কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৪৯৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کے ساتھ خوش گمانی رکھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٣٤٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٤، ٤٠٧، ٤٩١) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4993 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ، قال أبو داود: وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ شُتَيْرٍ، قَالَ نَصْرٌ: ابْنِ نَهَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَصْرٌ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ، قال أبو داود: مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کے ساتھ خوش گمانی رکھنے کا بیان
ام المؤمنین صفیہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید (رض) کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا : تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ، اللہ کے رسول ! (یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کرسکتے ہیں) آپ نے فرمایا : شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون (رگوں میں) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا : کوئی بری بات نہ ڈال دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٢٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٠١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں میری نسبت سے ان دونوں کے دل میں کوئی بات ایسی پیدا ہوگئی جو ان کے کفر و ارتداد کا سبب بن گئی تو یہ دونوں تباہ و برباد ہوجائیں گے، اس لئے ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ نے ظن و شک والے امر کی وضاحت کردی تاکہ یہ دونوں صحیح و سلامت رہیں کیونکہ آپ کو اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 4994 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قال: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا أَوْ قَالَ: شَرًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وعدہ وفا کرنا شیوہ مسلم ہے
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کرسکے اور وعدے پر نہ آسکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الإیمان ١٤ (٢٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٩٣) (ضعیف) (سند میں ابو وقاص مجہول راوی ہیں )
حدیث نمبر: 4995 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وعدہ وفا کرنا شیوہ مسلم ہے
عبداللہ بن ابو حمساء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم ﷺ سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین (دن) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا : اے جوان ! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٤٥) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4996 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ، وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ، فَنَسِيتُ ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ: يَا فَتًى، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ، قال أبو داود: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: هَذَا عِنْدَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أبو داود: هَكَذَا بَلَغَنِي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أبو داود: بَلَغَنِي أَنَّ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ رَوَاهُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر موجود چیزوں پر جو اپنے پاس نہ ہوں فخر کرنا
اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا : جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ١٠٧ (٥٢١٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٣٥ (٢١٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4997 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَةً تَعْنِي ضَرَّةً هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ لَهَا بِمَا لَمْ يُعْطِ زَوْجِي ؟ قَالَ: الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق ومزاح کرنے کا بیان
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا : میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٥٧ (١٩٩١) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4998 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْمِلْنِي، قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ، قال: وَمَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق ومزاح کرنے کا بیان
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے : سنو ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ ﷺ پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم ﷺ انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے (یعنی ان کے گھر نہیں گئے) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہوگئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے : آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کرلیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٧٢، ٢٧٥) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4999 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا، وَقَالَ: أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْجِزُهُ، وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ، قال: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا، فَقَالَ: لَهُمَا أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق ومزاح کرنے کا بیان
عوف بن مالک اشجعی (رض) کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا : اندر آجاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : پورے طور سے چناچہ میں اندر چلا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجزیة ١٥ (٣١٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٤٢ (٤٠٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٩٠٠٣، ١٠٩١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 5000 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّ وَقَالَ: ادْخُلْ، فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قال: كُلُّكَ فَدَخَلْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق ومزاح کرنے کا بیان
عثمان بن ابی العات کہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو یہ پوچھا کہ کیا پورے طور پر اندر آجاؤں تو اس وجہ سے کہ خیمہ چھوٹا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩١٨، ١٩٠٠٣) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 5001 حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق ومزاح کرنے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے دو کانوں والے !۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المناقب ٤٦ (١٩٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٧، ١٢٧، ٢٤٢، ٢٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5002 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق سے کسی کی چیز لینا
یزید بن سعید (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ١ ؎۔ سلیمان کی روایت میں ( لاعبا ولا جادا کے بجائے) لعبا ولا جدا ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ (ضرورت پوری کر کے) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الفتن ٣ (٢١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : حقیقت میں لینے کی ممانعت کی وجہ تو ظاہر ہے کہ یہ چوری ہے اور ہنسی میں لینے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ چیز سامان والے کی ناراضگی اور اس کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 5003 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَاشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَعِبًا وَلَا جِدًّا، وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا، لَمْ يَقُلْ ابْنُ بَشَّارٍ: ابْنَ يَزِيدَ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذاق سے کسی کی چیز لینا
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بطور مذاق بھی ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس میں ایذا رسانی ہے۔
حدیث نمبر: 5004 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَهُ، فَأَخَذَهُ فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے (گھاس کھانے میں) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بےسوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٧٢ (٢٨٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٥، ١٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 5005 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ، وَكَانَ يَنْزِلُ الْعَوَقَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال أبو داود: هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَةِ بِلِسَانِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کرلے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل (عبادت) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٠) (ضعیف) ( سند میں عبداللہ بن مسیب لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 5006 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ، لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ دو آدمی ١ ؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑگئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ٢ ؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ إن من البيان لسحرا کہا یا إن بعض البيان لسحر کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٤٧ (٥١٤٦) ، الطب ٥١ (٥٧٦٧) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٨١ (٢٠٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦، ٥٩، ٦٢، ٩٤، ٤/٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ان دونوں آدمیوں کے نام زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی آمد کا و واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ ٢ ؎ : یہ خوبی اگر حق کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو ممدوح ہوتی ہے اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو مذموم۔
حدیث نمبر: 5007 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ يَعْنِي لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے
ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور (اس سے پہلے) ایک شخص کھڑے ہو کر بےتحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا : اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٤٧) (حسن الإسناد )
حدیث نمبر: 5008 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ عَمْرَو ابْنَ الْعَاصِ، قال يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ، فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ، فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعرگوئی کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں : مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا : اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں : اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات (تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کردیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٩٢ (٦١٥٥) ، صحیح مسلم/الشعر ح ٧ (٢٢٥٧) ، سنن الترمذی/الأدب ٧١ (٢٨٥١) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١ (٣٧٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٨، ٣٣١، ٣٥٥، ٣٩١، ٤٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 5009 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا، قال أَبُو عَلِيٍّ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ: أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبَ، فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، قال: كَأَنَّ الْمَعْنَى: أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ: أَنْ يَمْدَحَ الْإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ، ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الْآخَرِ، فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعرگوئی کا بیان
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٩ (٦١٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤١ (٣٧٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢٥، ١٢٦) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٨ (٢٧٤٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 5010 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعرگوئی کا بیان
ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار حكم ١ ؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٦٩ (٢٨٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤١ (٣٧٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٩، ٣١٣، ٣٢٧، ٣٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہاں حُکْم ، حِکْمَتْ کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً میں ہے۔
حدیث نمبر: 5011 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعرگوئی کا بیان
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں (یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے) ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں ۔ تو صعصہ بن صوحان بولے : اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل (پیش کرنے) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چناچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چناچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٧٩، ١٨٨١٧) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن ثابت ابوجعفر مجہول اور صخر بن عبداللہ لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 5012 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا، فقال صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، فَالرَّجُلُ يَكُونُ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَهُوَ أَلْحَنُ بِالْحُجَجِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ، فَيَسْحَرُ الْقَوْمَ بِبَيَانِهِ فَيَذْهَبُ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، فَيَتَكَلَّفُ الْعَالِمُ إِلَى عِلْمِهِ مَا لَا يَعْلَمُ فَيُجَهِّلُهُ ذَلِكَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، فَهِيَ هَذِهِ الْمَوَاعِظُ وَالْأَمْثَالُ الَّتِي يَتَّعِظُ بِهَا النَّاسُ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا، فَعَرْضُكَ كَلَامَكَ وَحَدِيثَكَ عَلَى مَنْ لَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ وَلَا يُرِيدُهُ.
তাহকীক: