدَّثَاهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ إِلَّا أَشْهَبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص برتن میں ہاتھ ڈالنے سے قبل ہاتھ کو پاک کرے
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہوجاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے، پھر تین بار کلی کرتے، اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر (پانی) بہاتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٧٧٣٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٨) ، ١٥ (٢٧٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦) ، سنن ابی داود/الطھارة ٩٨ (٢٤٢) ، سنن الترمذی/الطھارة ٧٦ (١٠٣) ، مسند احمد ٦/ ٩٦، ١١٥، ١٤٣، ١٦١، ١٧٣، موطا امام مالک/الطھارة ١٧ (٦٧) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 243
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَإِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وُضِعَ لَهُ الْإِنَاءُ، فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، حَتَّى إِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ صَبَّ بِالْيُمْنَى وَغَسَلَ فَرْجَهُ بِالْيُسْرَى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ صَبَّ بِالْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ کو کتنی بار دھونا چاہیے؟
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٣٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 244
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قال: سَأَلْتُعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دونوں ہاتھوں کو دھونے کے بعد جسم کی ناپاکی کو زائل کرنے کا بیان
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (پانی کا) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے، اور انہیں دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، پھر ناک میں پانی ڈالتے، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٤، (تحفة الأشراف : ١٧٧٣٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 245
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قال: أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَيَغْسِلُهُمَا، ثُمَّ يَصُبُّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ مَا عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دونوں ہاتھوں کو دھونے کے بعد جسم کی ناپاکی کو زائل کرنے کا بیان
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، کہتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے، عمر بن عبید کہتے ہیں : میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے (عطا بن سائب) کہا : آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے، پھر تین بار کلی کرتے، تین بار ناک میں پانی ڈالتے، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٤، (تحفة الأشراف : ١٧٧٣٧) (صحیح الاسناد ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہاتھ دو بار دھوئے، ایک تو شروع میں دوسرے نجاست صاف کرنے کے بعد۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 246
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَتْ: كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، قَالَ عُمَرُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرنے سے قبل وضو کرنے کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٧١٦٤) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٧ (٦٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 247
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَإِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ الْمَاءَ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ كُلِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص کے سر کے بالوں میں خلال کرنے سے متعلق
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ (پانی) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٧٣٣١) ، مسند احمد ٦/٥٢، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 248
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ كَانَيَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص کے سر کے بالوں میں خلال کرنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٦٩٣٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ٧٦ (١٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 249
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَيُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے واسطے کس قدر پانی غسل کے لئے بہانا کافی ہے؟
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا : میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٤ (٢٥٤) مختصرًا، صحیح مسلم/الحیض ١١ (٣٢٧) ، سنن ابی داود/الطھارة ٩٨ (٢٣٩) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩٥ (٥٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٣١٨٦) ، صحیح مسلم/٨١، ٨٤، ٨٥، ویأتي عندالمؤلف برقم : ٤٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 250
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قال: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنِّي لَأَغْسِلُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (عورت) حیض سے فراغت کے بعد کس طریقہ سے غسل کرے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا : (غسل کے بعد) مشک لگا ہوا (روئی کا) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ، (عورت بولی) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے اس طرح پردہ کرلیا (یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کرلی) پھر فرمایا : سبحان اللہ ! اس سے پاکی حاصل کرو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا، اور (چپکے سے اس کے کان میں) کہا : اسے خون کے نشان پر پھیرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ١٣ (٣١٤) ، ١٤ (٣١٥) ، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٧) ، صحیح مسلم/الحیض ١٣ (٣٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٥٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطھارة ١٢٢ (٣١٤) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢٤ (٦٣٢) ، مسند احمد ٦/١٢٢، سنن الدارمی/الطھارة ٨٤، ٨٠٠، ویاتٔي عند المؤلف برقم : ٤٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تاکہ بدبو چلی جائے، یہ حکم استحبابی ہے اگر مشک نہ ملے تو اور خوشبو استعمال کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 251
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَخْبَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَ: خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: وَكَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ فَاسْتَتَرَ كَذَا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَذَبْتُ الْمَرْأَةَ، وَقُلْتُ: تَتَّبِعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل سے فراغت کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث الحسن بن صالح عن أبی إسحاق تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٦٠١٩) ، مسند احمد ٦/٢٣٥، حدیث شریک بن عبداللہ، عن أبی إسحاق قد أخرجہ : سنن الترمذی/فیہ ٧٩ (١٠٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩٦ (٥٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٢٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطھارة ٩٩ (٢٥٠) ، مسند احمد ٦/٦٨، ١١٩، ١٥٤، ١٩٢، ٢٥٣، ٢٥٨، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٣٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: غسل سے غسل جنابت مراد ہے کیونکہ ابن ماجہ کی روایت لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 252
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَاعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس جگہ غسل جنابت کرے تو پاؤں جگہ بدل کر دوسری جگہ دھوئے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ ﷺ نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٩) ، ٥ (٢٥٧) ، ٧ (٢٥٩) ، ٨ (٢٦٠) ، ١٠ (٢٦٥) ، ١١ (٢٦٦) ، ١٦ (٢٧٤) ، ١٨ (٢٧٦) ، ٢١ (٢٨١) ، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٧) ، سنن ابی داود/الطھارة ٩٨ (٢٤٥) ، سنن الترمذی/فیہ ٧٦ (١٠٣) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩٤ (٥٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٤) ، مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦) ، سنن الدارمی/الطہارة ٤٠ (٧٣٨) ، ٦٧ (٧٧٤) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٠٨، ٤١٨، ٤١٩، ٤٢٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 253
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قالت: أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِفَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الْإِنَاءِ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل سے فارغ ہونے کے بعد اعضاء کو کپڑے سے نہ خشک کرنا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غسل کیا، تو آپ کے لیے تولیہ لایا گیا تو آپ نے اسے نہیں چھوا ١ ؎ اور پانی کو ہاتھ سے پونچھ کر اس طرح جھاڑنے لگے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ٦٣٥١) (صحیح): یقول المزی : المحفوظ حدیث ابن عباس، عن میمونة (وحدیث میمونة قد تقدم برقم : ٢٤٥ ) وضاحت : ١ ؎: ممکن ہے آپ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو، یا تولیہ صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن پوچھنے کو ناپسند کیا ہو، لہٰذا یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں ہے : كان للنبي رسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوئ اور معاذ (رض) کی روایت کے بھی منافی نہیں جس میں ہے : رأيت رسول الله رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ مسح وجهه بطرف ثوبه اگرچہ ان دونوں حدیثوں میں کلام ہے لیکن ایک دوسرے سے تقویت پا رہی ہیں۔ ٢ ؎: اس سے ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے کا جواز ثابت ہوا، اور جس روایت میں ہاتھ سے پانی جھاڑنے کی ممانعت آئی ہے وہ ضعیف ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 254
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْكُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاغْتَسَلَ فَأُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ بِالْمَاءِ هَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص کھانا کھانے کا ارادہ کرے اور غسل نہ کرسکے تو وضو کرلینا چاہئے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (اور عمرو کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٥) ، سنن ابی داود/الطھارة ٨٩ (٢٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٣ (٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٢٦) ، مسند احمد ٦/١٢٦، ١٤٣، ١٩١، ١٩٢، ٢٣٥، ٢٦٠، ٢٧٣، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٤) ، الأطمة ٣٦ (٢١٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 255
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَمْرٌو: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ. زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جنبی شخص کھانا کھانا چاہے اور صرف اس وقت ہاتھ ہی دھو لے تو کافی ہے اس کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٥) ، سنن ابی داود/الطھارة ٨٨ (٢٢٣) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩٩ (٥٨٤) ، ١٠٤ (٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٦٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ٢٥ (٢٨٦) ، ٢٧ (٢٨٨) ، مسند احمد ٦/٣٦، ١٠٢، ٢٠٠، ٢٧٩، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٤) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٢٥٨، ٢٥٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کبھی تو بیان جواز کے لیے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے اور کبھی مکمل وضو کرتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص جس وقت کھانے پینے کا ارادہ کرے تو ہاتھ دھونا کافی ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر کھاتے یا پیتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ١٧٧٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 257
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ، قَالَتْ: غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر سونے لگے تو وضو کرے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٥٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 258
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ.
তাহকীক: