কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৫০৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک کا جواب کیسے دے
ابوہریرہ (رض) کہتے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ وہ کہے : الحمد لله على كل حال (ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں) اور چاہیئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے : يرحمک الله (اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے : يهديكم الله ويصلح بالکم (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے، اور تمہاری حالت درست فرما دے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١٢٦ (٦٢٢٤) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٢٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5033 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَيَقُولُ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٥١) (حسن )
حدیث نمبر: 5034 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا، فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟
سعید بن ابی سعید ابوہریرہ (رض) سے اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابونعیم نے موسیٰ بن قیس سے، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے، ابن عجلان نے سعید سے، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٥١) (حسن )
حدیث نمبر: 5035 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أبو داود: رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟
عبید بن رفاعہ زرقی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو ، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٧٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ٥ (٢٧٤٤) (ضعیف) (سند میں راوی یزید بن عبدالرحمن کثیر الخطاء اور حمیدہ یا عبیدہ بنت عبید مجہول راوی ہیں )
حدیث نمبر: 5036 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَكُفَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا :يرحمک الله اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا : آدمی کو زکام ہوا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩٣) ، سنن الترمذی/الأدب ٥ (٢٧٤٣) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (٣٧١٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الاستئذان ٣٢ (٢٧٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5037 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ مَزْكُومٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کافر کو چھینک کا جواب کیسے دیا جائے
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے يرحمکم الله تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے : يهديكم الله ويصلح بالکم اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٣ (٢٧٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠٠، ٤١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5038 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کافر کو چھینک کا جواب کیسے دیا جائے
انس (رض) کہتے ہیں کہ دو لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! دو لوگوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا ؟۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے : کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : دراصل اس نے الحمد الله کہا تھا اور اس نے الحمد الله نہیں کہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١٢٣(٦٢٢١) ، صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩١) ، سنن الترمذی/الأدب ٤ (٢٧٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (٣٧١٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٧، ١٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 5039 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: أَوْ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بل لیٹنے والے شخص کا حکم
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمارے ساتھ عائشہ (رض) کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس ١ ؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ ﷺ نے (ہم لوگوں سے) فرمایا : تم لوگ چاہو (ادھر ہی) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں : تو میں (مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا : اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے (آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ المساجد ٦ (٧٥٢) ، الأدب ٢٧ (٣٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٩) (ضعیف) (سند میں سخت اضطراب ہے، طخفة بن قیس (ف) سے یا طھفہ (ہ) سے، اس کو قیس بن طخفة نیز یعیش بن طخفة ابو تغفة کہتے ہیں، حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے والد صحابی تھے، لیکن پیٹ کے بل لیٹنے کی ممانعت ثابت ہے ) وضاحت : ١ ؎ : حیس ایک عربی کھانا ہے جو کھجور، ستو، پنیر اور گھی سے بنتا ہے۔
حدیث نمبر: 5040 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَانْطَلَقْنَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا، فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا، فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، قال: فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر رکاوٹ والی چھت پر سونا صحیح نہیں ہے
علی بن شیبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر (کی مڈیر) نہ ہو (یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو تو اس سے (حفاظت کا) ذمہ اٹھ گی (گرے یا بچے وہ جانے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٠٢٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5041 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک ہو کر (باوضو) سونا باعث فضیلت ہے
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں (کسی بھی وقت) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے ۔ ثابت بنانی کہتے ہیں : ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں : فلاں شخص نے کہا ١ ؎ کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ٢ ؎ ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦(٣٨٨١) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٣٥، ٢٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ثابت بنانی نے کسی وجہ سے کہنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا۔ ٢ ؎ : اس سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال ہے۔ ٣ ؎ : شاید ایسا نسیان یا دنیاوی امور میں مشغولیت کے سبب ہوا ہو۔ واللہ اعلم
حدیث نمبر: 5042 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا، فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، قال ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ثَابِتٌ: قَالَ فُلَانٌ: لَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَقُولَهَا حِينَ أَنْبَعِثُ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاک ہو کر (باوضو) سونا باعث فضیلت ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ١٠ (٦٣١٦) ، صحیح مسلم/الحیض ٥ (٧٦٣) ، سنن النسائی/التطبیق ٦٣ (١١٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧١ (٥٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٨٣، ٢٨٤، ٣٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5043 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، قال أبو داود: يَعْنِي بَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوتے وقت کس طرف منہ رکھے؟
ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی) آپ کے سرہانے ہوتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، معلوم نہیں صحابی ہے یا تابعی )
حدیث نمبر: 5044 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَكَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الْإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
ام المؤمنین حفصہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ اللهم قني عذابک يوم تبعث عبادک اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٧٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٨٧) (صحیح) (لیکن تین بار لفظ صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 5045 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بکتابک الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں : اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کرلوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا وبرسولک الذي أرسلت تو آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا نہیں بلکہ وبنبيك الذي أرسلت (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٧٥ (٢٤٧) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٠) ، سنن الترمذی/الدعوات ١١٧ (٣٥٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٦) ، مسند احمد (٤/٢٩٠، ٢٩٢، ٢٩٣، ٢٩٦، ٣٠٠) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥١ (٢٧٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 5046 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِر، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ، قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قال: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تم پاک و صاف (باوضو) ہو کر اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5047 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ، فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
اس سند سے بھی براء (رض) سے یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں : ایک راوی نے إذا أتيت فراشک طاهرا جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے توضأ وضوءک للصلاة تم جب نماز جیسا وضو کرلو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٥٠٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 5048 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا، وَقَالَ الْآخَرُ: تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سونے کے وقت فرماتے : اللهم باسمک أحيا وأموت اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کردینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٧ (٦٣١٢) ، التوحید ١٣ (٧٣٩٤) ، سنن الترمذی/الدعوات ٢٨ (٣٤١٧) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٨٧، ٣٩٧، ٣٩٩، ٤٠٧) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 5049 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے باسمک ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسکت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادک الصالحين تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ١٣ (٦٣٢٠) ، والتوحید ١٣ (٧٣٩٣) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٠٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ٢٠ (٣٤٠١) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٤) ، مسند احمد (٢/٤٢٢، ٤٣٢) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥١ (٢٧٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 5050 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے : اللهم رب السموات ورب الأرض ورب کل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بک من شر کل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلک شىء وأنت الآخر فليس بعدک شىء وأنت الظاهر فليس فوقک شىء وأنت الباطن فليس دونک شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر اے اللہ ! آسمانوں و زمین کے مالک ! اے ہر چیز کے پالنہار ! اے دانے اگانے والے ! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے ! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ : تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٣) ، سنن الترمذی/الدعوات ١٩ (٣٤٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٣) ، مسند احمد (٢/٤٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 5051 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ نَحْوَهُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، زَادَ وَهْبٌ فِي حَدِيثِهِ: اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی دعا کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وکلماتک التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تکشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندک ولا يخلف وعدک ولا ينفع ذا الجد منک الجد سبحانک وبحمدک اے اللہ ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جاسکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٠٣٨) (ضعیف) (ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 5052 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ يَعْنِي ابْنَ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ.
তাহকীক: