কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
سنت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮ টি
হাদীস নং: ৪৭৩৬
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن کے اندر قرآن کریم کا تذکرہ ہے
عامر بن شہر (رض) کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑکے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا : کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو ؟ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٠٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٨، ٤٢٩، ٤/٢٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4736 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُمَرَ، أنبأنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ، عَنْعَامِرِ بْنِ شَهْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ، فَقَرَأَ ابْنٌ لَهُ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ، فَضَحِكْتُ، فَقَالَ: أَتَضْحَكُ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৭
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن کے اندر قرآن کریم کا تذکرہ ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حسن اور حسین (رض) کے لیے (ان الفاظ میں) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے أعيذكما بکلمات الله التامة من کل شيطان وهامة ومن کل عين لامة میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ بچھو وغیرہ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے : تمہارے باپ (ابراہیم) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧١) ، سنن الترمذی/الطب ١٨ (٢٠٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٦، ٢٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4737 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أخبرنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ: أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: كَانَ أَبُوكُمْ يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ، وَإِسْحَاق، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৮
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن کے اندر قرآن کریم کا تذکرہ ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں : اے جبرائیل ! تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں : حق (فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٥٨٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التوحید ٣١ (عقیب ٧٤٨٠ تعلیقًا) (صحیح )
حدیث نمبر: 4738 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: أخبرنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أنبأناالْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَكَلَّمَ اللَّهُ بِالْوَحْيِ، سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً، كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا، فَيُصْعَقُونَ، فَلَا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ، حَتَّى إِذَا جَاءَهُمْ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَا جِبْرِيلُ، مَاذَا قَالَ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ: الْحَقَّ، فَيَقُولُونَ: الْحَقَّ، الْحَقَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৯
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری شفاعت ١ ؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ باب خوارج اور بعض معتزلہ کے رد میں ہے جو شفاعت رسول ﷺ کے منکر ہیں، اہل حدیث و اہل سنت شفاعت کے قائل ہیں۔ ٢ ؎ : یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہوگی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور اس کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے يومئذ لا تنفع الشفاعة إلا من أذن له الرحمن ورضي له قولا (سورۃ طہ : ١٠٩) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہوگی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تاکہ رسول اکرم ﷺ کی شفاعت کا مستحق ہو۔
حدیث نمبر: 4739 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أخبرنا بَسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪০
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کا بیان
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کچھ لوگ جہنم سے محمد ( ﷺ ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ جهنميين جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٥١ (٦٥٦٦) ، سنن الترمذی/صفة جہنم ١٠ (٢٦٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٧ (٤٣١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4740 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: أخبرنا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪১
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : جنت والے اس میں کھائیں گے پیئیں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا ٧ (٢٨٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٦، ٣٦٤) سنن الدارمی/الرقاق ١٠٧ (٢٨٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ اس کے متعلقات سے ہے جنت کی نعمتوں سے جنتی کھائیں گے پیئیں گے لیکن وہ کبھی ختم نہ ہوں گی۔
حدیث نمبر: 4741 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أخبرنا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت میں اٹھائے جانے اور صور کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صور ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/صفة القیامة ٨ (٢٤٣٠) ، تفسیر القرآن ٤٠ (٣٢٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢) ، سنن الدارمی/الرقاق ٧٩ (٢٨٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4742 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أخبرنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أخبرنا أَسْلَمُ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صور ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/صفة القیامة ٨ (٢٤٣٠) ، تفسیر القرآن ٤٠ (٣٢٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢) ، سنن الدارمی/الرقاق ٧٩ (٢٨٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4742 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أخبرنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أخبرنا أَسْلَمُ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৩
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت میں اٹھائے جانے اور صور کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین ابن آدم (انسان) کے تمام اعضاء (جسم) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ١ ؎، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٣٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تفسیر الزمر ٤ (٤٨١٤) ، تفسیر النبأ ١ (٤٩٣٥) ، صحیح مسلم/الفتن ٢٨ (٢٩٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٦) ، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٨) ، مسند احمد (٢ /٣١٥، ٣٢٢، ٤٢٨، ٤٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تخلیق انسان کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے، اور شاید وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے جو لوگوں کو محسوس نہیں ہوتی، اس حدیث کے حکم سے انبیاء کرام مستثنیٰ ہیں کیونکہ إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ان کے بارے میں وارد ہے، اللہ نے زمین پر حرام قرار دے دیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کو کھائے۔
حدیث نمبر: 4743 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الْأَرْضُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৪
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا : جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات (ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہوگا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا، پھر فرمایا : جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠١٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الأیمان والنذور ٢ (٣٧٩٤) ، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٣٣٢، ٣٧٣) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ باب معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کے رد و ابطال میں ہے، جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں جب کہ اہل حدیث و سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ دونوں پیدا کی جا چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 4744 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ، قَالَ: فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৫
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے سامنے (قیامت کے دن) ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح ١ ؎ کے درمیان ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٩ (٢٢٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٣٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الرقاق ٥٣ (٦٥٧٧) ، مسند احمد (٢/٢١، ٦/١٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جرباء اور اذرح نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ ٢ ؎ : حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
حدیث نمبر: 4745 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: أخبرنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৬
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا : تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے ۔ راوی (ابوحمزہ) کہتے ہیں : میں نے زید بن ارقم (رض) سے کہا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ کہا : سات سویا آٹھ سو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٦٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٦٧، ٣٦٩، ٣٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4746 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: سَبْعُ مِائَةٍ، أَوْ ثَمَانِ مِائَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৭
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو کہتے سنا : (ایک بار) رسول اللہ ﷺ پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کو ہنسی کیوں آئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی پھر آپ ﷺ نے پڑھا : بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناک الکوثر یہاں تک کہ سورت ختم کرلی، جب آپ ﷺ اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت (پینے) آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4747 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَإِمَّا قَالَ لَهُمْ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ ضَحِكْتَ ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا قَرَأَهَا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، عَلَيْهِ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৮
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں جب اللہ کے نبی اکرم ﷺ کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی، جس کے دونوں کنارے مجیّب یا کہا مجوّف (خول دار) یاقوت کے تھے، آپ ﷺ کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی، تو محمد ﷺ نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الرقاق ٥٣ (٦٥٨١) ، التوحید ٣٧ (٧٥١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4748 حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، أخبرنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أخبرنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ كَمَا قَالَ: عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ، أَوْ قَالَ: الْمُجَوَّفُ، فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ: مَا هَذَا ؟، قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৯
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان
عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبرزہ (رض) کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا، (مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا : دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے، تو شیخ (ابوبرزہ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے : مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد ﷺ کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے، تو عبیداللہ نے ان سے کہا : محمد ﷺ کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے، نہ کہ عیب کی، پھر کہنے لگا : میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے ؟ تو ابوبرزہ (رض) نے کہا : ہاں ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، چار بار نہیں، پانچ بار نہیں (یعنی بہت بار سنا ہے) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤١٩، ٤٢١، ٤٢٤، ٤٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4749 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أخبرنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ أَبُو طَالُوتَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَحَدَّثَنِي فُلَانٌ، سَمَّاهُ مُسْلِمٌ، وَكَانَ فِي السِّمَاطِ، فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا الدَّحْدَاحُ، فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسَبُ أَنِّي أَبْقَى فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ: إِنَّ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ زَيْنٌ، غَيْرُ شَيْنٍ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِأَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِيهِ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَرْزَةَ: نَعَمْ، لَا مَرَّةً، وَلَا ثِنْتَيْنِ، وَلَا ثَلَاثًا، وَلَا أَرْبَعًا، وَلَا خَمْسًا، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ، فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ مُغْضَبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫০
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبر میں سوال وجواب اور عذاب قبر کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے (سورۃ ابراہیم : ٢٧) سے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٦ (٣١٢٠) ، و تفسیر سورة إبراہیم ٢ (٤٦٩٩) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧١) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة إبراہیم ١٥ (٣١٢٠) ، سنن النسائی/الجنائز ١١٤ (٢٠٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٨٢، ٢٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4750 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، أخبرنا شُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ، فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫১
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبر میں سوال وجواب اور عذاب قبر کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ ﷺ گھبرا اٹھے، فرمایا : یہ قبریں کس کی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا : ایسا کیوں ؟ اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے : تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ کی عبادت کرتا تھا ؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے ؟ ١ ؎ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے : یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے : مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے : تو کس کی عبادت کرتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے : نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی (یعنی قرآن) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے : تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٢٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بعض لوگوں نے في هذا الرجل سے یہ خیال کیا ہے کہ میت کو نبی اکرم ﷺ کی شبیہ دکھائی جاتی ہے، یا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، مگر یہ محض خیال ہے، اس کی کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں ، مردہ نور ایمانی سے ان سوالوں کے جواب دے گا نا کہ دیکھنے اور جاننے کی بنیاد پر، ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تھا منکر نکیر کے سوال پر وہ آپ کو نہیں پہچان سکتا ، اور آج کا مومن موحد باوجود یہ کہ اس نے آپ کو دیکھا نہیں مگر جواب درست دے گا کیونکہ اس کا نور ایمان اس کو جواب سمجھائے گا، اگرچہ لفظ هذا محسوس قریب کے لئے آتا ہے مگر ذلك جو بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے، اس کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے وبالعکس، وقد ذكره البخاري عن معمر بن المثنى عن أبي عبيدة پھر جواب میں هو کا لفظ موجود ہے جو ضمیر غائب ہے جو اس کے حقیقی معنی مراد لینے سے مانع ہے، فافهم۔
حدیث نمبر: 4751 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، أخبرنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ أَبُو نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَفَزِعَ، فَقَالَ: مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالُوا: وَمِمَّ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، أَتَاهُ مَلَكٌ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ ؟ فَإِنِ اللَّهُ هَدَاهُ، قَالَ: كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهَا فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا بَيْتُكَ كَانَ لَكَ فِي النَّارِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ، وَرَحِمَكَ، فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، أَتَاهُ مَلَكٌ، فَيَنْتَهِرُهُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، فَيُقَالُ لَهُ: فَمَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا الْخَلْقُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبر میں سوال وجواب اور عذاب قبر کا بیان
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے : جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے : رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں راوی نے منافق کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے : اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٢٣١) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مردہ واپس لوٹنے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کیونکہ وہ نیچے زمین میں ہے اور چلنے والے اوپر چل رہے ہوتے ہیں، ان کی بات چیت نہیں سنتا کیونکہ قبر پر آواز جانے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس سے سماع موتیٰ پر استدلال کرنا محض غلط ہے، کیونکہ لوٹنے والوں کی بات سننے کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے، لہذا جوتیوں کی دھمک سننے سے بات چیت کے سننے کا اثبات غلط ہے، نیز حدیث میں اس خاص موقع پر مردوں کے سننے کی یہ بات آئی ہے، جیسے غزوہ بدر میں قریش کے مقتولین جو بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے تھے، اور رسول اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کیا تھا یہ بھی مخصوص صورت حال تھی، اس طرح کے واقعات سے مردوں کے عمومی طور پر سننے پر استدلال صحیح نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، (ملاحظہ ہو علامہ آلوسی کی کتاب : ” کیا مردے سنتے ہیں ؟ “ نیز مولانا عبداللہ بھاولپوری کا رسالہ ” سماع موتی “ ) ۔
حدیث نمبر: 4752 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أخبرنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ، قَالَ فِيهِ: وَأَمَّا الْكَافِرُ، وَالْمُنَافِقُ، فَيَقُولانِ لَهُ: زَادَ الْمُنَافِقَ، وَقَالَ: يَسْمَعُهَا مَنْ وَلِيَهُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৩
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبر میں سوال وجواب اور عذاب قبر کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا : قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : اور فرمایا : اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی ! تمہارا رب کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ اور تمہارا نبی کون ہے ؟ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں : تمہارا رب (معبود) کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں : تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں : یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں : تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا ؟ وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے : اللہ تعالیٰ کے قول يثبت الله الذين آمنوا سے یہی مراد ہے (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا : پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو ، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو ، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو آپ ﷺ فرماتے ہیں : پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کردی جاتی ہے ۔ اور رہا کافر تو آپ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا : اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : تمہارا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں : یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں : تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے : اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو ، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو ، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہوجاتی ہیں جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے : پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کردیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہوجائے، چناچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہوجاتا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں : پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٣٢١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨) (صحیح) حدیث کا پہلا ٹکڑا گزر چکا ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (٣٢١٢ )
حدیث نمبر: 4753 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ. ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ هَاهُنَا، وَقَالَ: وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، حِينَ يُقَالُ لَهُ: يَا هَذَا، مَنْ رَبُّكَ ؟ وَمَا دِينُكَ ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ ؟ قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ، فَآمَنْتُ بِهِ، وَصَدَّقْتُ، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، قَالَ: وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ، قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ، فَذَكَرَ مَوْتَهُ، قَالَ: وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا، وَسَمُومِهَا، قَالَ: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى، أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا، قَالَ: فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، فَيَصِيرُ تُرَابًا، قَالَ: ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৪
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبر میں سوال وجواب اور عذاب قبر کا بیان
ابوعمر زاذان کہتے ہیں کہ میں نے براء (رض) کو نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4754 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، أخبرنا الْأَعْمَشُ، أخبرنا الْمِنْهَالُ، عَنْ أَبِي عُمَرَ زَاذَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক: