কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫১৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفارش کا بیان
معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کردیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : سفارش کرو تم اجر پاؤ گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٦٥ (٢٥٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 5132 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْوَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، فَإِنِّي لَأُرِيدُ الْأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خط میں اپنا نام پہلے لکھنا چاہیے
علاء کے کسی بیٹے سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نبی اکرم ﷺ کی طرف سے بحرین (علاقہ احساء) کے گورنر تھے، وہ جب آپ کو کوئی تحریر لکھ کر بھیجتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٩) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
حدیث نمبر: 5134 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ أَحْمَدُ قَالَ مَرَّةً يَعْنِي هُشَيْمًا، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْعَلَاءِأَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ كَانَ عَامِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَيْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خط میں اپنا نام پہلے لکھنا چاہیے
علاء یعنی ابن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو لکھا تو پہلے اپنا نام لکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابن العلاء مبہم ہے )
حدیث نمبر: 5135 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَضْرَمِيِّأَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَدَأَ بِاسْمِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی (کافر) کو کیسے خط لکھا جائے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہرقل کے نام خط لکھا : اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا : بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الوحي ١ (٧) ، الجھاد ١٠٢ (٢٩٧٨) ، تفسیر سورة آل عمران ٤ (٤٥٥٣) ، صحیح مسلم/الجھاد ٢٧ (١٧٧٣) ، سنن الترمذی/الاستئذان ٢٤ (٢٧١٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٥٠، ٥٨٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٢، ٢٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5136 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى هِرَقْلَ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، قال ابْنُ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى: أَمَّا بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ٦ (١٥١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٦٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٨ (١٩٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١ (٣٦٥٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٣٧٦، ٤٤٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 5137 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ، فَيُعْتِقَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر (رض) کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو ، لیکن میں نے انکار کیا، تو عمر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اسے طلاق دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطلاق ١٣ (١١٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٦ (٢٠٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٠، ٤٢، ٥٣، ١٧٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 5138 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا، فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا، فَأَبَيْتُ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلِّقْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : أقرع سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ١ (١٨٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣، ٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 5139 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ: أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَقْرَعُ: الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
بکر بن حارث (کلیب کے دادا) (رض) کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی ماں، اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ، یہ ایک واجب حق ہے، اور ایک جوڑنے والی (رحم) قرابت داری ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٦٥) (ضعیف) (اس کی سند میں کلیب کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، اور ابن حجر نے مقبول لکھا ہے، اصل حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، چاہے اس حدیث کی سند پر ضعف کا حکم ہی لگا دیا جائے، جیسا کہ شیخ ناصر نے کیا ہے) ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود، الارواء (٨٣٧ )
حدیث نمبر: 5140 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ: أُمَّكَ، وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي، ذَاكَ حَقٌّ وَاجِبٌ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بڑے گناہوں) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص (جواب میں) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے (اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٤ (٥٩٧٣) ، صحیح مسلم/الإیمان ٣٨ (٩٠) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٤ (١٩٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٦١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٥، ٢١٤، ٢١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 5141 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ: أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ: يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَلْعَنُ أَبَاهُ، وَيَلْعَنُ أُمَّهُ، فَيَلْعَنُ أُمَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ کے مرجانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا (ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٢ (٣٦٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی علی بن عبید لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 5142 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ٤ (٢٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٦٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٥ (١٩٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5143 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
ابوالطفیل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے قریب ہوگئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں : میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٠٥٣) (ضعیف الإسناد) (اس میں راوی جعفر لین الحدیث، اور عمارہ مجہول الحال ہیں )
حدیث نمبر: 5144 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّأَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ ؟ فَقَالُوا: هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین سے حسن سلوک کا بیان
عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہوگئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٤١) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں اخیر سے کم سے کم دو راوی ساقط ہیں، عمر بن سائب تبع تابعی ہیں )
حدیث نمبر: 5145 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ جَالِسًا، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے کمتر جانے، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابن عباس کہتے ہیں : ولده سے مراد جنس ذکور ہے، لیکن عثمان (راوی) نے ذکور کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٥٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابن حدیر مجہول الحال ہیں )
حدیث نمبر: 5146 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ ابْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا، قَالَ يَعْنِي الذُّكُورَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ يَعْنِي الذُّكُورَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی، انہیں ادب، تمیز و تہذیب سکھائی (حسن معاشرت کی تعلیم دی) ان کی شادیاں کردیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ١٣ (١٩١٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢، ٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی سعید الأعشی لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 5147 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان
سہل سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ تین بہنیں ہوں، یا تین بیٹیاں، یا دو بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٩٦٩) (ضعیف) (سعید الأعشی کے سبب یہ روایت بھی ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 5148 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ بِنْتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیموں کی کفالت کی فضیلت کا بیان
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے (یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہوگئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہوجائیں یا وفات پاجائیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩١١) ، وقد أخرجہ : حم (٦/٢٦، ٢٩) (ضعیف) ( اس کے راوی نھ اس ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 5149 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبابةِ، امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی یتیم کی پرورش کا ضامن ہونا باعث فضیلت ہے
سہل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح (قریب قریب) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٢٥ (٥٣٠٣) ، الأدب ٢٤ (٦٠٠٥) ، سنن الترمذی/ البر والصلة ١٤ (١٩١٨) ، تحفة الأشراف : ٤٧١٠) ، مسند احمد (٥/٣٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5150 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ، وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کے حقوق کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں (دل میں) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنادیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٢٨ (٦٠١٤) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٢ (٢٦٢٤) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٢٨ (١٩٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤ (٣٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩١، ١٢٥، ٢٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5151 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ.
তাহকীক: