কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৪৯৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گڑیوں سے کھیلنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی، میں سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے، تو کچھ عورتیں آئیں، بشر کی روایت میں ہے : پھر میرے پاس (میری والدہ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پر تھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئیں، تو آپ نے میرے ساتھ رات گزاری، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں، میں نے کہا : هيه هيه۔ (ابوداؤد کہتے ہیں : هيه هيه کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی) ، عائشہ کہتی ہیں : پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں (پہلے سے بیٹھی ہوئی) ہیں، انہوں نے على الخير والبرکة کہہ کر مجھے دعا دی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٥٥، ١٦٨٨١) (صحیح ) ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے (ان عورتوں نے کہا) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کردیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا (میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٢١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4933 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَنِي وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ أَوْ سِتٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ فَذَهَبْنَ بِي وَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ فَوَقَفَتْ بِي عَلَى الْباب، فَقُلْتُ: هِيهْ هِيهْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَيْ تَنَفَّسَتْ فَأُدْخِلْتُ بَيْتًا فَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي الْآخَرِ. حدیث نمبر: 4934 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
اس میں ہے ( ان عورتوں نے کہا ) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا ( میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے ) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھولاجھولنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے، وہ مجھے لے گئیں، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی، اس وقت میں نو سال کی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٨١) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4935 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ، فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کا بیان
ہشام بن عروہ سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، وہ مجھے ایک کوٹھری میں لے گئیں تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ہیں انہوں نے مجھے خیر و برکت کی دعائیں دیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٢١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4936 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِإِسْنَادِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَأَنَا عَلَى الْأُرْجُوحَةِ وَمَعِي صَوَاحِبَاتِي فَأَدْخَلْنَنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھولاجھولنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے، قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢١٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4937 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عِذْقَيْنِ، فَجَاءَتْنِي أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي وَلِي جُمَيْمَةٌ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوسر کھیلنے کی ممانعت
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٣ (٣٧٦٢) ، موطا امام مالک/الرؤیا ٢ (٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩٤، ٣٩٧، ٤٠٠) (حسن )
حدیث نمبر: 4938 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوسر کھیلنے کی ممانعت
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے نردشیر (چوسر) کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الشعر ١ (٢٢٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٣ (٣٧٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٩٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4939 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کبوتر بازی کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا (اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے (یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ نے فرمایا : ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٤ (٣٧٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٠١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٤٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی دونوں شیطان ہیں، کبوتر اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ سے غافل اور بےپرواہ ہے، اور کبوتر اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔
حدیث نمبر: 4940 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رحمت وہمدردی کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ١٦ ( ١٩٢٤) ، ( تحفة الأشراف : ٨٩٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٢/١٦٠) ( صحیح )
حدیث نمبر: 4941 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي قَابُوسَ مَوْلَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، لَمْ يَقُلْ مُسَدَّدٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رحمت وہمدردی کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم ﷺ کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ١ ؎ فرماتے سنا ہے : رحمت (مہربانی و شفقت) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ١٦ (١٩٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠١، ٤٤٢، ٤٦١، ٥٣٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اشارہ ہے عائشہ (رض) کے حجرہ کی جانب جس میں نبی اکرم ﷺ رہتے تھے۔ ٢ ؎ : یعنی بدبخت اپنی سخت دلی کے باعث دوسروں پر شفقت و مہربانی نہیں کرتا جب کہ نیک بخت کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی وہ بےرحم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 4942 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ، قال ابْنُ كَثِيرٍفِي حَدِيثِهِ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: أَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، فَقَالَ: إِذَا قَرَأْتَهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ، يَقُولُ: لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رحمت وہمدردی کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہنچانے (اس کا ادب و احترام نہ کرے) تو وہ ہم میں سے نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4943 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ ابْنِ عَامِرٍ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْوِيهِ،قال ابْنُ السَّرْحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا، فَلَيْسَ مِنَّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحت کا بیان
تمیم داری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً ، دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کن کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٥) ، سنن النسائی/البیعة ٣١ (٤٢٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٢، ١٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اللہ کے لئے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کی ہر عبادت خالص اللہ کے لئے ہو، کتاب اللہ کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور عمل کرے، رسول کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ رسول کی نبوت کی تصدیق کرنے کے ساتھ وہ جن چیزوں کا حکم دیں اسے بجا لائے اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہے، مسلمانوں کے حاکموں کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی تابعداری کی جائے اور حقیقی شرعی وجہ کے بغیر ان کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اپنایا جائے، اور عام مسلمانوں کے لئے خیرخواہی یہ ہے کہ ان میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے۔
حدیث نمبر: 4944 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ، أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحت کا بیان
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت پر بیعت کی، اور یہ کہ میں ہر مسلمان کا خیرخواہ ہوں گا، راوی کہتے ہیں : وہ (یعنی جریر) جب کوئی چیز بیچتے یا خریدتے تو فرما دیتے : ہم جو چیز تم سے لے رہے ہیں، وہ ہمیں زیادہ محبوب و پسند ہے اس چیز کے مقابلے میں جو ہم تمہیں دے رہے ہیں، اب تم چاہو بیچو یا نہ بیچو، خریدو یا نہ خریدو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ البیعة ٦ (٤١٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٣٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٢(٥٧) ، مواقیت الصلاة ٣ (٥٢٤) ، الزکاة ٢ (١٤٠١) ، البیوع ٦٨ (٢١٥٧) ، الشروط ١ (٢٧٠٥) ، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٣ (٥٦) ، سنن الترمذی/البر ١٧ (١٩٢٥) ، مسند احمد (٤/ ٣٥٨، ٣٦١، ٣٦٤، ٣٦٥) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4945 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْجَرِيرٍ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَاعَ الشَّيْءَ أَوِ اشْتَرَاهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّ الَّذِي أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ فَاخْتَرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی مدد کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ٣ (١٤٢٥) ، البر والصلة ١٩ (١٩٣٠) ، القراء ات ١٢ (٢٩٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٥٩، ١٢٥١٠، ١٢٨٨٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١١ (٢٦٩٩) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٧ (٢٢٥) ، مسند احمد (٢/٢٥٢، ٣٢٥، ٥٠٠، ٥٢٢) ، سنن الدارمی/المقدمة ٣٢ (٣٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4946 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال عُثْمَانُ، وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ. ح وحَدَّثَنَاوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَقَالَ وَاصِلٌ قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ثُمَّ اتَّفَقُوا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی مدد کا بیان
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ تمہارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر بھلی بات صدقہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ١٦ (١٠٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٣١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨٣، ٣٩٧، ٣٩٨، ٤٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہر اچھی بات میں ایک صدقہ کا ثواب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4947 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قال نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناموں کو بدلنے کا بیان
ابوالدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپ دادا کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٩٤) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٩ (٢٧٣٦) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ اگر کسی کا نام اچھا نہ ہو تو وہ بدل کر اپنا اچھا نام رکھ لے، اور سب سے بہتر نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
حدیث نمبر: 4948 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ، قَالَ أبو داود: ابْنُ أَبِى زَكَرِيَّا لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناموں کو بدلنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأداب ١ (٢١٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٩٢٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ٦٤ (٢٨٣٦) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٠ (٢٧٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4949 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناموں کو بدلنے کا بیان
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سب سے سچے نام حارث و ہمام ہیں ١ ؎، اور سب سے ناپسندیدہ و قبیح نام حرب و مرہ ہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الخیل ٢ (٣٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٤٥) (صحیح) (اس میں تسموا باسماء الأنبیاء کا ٹکڑاصحیح نہیں ہے) (الصحیحة ١٠٤٠، ٩٠٤، والارواء ١١٧٨ وتراجع الالبانی ٤٦ ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چناچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا ، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں ، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد و ارادہ سے خالی ہو ، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔ ٢ ؎ : ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
حدیث نمبر: 4950 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا: حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا: حَرْبٌ، وَمُرَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناموں کو بدلنے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس کھجور ہے ؟ میں نے کہا : ہاں، پھر میں نے آپ ﷺ کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے اور آپ نے اس لڑکے کا نام عبداللہ رکھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الآداب ٥ (٢١٤٤) ، انظر حدیث رقم : (٢٥٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٧٥، ٢١٢، ٢٨٧، ٢٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4951 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برے نام کو بدلنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاصیہ کا نام بدل دیا ١ ؎، اور فرمایا : تو جمیلہ ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الآداب ٣ (٢١٣٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٦٦ (٢٨٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٥، ٧٨٧٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٢ (٣٧٣٣) ، مسند احمد (٢/١٨) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٢ (٢٧٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عاصیہ عمر کی بیٹی تھی جس کے معنی گنہگارو نافرمان کے ہیں۔ ٢ ؎ : یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔
حدیث نمبر: 4952 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةٌ.
তাহকীক: