কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫০৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عبداللہ بن غنام بیاضی انصاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی اللهم ما أصبح بي من نعمة فمنک وحدک لا شريك لک فلک الحمد ولک الشکر اے اللہ ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے، اور میں تیرا ہی شکر گزار ہوں تو اس نے اس دن کا شکر ادا کردیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٩٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن عنبسہ لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 5073 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، وَإِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عنبسة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَنَّامٍ الْبَيَاضِيِّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهِ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ لَيْلَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح اور شام کرتے تو ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے اللهم إني أسألک العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألک العفو والعافية في ديني ودنياى وأهلي ومالي اللهم استر عورتي (عثمان کی روایت میں عوراتي ہے) عوراتي وآمن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتک أن أغتال من تحتي اے للہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ٥٩ (٥٥٣١) ، عمل الیوم واللیلة ١٨١ (٥٦٦) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٧١) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 5074 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاعُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَقَالَ عُثْمَانُ: عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي، قال أبو داود: قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخَسْفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ ﷺ کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله کان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بکل شىء علما میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہوگا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی (اللہ کی طرف سے) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو شام کے وقت کہے گا اس کی صبح تک۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٣٨٨) (ضعیف) ( عبدالحمید اور ان کی ماں مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 5075 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِمَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ، وَكَانَتْ تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهَا، فَيَقُولُ: قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ: حُفِظَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي: حُفِظَ حَتَّى يُصْبِحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون سے لے کر وكذلک تخرجون تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہوگی اس کی تلافی ہوجائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہوگی اس کی تلافی ہوجائے گی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٨١٣) (ضعیف جدّاً ) (اس کے راوی محمد بن عبدالرحمن البیلمانی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5076 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِياللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ النَّجَّارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، قال: الرَّبِيعُ ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ، وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ إِلَى وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ، أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي، أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي لَيْلَتِهِ، قال: الرَّبِيعُ، عَنْ اللَّيْثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
ابوعیاش (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہے تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو (خواب میں) دیکھا جیسے سونے والا دیکھتا ہے تو اس نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابوعیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ابوعیاش صحیح کہہ رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسماعیل بن جعفر، موسیٰ زمعی اور عبداللہ بن جعفر نے سہیل بن أبی صالح سے سہیل نے اپنے والد سے اور ابوصالح نے ابن عائش سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5077 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَوُهَيْبٌ نحوه، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَائِشٍ، وَقَالَ حَمَّادٌ، عَنْأَبِي عَيَّاشٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ لَهُ عِدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى، كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ، قال فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ: فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يُحَدِّثُ عَنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، قال: صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ، قال أبو داود: رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَمُوسَى الزَّمْعِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَائِشٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي، غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
مسلم بن حارث تمیمی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چپکے سے ان سے کہا : جب تم مغرب سے فارغ ہوجاؤ تو سات مرتبہ کہو اللهم أجرني من النار اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہوگیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی (یعنی سات مرتبہ اللهم أجرني من النار ) کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہوجائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات مجھے چپکے سے بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں (ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لیے خاص سمجھتے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٢٨١) (ضعیف) (الحارث بن مسلم (صحابی کے لڑکے) مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 5079 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْفِلَسْطِينِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ، ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ، فَقُلْ كَذَلِكَ، فَإِنَّكَ إِنْ مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ الْحَارِثِ، أَنَّهُ قَالَ: أَسَرَّهَا إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ نَخُصُّ بِهَا إِخْوَانَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُتَعَبِّدِينَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ يَزِيدُ: شَيْخٌ ثِقَةٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى: حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ صَادِقًا كَانَ بِهَا أَوْ كَاذِبًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عبداللہ بن خبیب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا : کچھ کہو اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا : کچھ کہو (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا : کچھ تو کہو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا : قل هو الله أحد اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ١١٧ (٣٥٧٥) ، سنن النسائی/الاستعاذة (٥٤٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٥٠) (حسن )
حدیث نمبر: 5082 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَأَدْرَكْنَاهُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمْ ؟ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، فَقَالَ: قُلْ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ: قُلْ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
ابو مالک (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں کوئی ایسی (جامع) بات بتائیے، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں : اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب کل شىء والملائكة يشهدون أنک لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بک من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشرکه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شرک سے، اور گناہ کی بات خود کرنے سے، یا کسی مسلمان سے گناہ کی بات کرانے سے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢١٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن اسماعیل ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5083 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَرَأَيْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ،عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا بِكَلِمَةٍ نَقُولُهَا إِذَا أَصْبَحْنَا وَأَمْسَيْنَا وَاضْطَجَعْنَا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقُولُوا: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَإِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ نَقْتَرِفَ سُوءًا عَلَى أَنْفُسِنَا أَوْ نَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی اسناد سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے أصبحنا وأصبح الملک لله رب العالمين اللهم إني أسألک خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبرکته وهداه وأعوذ بک من شر ما فيه وشر ما بعده ہم نے صبح کی اور ملک (پوری کائنات) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢١٥٧) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی محمد بن اسماعیل ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5084 قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَكَتَهُ وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
شریق ہوزنی کہتے ہیں : میں ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے ؟ تو انہوں نے کہا : تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، الله اکبر کہتے، دس بار الحمد الله کہتے، دس بار سبحان الله وبحمده کہتے، دس بار سبحان الملک القدوس کہتے، اور دس بار استغفر الله کہتے، اور دس بار لا إله إلا الله کہتے، پھر دس بار اللهم إني أعوذ بک من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر ما تقدم عند المؤلف برقم : ٧٦٦، (تحفة الأشراف : ١٦١٥٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الاقامة ١٨٠ (١٣٥٦) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦١٦) ، عمل الیوم واللیلة ٢٥٤ (٥٥٥٠) ، مسند احمد (٦/١٤٣) (حسن صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بقیہ اور عمر بن جعثم ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5085 حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جُعْثُمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيقٌ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلْتُهَا بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ ؟، فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمَّدَ عَشْرًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ عَشْرًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا، وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا، ثُمَّ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور سحر میں اٹھتے تو کہتے سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه علينا اللهم صاحبنا فأفضل علينا عائذا بالله من النار سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمتوں کی شکر گزاری اور اپنے امتحان میں ہماری حسن کارکردگی کو (دیکھ اور) سن لیا، اے اللہ ! تو ہمارے ساتھ رہ، اور ہمیں اپنے فضل سے نواز، اور میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٨ (٢٧١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 5086 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَأَسْحَرَ، يَقُولُ: سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَنِعْمَتِهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ صَاحِبْنَا فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
ابوذر (رض) کہتے تھے جو شخص صبح کرتے وقت کہے اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتک بين يدى ذلك كله ما شئت کان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي و تجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي اے اللہ ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہوگا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہوگا، اے اللہ ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو ۔ تو وہ اس دن کے (فتنوں) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے يومه ذلك کہا یا ذلک اليوم کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) (قاسم بن عبدالرحمن المسعودی کی ابوذر سے روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ دونوں میں لقاء و سماع نہیں ہے )
حدیث نمبر: 5087 حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ، يَقُولُ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ، اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلَاتِي، وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي، كَانَ فِي اسْتِثْنَاءٍ يَوْمَهُ ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: ذَلِكَ الْيَوْمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص تین بار بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں : پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا : مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی ! نہ میں نے عثمان (رض) کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ ﷺ کی طرف، لیکن (بات یہ ہے کہ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا (اور غصے میں) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ١٣ (٣٣٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٦٢، ٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 5088 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَوقَالَ: فَأَصَابَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ الْفَالِجُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي سَمِعَ مِنْهُ الْحَدِيثَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ تَنْظُرُ إِلَيَّ ؟ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَا كَذَبَ عُثْمَانُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ الْيَوْمَ الَّذِي أَصَابَنِي فِيهِ مَا أَصَابَنِي غَضِبْتُ فَنَسِيتُ أَنْ أَقُولَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عثمان (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس میں فالج کا قصہ مذکور نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5089 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْفَالِجِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان ! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت اے اللہ ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں ؟ ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے اللهم إني أعوذ بک من الکفر والفقر اللهم إني أعوذ بک من عذاب القبر لا إله إلا أنت اے اللہ ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے اللهم رحمتک أرجو فلا تکلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت اے اللہ ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٢) (حسن الإسناد )
حدیث نمبر: 5090 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ، قال عَبَّاسٌ فِيهِ: وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي فَتَدْعُو بِهِنَّ، فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ، قال: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سبحان الله العظيم وبحمده سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہوسکتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٢) ، سنن الترمذی/الدعوات ٥٩ (٣٤٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5091 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کا اذکار وادعیہ مسنونہ
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے : هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقک یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے : شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابو داود (ضعیف الإسناد) (سند میں قتادہ تابعی اور نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم کے درمیان انقطاع ہے، معلوم نہیں کہ تابعی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کو، جب کہ قتادہ مدلس بھی ہیں )
حدیث نمبر: 5092 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّهُ بَلَغَهُأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ: هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا.
তাহকীক: