কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৪৯৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا : تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے ؟ کہا : میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر (میرے گھر والوں میں سے) کسی نے پوچھا : تو ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : زینب رکھ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأداب ٣ (٢١٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٨٤) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4953 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ ؟ قَالَ: سَمَّيْتُهَا مُرَّةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ، سُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ، اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ، فَقَالَ: مَا نُسَمِّيهَا ؟ قَالَ: سَمُّوهَا زَيْنَبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
اسامہ بن اخدری تمیمی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا : نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4954 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ: أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اسْمُكَ، قال: أَنَا أَصْرَمُ، قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
ابوشریح ہانی کندی (رض) سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا : حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا : میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہوجاتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا : شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا : ان میں بڑا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : شریح آپ نے فرمایا : تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/آداب القضاة ٧ (٥٣٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4955 حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يَكْنُونَهُ بابي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكْنَىبابا الْحَكَمِ، فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ ؟، قَالَ: لِي شُرَيْحٌ، وَمُسْلِمٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ ؟ قُلْتُ: شُرَيْحٌ، قَالَ: فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ، قَالَ أبو داود: شُرَيْحٌ هَذَا: هُوَ الَّذِي كَسَرَ السِّلْسِلَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ دَخَلَ تُسْتَرَ، قَالَ أبو داود: وَبَلَغَنِي أَنَّ شُرَيْحًا كَسَرَ باب تُسْتَرَ، وَذَلِك أَنْهُ دَخَلَ مِنْ سِرْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا : حزن ١ ؎ آپ نے فرمایا : تم سہل ہو، انہوں نے کہا : نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں : تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے) ، عتلہ (سختی) شیطان، حکم (اللہ کی صفت ہے) ، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں) ، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأداب ١٠٧ (٦١٩٠) ، ١٠٨ (٦١٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حزن کے معنی سخت اور دشوار گزار زمین کے ہیں اور سہل کے معنی : نرم اور عمدہ زمین کے ہیں حزن کی ضد۔
حدیث نمبر: 4956 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: مَا اسْمُكَ، قَالَ: حَزْنٌ، قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ، قَالَ: لَا، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ، قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ، قَالَ أبو داود: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُباب، وَشِهَابٍ، فَسَمَّاهُ: هِشَامًا، وَسَمَّى حَرْبًا: سَلْمًا، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ: الْمُنْبَعِثَ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا: خَضِرَةَ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ: شَعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ: بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ: بَنِي رِشْدَةَ، قَالَ أبو داود: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
مسروق کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) سے ملا تو انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : اجدع تو شیطان ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٣١ (٣٧٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣١) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4957 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ ؟، قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، فَقَالَعُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْأَجْدُعُ شَيْطَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے : کیا وہاں ہے وہ ؟ تو جواب دینے والا کہے گا : نہیں (تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے) (سمرہ نے کہا) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأداب ٢ (٢١٣٦) ، سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣١ (٣٧٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٦١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧، ١٠، ١٢، ٢١) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦١ (٢٧٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4958 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ ؟، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم افلح، یسار، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٦١٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4959 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ: أَفْلَحَ، وَيَسَارًا، وَنَافِعًا، وَرَبَاحًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا : کیا برکت ہے ؟ تو لوگ کہیں گے : نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٣٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4960 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا، وَأَفْلَحَ، وَبَرَكَةَ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ: إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةُ ؟، فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ أبو داود: رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے أخنع اسم کے بجائے أخنى اسم کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١١٤ (٦٢٠٦) ، صحیح مسلم/الأداب ٤ (٢١٤٣) ، سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4961 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَخْنَعُ: اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ، قَالَ أبو داود: رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: أَخْنَى اسْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القاب کا بیان
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے (الحجرات : ١١) ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا : اے فلاں، تو لوگ کہتے : اللہ کے رسول ! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی ولا تنابزوا بالألقاب۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ تفسیر القرآن ٤٩ (٣٢٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٥ (٣٧٤١) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٦٩، ٢٦٠، ٥/٣٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4962 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَنِي سَلَمَةَ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ سورة الحجرات آية 11، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَا فُلَانُ، فَيَقُولُونَ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا الِاسْمِ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوعیسیٰ کنیت رکھنے کا بیان
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ (رض) نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر (رض) نے ان سے کہا : کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو ؟ ١ ؎ وہ بولے : میری یہ کنیت رسول اللہ ﷺ نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ٢ ؎ چناچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عمر (رض) نے ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے اس وجہ سے منع کیا کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ لوگ اس وہم میں نہ مبتلا ہوجائیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی کوئی باپ تھا ، یہی وجہ ہے کہ عمر (رض) نے کہا کہ یہ کنیت رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ ٢ ؎ : مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ عام مسلمان ہیں، اور یہ نہیں معلوم کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔
حدیث نمبر: 4963 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى: أَبَا عِيسَى، وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بابي عِيسَى، فَقَالَ لَهُعُمَرُأَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ، وَإِنَّا فِي جَلْجَتِنَا، فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر کے بیٹے کو اے میرے بیٹے کہہ کر پکارنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے میرے بیٹے !۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأدب ٦ (٢١٥١) ، سنن الترمذی/الأدب ٦٢ (٢٨٣١) ، (تحفة الأشراف : ٥١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4964 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَوَسَمَّاهُ ابْنُ مَحْبُوبٍ الْجَعْدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ، قَالَ أبو داود: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُثْنِي عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ، وَيَقُولُ: كَثِيرُ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوقاسم کنیت رکھنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر (رض) سے مروی ہیں، اور انس بن مالک (رض) کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٨ (١١٠) ، المناقب ٢٠ (٣٥٣٩) ، الأدب ١٠٦ (٦١٨٨) ، صحیح مسلم/الأداب ١ (٢١٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٣ (٣٧٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٨، ٢٦٠، ٢٧٠) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٨ (٢٧٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4965 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، قَالَ أبو داود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوقاسم کنیت رکھنا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ (رض) سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٩٨٣، ١٣٦١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٣) (منکر) (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، صحیح بخاری میں سالم بن ابی الجعد نے جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے فرمایا : سمو ا بأسمی ولا تکنوا بکنیتي الأدب ٦١٨٧ ) وضاحت : ١ ؎ : خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے دونوں لفظوں کے ساتھ آئی ہے : اس طرح بھی جیسے محمد بن سیرین نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، جو یہ ہے تسموا باسمي ولا تکتنوا بكنيتي میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو اور اس طرح بھی جیسے ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی ہے، دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ بطریق ابوالزبیر عن جابر میں نبی اکرم ﷺ کا نام اور کنیت الگ الگ رکھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے ، اور بطریق ابن سیرین ابوہریرہ کی روایت سے نام رکھنے کا جواز اور کنیت رکھنے کا عدم جواز ثابت ہو رہا ہے ، صحیح بخاری کی حدیث بطریق سالم بن ابی الجعد عن جابر (رض) : ابن سیرین کی ابوہریرہ سے حدیث کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 4966 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي، قَالَ أبو داود: وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قال أَبُو الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَلَى مَا قال ابْنُ سِيرِينَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنیکی اجازت ہے
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٦٨ (٢٨٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4967 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ: وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ، قال: نَعَمْ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنیکی اجازت ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول ! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا : کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٥، ٢٠٩) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ ﷺ کی حیات مبارکہ تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے۔
حدیث نمبر: 4968 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلَامًا، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ: أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي، وَحَرَّمَ كُنْيَتِي، أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي، وَأَحَلَّ اسْمِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر لڑکے کے کنیت رکھنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مرگئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا : کیا بات ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس کی چڑیا مرگئی، تو آپ نے فرمایا : اے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٧٨) ، وقد أخرجہ : خ /الأدب ٨١ (٦١٢٩) ، صحیح مسلم/الأداب ٥ (٢١٥٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٣١ (٣٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٤ (٣٧٢٠) ، ٣٤، مسند احمد (٣ /١١٥، ١١٩، ١٧١، ١٩٠، ٢٠١، ٢٢٣، ٢٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4969 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى: أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُ ؟ قَالُوا: مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے لئے کنیت اختیار کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا : تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں (عبداللہ کے بجائے) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں : چناچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠٧، ١٥١، ١٨٦، ٢٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4970 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى، قال: فَاكْتَنِي بابنِكِ عَبْدِ اللَّهِ، يَعْنِي ابْن أخْتُهَا، قَالَ مُسَدَّدٌ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ، قال أبو داود: وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ، وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، عَنْ هِشَامٍ، كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معنی خیز کلام کرنے کا بیان
سفیان بن اسید حضرمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٤٧٥) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : تعریض یا توریہ ایسے لفظ کے اطلاق کا نام ہے جس کا ایک ظاہری معنی ہوا، اور متکلم اس ظاہری معنیٰ کے خلاف ایک دوسرا معنی مراد لے رہا ہو جس کا وہ لفظ محتمل ہو، یہ ایک طرح سے مخاطب کو دھوکہ میں ڈالنا ہے اسی وجہ سے جب تک کوئی شرعی مصلحت یا کوئی ایسی حاجت نہ ہو کہ اس کے بغیر کوئی اور چارہ کار نہ ہو ایسا کرنا صحیح نہیں۔
حدیث نمبر: 4971 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ إِمَامُ مَسْجِدِ حِمْصَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ، وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام میں زعمو کہنے کا بیان
ابومسعود (رض) نے ابوعبداللہ (حذیفہ) (رض) سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا تم نے زعموا کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا فرماتے سنا ؟ وہ بولے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : زعموا (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بری سواری ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٣٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٩، ٥/٤٠١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ زعموا کا تعلق ایسے قول اور ایسی بات سے ہے جو غیر یقینی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ ﷺ نے اس لفظ و اپنے مقصد کے لئے سواری بنانے اور اس کی آڑ لے کر کوئی ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے جو غیر محقق ہو اور جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 4972 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي زَعَمُوا، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا، قال أبو داود: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا حُذَيْفَةُ.
তাহকীক: