কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫০৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) (یہ روایت مرسل ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں )
حدیث نمبر: 5093 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُباب أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ صَرَفَ وَجْهَهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْباب حَدِيثٌ مُسْنَدٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر سے نکلتے وقت کی دعا
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے : اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٣٥ (٣٤٢٧) ، سنن النسائی/الاستعاذة ٢٩ (٥٤٨٨) ، ٦٤ (٥٥٤١) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٨ (٣٨٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠٦، ٣١٨، ٣٢٢) (صحیح) حدیث میں رفع طرفہ إلی السماء (آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی) کا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیحین وغیرہ میں نماز میں نگاہ اٹھانے کی ممانعت آئی ہے، آسمان کی طرف نماز یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں نگاہ اٹھانا ممنوع ہے ملاحظہ ہو : (الصحیحة ٣١٦٣ وتراجع الالبانی ١٣٦ )
حدیث نمبر: 5094 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر سے نکلتے وقت کی دعا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے بسم الله توکلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا : اس وقت کہا جاتا ہے (یعنی فرشتے کہتے ہیں) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کردی گئی، اور تو بچا لیا گیا، (یہ سن کر) شیطان اس سے جدا ہوجاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے : تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کردی گئی اور وہ (تیری گرفت اور تیرے چنگل سے) بچا لیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٣٤ (٣٤٢٦) ، سنن النسائی/في الیوم واللیلة (٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5095 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: يُقَالُ حِينَئِذٍ: هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ، فَتَتَنَحَّى لَهُ الشَّيَاطِينُ، فَيَقُولُ لَهُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا
ابو مالک اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے اللهم إني أسألک خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توکلنا اے اللہ ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢١٥٨) (ضعیف) (تراجع الألباني ١٤٤ )
حدیث نمبر: 5096 حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَرَأَيْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلَجَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تیز ہوا چلے تو کیا پڑھے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ریح (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں من روح الله ہے) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٩ (٣٧٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥٠، ٢٦٧، ٤٠٩، ٤٣٦، ٥١٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5097 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَسَلَمَةُ يَعْنِيَ ابْنَ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَرَوْحُ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا، فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تیز ہوا چلے تو کیا پڑھے؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا (آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہوجاتے) تو (ایک بار) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم (قوم عاد) ہوا کے عذاب سے دو چار ہوچکی ہے، اور ایک قوم نے (بدلی کا) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی هذا عارض ممطرنا ١ ؎: یہ بادل تو ہم پر برسے گا (وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کردیے گئے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٥ (٣٢٠٦) ، تفسیر سورة الأحقاف (٤٨٢٩) ، الأدب ٦٨ (٦٠٩٣) ، صحیح مسلم/الاستسقاء ٣ (٨٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٣٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٦ (٤٨٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٦٠٩٢) ، مسند احمد (٦/١٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قوم ثمود کی طرف اشارہ ہے، مدائن صالح (سعودی عرب) میں اس قوم کے آثار موجود ہیں۔
حدیث نمبر: 5098 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَتْ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ، فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تیز ہوا چلے تو کیا پڑھے؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام (دھام) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے : اللهم إني أعوذ بک من شرها اے اللہ ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگر بارش ہونے لگتی، تو آپ فرماتے : اللهم صيبا هنيئا اے اللہ ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٣٨٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الاستسقاء ١٥ (١٥٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 5099 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي أُفُقِ السَّمَاءِ تَرَكَ الْعَمَلَ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنْ مُطِرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بارش کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آرہی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/صلاة الأستسقاء ٢ (٨٩٨) ، سنن النسائی/الکبري (١٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٣٣، ٢٦٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے رب عزوجل کا بلندی پر ہونا ثابت ہے جب کہ قرآن و احادیث اور عقائد سلف صالحین سے قطعیت کے ساتھ معلوم ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدن پر بارش کا گرنا برکت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 5100 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغ اور جانوروں کا بیان
زید بن خالد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز فجر کے لیے جگاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤ /١١٥، ٥/١٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5101 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغ اور جانوروں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٣) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٠ (٢٧٢٩) ، سنن الترمذی/الدعوات ٥٧ (٣٤٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٢١، ٣٦٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 5102 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ، فَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغ اور جانوروں کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٤٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 5103 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنَهِيقَ الْحُمُرِ بِاللَّيْلِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ، فَإِنَّهُنَّ يَرَيْنَ مَا لَا تَرَوْنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغ اور جانوروں کا بیان
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رات میں) آمدورفت بند ہوجانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں في تلک الساعة کے الفاظ ہیں اور اس میں فإن لله تعالى دواب کے بجائے فإن لله خلقا ہے) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں : مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے اور جابر نے رسول اللہ ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٣٨، ٢٢٥٥، ٢٢٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 5104 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ، قَالَا: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ، فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ، قال ابْنُ مَرْوَانَ: فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، وَقَالَ: فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا، ثُمَّ ذَكَرَ نُبَاحَ الْكَلْبِ وَالْحَمِيرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ ابْنُ الْهَادِ: وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ الْحَاجِبُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نومولود بچہ کے کان میں اذان دینے کا بیان
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ (رض) نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأضاحی ١٧ (١٥١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩، ٣٩١، ٣٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5105 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نومولود بچہ کے کان میں اذان دینے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے تھے، (یوسف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ ان کی تحنیک فرماتے یعنی کھجور چبا کر ان کے منہ میں دیتے تھے، البتہ انہوں نے برکت کی دعا فرمانے کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٥٤، ١٧٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تبرک کے لئے ضروری ہے کہ شخصیت متبرک ہو، رسول معصوم سے تحنیک کا فائدہ برکت کے یقینی طور پر حصول کی توقع تھی، بعد میں دوسری شخصیات سے تبرک اور تبریک کی بات خوش خیالی ہے، تحنیک کے اس واقعہ سے استدلال صحیح نہیں ہے، لیکن اگر تحنیک کا عمل حصول تبرک کے علاوہ دوسرے فوائد کے لئے کیا جائے تو اور بات ہے ایک تو یہی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کی اتباع کے جذبہ سے، دوسرے طب و صحت کے قواعد و ضوابط کے نقطہ نظر سے وغیرہ وغیرہ۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 5106 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ. ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ، زَادَ يُوسُفُ: وَيُحَنِّكُهُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ بِالْبَرَكَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نومولود بچہ کے کان میں اذان دینے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم میں مغربون دیکھے گئے ہیں آپ نے دیکھے گئے ہیں کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا، میں نے پوچھا : مغربون کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٩٧٨) (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ام حمید مجہول ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یہ شرکت چاہے اللہ کی یاد سے غفلت اور شیطان کی اتباع کی وجہ سے ہو یا زنا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہو، یا شیاطین کی صحبت سے پیدا ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: 5107 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ رُئِيَ، أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ ؟ قُلْتُ: وَمَا الْمُغَرِّبُونَ ؟ قَالَ: الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو ، اور جو شخص لوجہ اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر) سوال کرے تو اس کو دو ۔ عبیداللہ کی روایت میں من سألكم لوجه الله کے بجائے من سألكم بالله ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٥٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٤٩، ٢٥٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 5108 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ نَصْرٌ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ، قال عُبَيْدُ اللَّهِ: مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو ، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو ، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٦٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5109 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى، عَنْالْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَقَالَ سَهْلٌ وَعُثْمَانُ: وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، ثُمَّ اتَّفَقُوا: وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، قال مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ: فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
ابوزمیل کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : میرے دل میں کیسی کھٹک ہو رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا ہوا ؟ میں نے کہا : قسم اللہ کی ! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے : اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی فإن كنت في شک مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الکتاب اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب (توراۃ و انجیل) پڑھتے ہیں (یونس : ٩٤) ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا : جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بکل شىء عليم وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (الحدید : ٣) ، پڑھ لیا کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٦٧٧) (حسن الإسناد )
حدیث نمبر: 5110 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ أَجِدُهُ فِي صَدْرِي ؟ قَالَ: قُلْتُ ؟ وَاللَّهِ مَا أَتَكَلَّمُ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِي: أَشَيْءٌ مِنْ شَكٍّ ؟، قَالَ: وَضَحِكَ، قَالَ: مَا نَجَا مِنْ ذَلِكَ أَحَدٌ، قَالَ: حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ سورة يونس آية 94، قال: فَقَالَ لي: إِذَا وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ شَيْئًا، فَقُلْ: هُوَ الْأَوَّلُ، وَالْآخِرُ، وَالظَّاهِرُ، وَالْبَاطِنُ، وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : یہ تو عین ایمان ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإیمان ٦٠ (١٣٢) ، مسند احمد (٢/٤٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی عین ایمان یہی ہے جو تمہیں ان باتوں کو قبول کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے روک رہا ہے جنہیں شیطان تمہارے دلوں میں ڈالتا ہے یہاں تک کہ وہ وسوسہ ہوجاتا ہے اور تمہارے دلوں میں جم نہیں پاتا، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خود یہ وسوسہ ہی عین ایمان ہے۔ وسوسہ تو شیطان کی وجہ سے وجود میں آتا ہے پھر یہ ایمان صریح کیسے ہوسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5111 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا الشَّيْءَ نُعْظِمُ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهِ أَوِ الْكَلَامَ بِهِ، مَا نُحِبُّ أَنَّ لَنَا وَأَنَّا تَكَلَّمْنَا بِهِ، قَالَ: أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قال: ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا کسی آدمی سے پناہ مانگنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہوجانا یا جل کر کوئلہ ہوجانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنادیا (اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا) ۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں رد كيده کی جگہ رد أمره کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٧٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5112 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا يَجِدُ فِي نَفْسِهِ يُعَرِّضُ بِالشَّيْءِ لَأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ، قال ابْنُ قُدَامَةَ: رَدَّ أَمْرَهُ مَكَانَ رَدَّ كَيْدَهُ.
তাহকীক: