কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ২২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استخاضہ اور حیض کے خون کے درمیان فرق سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش (فاطمہ بنت ابوحبیش) رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٦٩٥٦) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٦٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 219
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ خَالِدٌ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ: وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں گھس کر غسل کرنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی ہونے کی حالت میں غسل نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٢٩ (٢٨٣) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٠٩ (٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٣٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٣٣٢، ٣٩٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 220
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کے بعد غسل کرنا ممنوع ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر یہ کہ اسی سے غسل بھی کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٣٣٩٢) ، مسند احمد ٢/٣٩٤، ٤٦٤ ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٩٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ ٹھہرا ہوا پانی اگر تھوڑا ہے تو پیشاب کرنے سے نجس (ناپاک) ہوجائے گا، اور اگر زیادہ ہے تو نجس (ناپاک) تو نہیں ہوگا لیکن پانی خراب ہوجائے گا، اور اس کے پینے سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا، اس لیے اگر پانی تھوڑا ہو تو نہی تحریمی ہے اور زیادہ ہو تو تنزیہی۔ یعنی تھوڑے پانی میں پیشاب کے ممانعت کا مطلب اس فعل کا حرام ہونا ہے، اور زیادہ پانی ہو تو اس ممانعت کا مطلب نزاہیت و صفائی و ستھرائی مطلوب ہے، حرمت نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 221
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے شروع حصہ میں غسل کرنا
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ رات کے کس حصہ میں غسل کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : کبھی آپ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کیا، اور کبھی آخری حصہ میں کیا، میں نے کہا : شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے معاملہ میں وسعت اور گنجائش رکھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطھارة ٩٠ (٢٢٦) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٧٩ (١٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٢٩) ، مسند احمد ٦/١٣٨، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 222
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَغْتَسِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ آخِرَهُ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے ابتدائی یا آخری حصہ میں غسل کیا جا سکتا ہے؟
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں ؟ تو انہوں نے کہا : دونوں وقتوں میں کرتے تھے، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں، میں نے کہا : شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٢٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 223
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا، قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے وقت پردہ یا آڑ کرنے سے متعلق
ابو سمح (ایاد) (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، تو جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے : میری طرف اپنی گدی کرلو تو میں اپنی گدی آپ ﷺ کی طرف کر کے آپ کو آڑ کرلیتا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطھارة ١٣٧ (٣٧٦) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٦) ، ١١٣ (٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 224
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، فَأَسْتُرُهُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے وقت پردہ یا آڑ کرنے سے متعلق
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں، تو آپ ﷺ انہیں غسل کرتے ہوئے ملے، فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے آڑ کیے ہوئے تھیں، (ام ہانی کہتی ہیں) میں نے سلام کیا ١ ؎، تو آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : ام ہانی ہوں، تو جب آپ غسل سے فارغ ہوئے، تو کھڑے ہوئے اور ایک ہی کپڑے میں جسے آپ لپیٹے ہوئے تھے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠) ، الصلاة ٤ (٣٥٧) مطولاً ، الجزیة ٩ (٣١٧١) مطولاً ، المغازي ٥٠ (٤٢٩٢) ، الأدب ٩٤ (٦١٥٨) ، صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦) ، المسافرین ١٣ (٣٣٦) ، سنن الترمذی/السیر ٢٦ (١٥٧٩) ، الاستئذان ٣٤ (٢٧٣٤) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٩ (٤٦٥) مختصرًا، (تحفة الأشراف : ١٨٠١٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٠١ (١٢٩٠) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٧) ، مسند احمد ٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣، ٤٢٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے جو غسل کر رہا ہو اسے سلام کرنے کا جواز ثابت ہوا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 225
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْهُيَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمَتْ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی کس قدر مقدار سے غسل کیا جا سکتا ہے؟
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ مجاہد کے پاس ایک برتن لایا گیا، میں نے اس میں آٹھ رطل پانی کی سمائی کا اندازہ کیا، تو مجاہد نے کہا : مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسی قدر پانی سے غسل فرماتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨١) ، مسند احمد ٦/٥١ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 226
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، قال: أُتِيَ مُجَاهِدٌ بِقَدَحٍ حَزَرْتُهُ ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَيَغْتَسِلُ بِمِثْلِ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی کس قدر مقدار سے غسل کیا جا سکتا ہے؟
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان کے رضائی بھائی بھی آئے، تو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کے غسل کے متعلق پوچھا ؟ ، تو آپ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن منگایا جس میں ایک صاع کے بقدر پانی تھا، پھر ایک پردہ ڈال کر غسل کیا، اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٣ (٢٥١) ، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٩٢) ، مسند احمد ٦/٧١، ٧٢، ١٤٣، ١٤٤، ١٧٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 227
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَدَعَتْ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرَ صَاعٍ، فَسَتَرَتْ سِتْرًا فَاغْتَسَلَتْ، فَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی کس قدر مقدار سے غسل کیا جا سکتا ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قدح (ٹب) سے غسل کرتے تھے، اور اس کا ١ ؎ نام فرق ہے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٢، (تحفة الأشراف : ١٦٥٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایک پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل پانی آتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 228
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ، وَهُوَ الْفَرَقُ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی کس قدر مقدار سے غسل کیا جا سکتا ہے؟
عبداللہ بن جبر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ایک مکوک سے وضو کرتے اور پانچ مکاکی سے غسل کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٣، ویأتی برقم : ٣٤٦، (تحفة الأشراف : ٩٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مکاکی، مکوک کی جمع ہے جو اصل میں مکاکک ہے، اس کا کاف یا سے بدل دیا گیا ہے، یہ ایک پیمانہ کا نام ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے معنی مد کے ہیں، اور کچھ لوگوں کے نزدیک اس سے مراد صاع ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 229
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی کس قدر مقدار سے غسل کیا جا سکتا ہے؟
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے، جابر (رض) نے کہا : غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے، اس پر ہم نے کہا : ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہوگا، تو جابر (رض) نے کہا : اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ١ ؎ جو تم سے زیادہ اچھے، اور زیادہ بالوں والے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٣ (٢٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مراد نبی اکرم ﷺ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 230
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قال: تَمَارَيْنَا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ: يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ مِنْ مَاءٍ، قُلْنَا: مَا يَكْفِي صَاعٌ وَلَا صَاعَانِ، قَالَ جَابِرٌ: قَدْ كَانَ يَكْفِي مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ وَأَكْثَرَ شَعْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے واسطے پانی کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور وہ فرق کے بقدر ہوتا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٦٥٣٣، ١٦٦٦٦) ، من طریق معمر وحدہ، مسند احمد ٦/١٢٧، ١٧٣، ومن طریق معمر وابن جریج مقرونین، مسند احمد ٦/١٩٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: فرق ایک پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل کی سمائی ہوتی ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ١٢ مد یا تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 231
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ قَدْرُ الْفَرَقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور میں (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم دونوں اس سے لپ سے ایک ساتھ پانی لیتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٦٩٧٦، ١٧١٧٤) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٧ (٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح خ م دون الاغتراف واللفظ لقتيبة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 232
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٩ (٢٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٧١٤٩٣) ، مسند احمد ٦/١٧٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 233
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے (پانی کے) برتن کے سلسلہ میں جھگڑ رہی ہوں (میں اپنی طرف برتن کھینچ رہی ہوں اور آپ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں) میں اور آپ (ہم دونوں) اسی سے غسل کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٥ (٢٩٩) مطولاً ، سنن ابی داود/الطہارة ٣٩ (٧٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٨٣) ، مسند احمد ٦/١٨٩، ١٩١، ١٩٢، ٢١٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 234
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِيأُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ (دونوں) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : أنظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 235
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٢) ، سنن الترمذی/الطھارة ٤٦ (٦٢) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٥ (٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٧) ، مسند احمد ٦/٣٢٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 236
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، أَنَّهَا كَانَتْتَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرسکتا ہے
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ناعم نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ کیا بیوی شوہر کے ساتھ غسل کرسکتی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، جب سلیقہ مند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ ہم ایک لگن سے غسل کرتے تھے، ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے یہاں تک کہ انہیں صاف کرلیتے، پھر اپنے بدن پر پانی بہاتے۔ اعرج (كيّسة کی تفسیر کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ سلیقہ مند وہ ہے جو نہ تو شوہر کے ساتھ غسل کرتے وقت شرمگاہ کا خیال ذہن میں لائے، اور نہ بیوقوفی (پھوہڑپن) کا مظاہرہ کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٨٢١٥) ، مسند احمد ٦/٣٢٣ (صحیح الاسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 237
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَاعِمٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ ؟ قالت: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةًرَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهُمَا، ثُمَّ نُفِيضَ عَلَيْهَا الْمَاءَ. قَالَ الْأَعْرَجُ: لَا تَذْكُرُ فَرْجًا وَلَا تَبَالَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی شخص کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ (رض) کی طرح چار سال رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا تھا، اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ١ ؎، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ٢ ؎، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطھارة ١٥ (٢٨) ، ٤٠ (٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٥٤، ١٥٥٥٥) ، مسند احمد ٤/١١٠، ١١١، ٥/٣٦٩ و یأتي عند المؤلف برقم : ٥٠٥٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ترفّہ اور تنعم کے قبیل کی ہیں، اس لیے ان سے بچنا چاہیئے اور اگر ضرورت اس کی متقاضی ہو تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابوقتادہ کی روایت ہے کہ ان کے بال بہت گھنے تھے، تو نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے پوچھا، تو انہیں روزانہ اپنے بالوں کو سنوارنے اور کنگھی کرنے کا حکم دیا۔ ٢ ؎: یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ خود نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، نیز دیکھیں حدیث ما بعد۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 238
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا.
তাহকীক: