কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫১১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
سعد بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد ﷺ سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا : جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے ۔ عثمان کہتے ہیں : میں سعد (رض) سے یہ حدیث سن کر ابوبکرہ (رض) سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا : میرے کانوں نے محمد ﷺ سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں : اس پر میں نے کہا : ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں ؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی سعد بن مالک (رض) اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا : قسم اللہ کی ! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا حدثنا وحدثني کہنا (مجھے بہت پسند ہے) ۔ ابوعلی کہتے ہیں : میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے : میں نے احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا (کیونکہ وہ اسانید کو صحیح طریقہ پر بیان نہیں کرتے، اور اخبار و تحدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے) اور کہا : میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی (اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتادینے کا تھا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٥٦ (٤٣٢٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٧ (٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٦ (٢٦١٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٠٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٦٩، ١٧٤، ١٧٩، ٥/٣٨، ٤٦) ، سنن الدارمی/السیر ٨٣ (٢٥٧٢) ، الفرائض ٢ (٢٩٠٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 5113 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ، قال: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عُثْمَانَ، لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ أَيُّمَا رَجُلَيْنِ ؟ فَقَالَ: أَمَّا أَحَدُهُمَا: فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَالْآخَرُ: قَدِمَ مِنْ الطَّائِفِ فِي بِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، فَذَكَرَ فَضْلًا، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: حَيْثُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: وَاللَّهِ إِنَّهُ عِنْدِي أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَعْنِي قَوْلَهُ: حَدَّثَنَا، وَحَدَّثَنِي، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ، يَقُولُ: لَيْسَ لِحَدِيثِ أَهْلِ الْكُوفَةِ نُورٌ، قَالَ: وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانُوا تَعَلَّمُوهُ مِنْ شُعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے مولیٰ (آقا) کی اجازت ١ ؎ کے بغیر کسی قوم کو اپنا مولیٰ (آقا) بنائے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام ہی لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ ہی کوئی نفل قبول ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ٤ (١٥٠٨) ، الحج ٨٥ (١٣٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٩٨، ٤١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : من غير إذن مواليه کی قید زیادہ تقبیح کے لئے ہے اگر موالی اس کی اجازت دیں تو بھی غیر کو اپنا مولیٰ بنانا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 5114 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ (آقا) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5115 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ وَنَحْنُ بِبَيْرُوتَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حسب ونسب پر تفاخر جائز نہیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کردیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ١ ؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کرلے جاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المناقب ٧٥ (٣٩٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٣٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اصلاً تم سب ایک ہو پھر ایک دوسرے پر فخر کرنا کیسا۔
حدیث نمبر: 5116 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ: مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ: أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ، إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتِنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٣٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تو جس طرح دم پکڑ کر اونٹ کا نکالنا ممکن نہیں ہے ایسے ہی متعصب شخص کا جہنم سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔
حدیث نمبر: 5117 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رُدِّيَ فَهُوَ يُنْزَعُ بِذَنَبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5118 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اللہ کے رسول : عصبیت کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو ، اور ان کی مدد کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ٧ (٣٩٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کی راویہ بنت واثلہ مجہول اور سلمہ لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 5119 حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟، قَالَ: أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا : تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٨١٧) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا کہ ایوب بن سوید ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5120 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣١٨٨) (ضعیف) (عبداللہ بن ابی سلیمان کا سماع جبیر بن مطعم سے نہیں ہے )
حدیث نمبر: 5121 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩١٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 5122 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصبیت بالکل حرام ہے
ابوعقبہ (رض) سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا : یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ١ ؎ (میری آواز سن کر) رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا : ایسا کیوں نہ کہا ؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٣ (٢٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٥) (ضعیف) اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔ ٢ ؎ : کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5123 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَهَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والے کا محبوب سے کہنا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں
مقدام بن معد یکرب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الزہد ٥٣ (٢٣٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5124 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ وَقَدْ كَانَ أَدْرَكَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محبت کرنے والے کا محبوب سے کہنا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا : تم نے اسے یہ بات بتادی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اسے بتادو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا : تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٤١) (حسن )
حدیث نمبر: 5125 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلَمْتَهُ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَعْلِمْهُ، قال: فَلَحِقَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، فَقَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کو نیکی کرتے دیکھ کر اس سے محبت کرنا
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا ؟ آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو تو انہوں نے کہا : میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ابوذر نے پھر یہی کہا : تو رسول اللہ ﷺ نے پھر وہی دہرایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٩٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥٦، ١٦٦، ١٧٤، ١٧٥) ، دی/ الرقاق ٧١ (٢٨٢٩) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 5126 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ، قال: أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، قال: فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قال: فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، قال: فَأَعَادَهَا أَبُو ذَرٍّ، فَأَعَادَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کو نیکی کرتے دیکھ کر اس سے محبت کرنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا : آدمی اسی کے ساتھ ہوگا، جس سے اس نے محبت کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٩٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٦ (٣٦٨٨) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٧) ، ٩٦ (٦١٧١) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٥٠ (٢٦٣٩) ، سنن الترمذی/الزھد ٥٠ (٣٢٨٦) ، مسند احمد (٣ /١٠٤، ١١٠، ١٦٥، ١٦٨، ١٧٢، ١٧٣، ١٧٨، ٢٠٠، ٢٢١، ٢٢٨، ٢٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : جنت میں اس نیک آدمی کے ساتھ ہوگا، اس لئے نیک لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 5127 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ لَمْ أَرَهُمْ فَرِحُوا بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ عَلَى الْعَمَلِ مِنَ الْخَيْرِ يَعْمَلُ بِهِ وَلَا يَعْمَلُ بِمِثْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کو نیکی کرتے دیکھ کر اس سے محبت کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٥٧ (٢٨٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٧ (٣٧٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5128 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کی رہنمائی کرنا بجائے خود نیکی ہے
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا : میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٣) ، سنن الترمذی/العلم ١٤ (٢٦٧١) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٠، ٥/٢٧٢، ٢٧٣، ٢٧٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 5129 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي، قال: لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ، فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواہشات نفسانیہ کا بیان
ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/٤٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی محب کو محبوب کے عیوب نظر نہیں آتے، اور نہ ہی اس کی ناگوار باتیں اسے ناگوار لگتی ہیں۔
حدیث نمبر: 5130 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُبُّكَ الشَّيْءَ: يُعْمِي وَيُصِمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت لینے کا بیان
ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/٤٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی محب کو محبوب کے عیوب نظر نہیں آتے، اور نہ ہی اس کی ناگوار باتیں اسے ناگوار لگتی ہیں۔
حدیث نمبر: 5130 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُبُّكَ الشَّيْءَ: يُعْمِي وَيُصِمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفارش کا بیان
ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو (سفارش کا) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٢١ (١٤٣٢) ، الأدب ٣٦ (٦٠٢٧) ، ٣٧ (٦٠٢٨) ، التوحید ٣١ (٧٤٧٦) ، صحیح مسلم/البر ٤٤ (٢٦٢٧) ، سنن الترمذی/العلم ١٤ (٢٦٧٢) ، سنن النسائی/الزکاة ٦٥ (٢٥٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠٠، ٤٠٩، ٤١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5131 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْفَعُوا إِلَيَّ لِتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ.
তাহকীক: