কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
سنت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৮ টি
হাদীস নং: ৪৭১৬
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان
حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو كل مولود يولد على الفطرة ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ١ ؎ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا : ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا : ألست بربکم قالوا بلى کیا میں تمہارا رب (معبود) نہیں ہوں ؟ تو انہوں نے کہا تھا : کیوں نہیں، ضرور ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٥٩١) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی تاویل اس طرح بیان فرمائی کہ چونکہ میثاق الٰہی کے مطابق ہر ایک نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، لہٰذا اسی اقرار پر وہ پیدا ہوتا ہے، بعد میں لوگ اس کو یہودی، نصرانی ، مجوسی یا مشرک بنا لیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4716 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُفَسِّرُ حَدِيثَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ حَيْثُ، قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى سورة الأعراف آية 172.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১৭
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وائدہ (زندہ درگور کرنے والی) اور مؤودہ (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں ١ ؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں : میرے والد نے کہا : مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود (رض) سے اور ابن مسعود نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٤٦٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وائدہ اور مؤودہ سے کیا مراد ہے ؟ بعض محدثین نے وائدہ سے زندہ درگور کرنے والی عورت، اور مؤودہ سے زندہ درگور کی گئی بچی مراد لی ہے، اس صورت میں ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ایک خاص بچی کے بارے میں فرمایا، یہ حکم عام نہیں ہے، بعض محدثین کے نزدیک وائدہ سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور مؤودہ سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
حدیث نمبر: 4717 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ، قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا: قَالَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১৮
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد کہاں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے والد جہنم میں ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٨٨ (٢٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩، ٢٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام نووی فرماتے ہیں کہ اس سے صاف ظاہر ہے اہل فترہ (عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ) اگر مشرک ہیں تو جہنمی ہیں، کیونکہ ان کو دعوت ابراہیمی پہنچی تھی، نبی اکرم ﷺ کے والد کے بارے میں یہ حدیث نص صریح ہے، علامہ سیوطی وغیرہ نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندہ فرمایا، یا وہ ایمان لائے اور پھر مرگئے ، تو یہ محض موضوع من گھڑت روایات پر مبنی ہے، ائمہ حدیث مثلا دارقطنی، جورقانی، ابن شاہین، ابن عساکر، ابن ناصر، ابن الجوزی، سہیلی، قرطبی، محب الطبری، ابن سیدالناس، ابراہیم الحلبی وغیرہم نے ان احادیث کو مکذوب مفتری اور موضوع قرار دیا ہے، علامہ ابراہیم حلبی نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے، اسی طرح ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور ایک مستقل کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے والدین کے ایمان کی بات غلط محض ہے، علی کل حال اس مسئلہ میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیئے بلکہ اپنی نجات کی فکر کرنی چاہیئے۔
حدیث نمبر: 4718 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ: أَبُوكَ فِي النَّارِ فَلَمَّا قَفَّى، قَالَ: إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১৯
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شیطان ابن آدم (انسان) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٩ (٢١٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٥، ١٥٦، ٢٨٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4719 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২০
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے بات چیت میں پہل کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٧١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی حکیم بن شریک ہذلی مجہول ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : جہمیہ : اہل بدعت کا ایک مشہور فرقہ ہے جو اللہ کی صفات کا منکر ہے اور قرآن کو مخلوق کہتا ہے ، ائمہ دین کی بہت بڑی تعداد نے ان کی تکفیر کی ہے۔
حدیث نمبر: 4720 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمُ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২১
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٧٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٦٠ (١٣٤) ، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے : میں اللہ و رسول پر ایمان لا چکا ہوں۔
حدیث نمبر: 4721 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، أخبرنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا : جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو : الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له کفوا أحد اللہ ایک ہے وہ بےنیاز ہے ١ ؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/ عمل الیوم واللیة (٦٦١) ، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٧٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو ، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بےنیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔
حدیث نمبر: 4722 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أخبرنا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍمَوْلَى بَنِي تَيْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا: اللَّهُ أَحَدٌ 1 اللَّهُ الصَّمَدُ 2 لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ 3 وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ 4 سورة الإخلاص آية 1-4، ثُمَّ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৩
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا : تم اسے کیا نام دیتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : سحاب (بادل) ، آپ ﷺ نے فرمایا : اور مزن بھی لوگوں نے کہا : ہاں مزن بھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اور عنان بھی لوگوں نے عرض کیا : اور عنان بھی، (ابوداؤد کہتے ہیں : عنان کو میں اچھی طرح ضبط نہ کرسکا) آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہمیں نہیں معلوم، آپ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات آسمان گنائے پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر الحاقة ٦٧ (٣٣٢٠) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٦، ٢٠٧) (ضعیف) ( اس کے راوی عبداللہ بن عمیرہ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی فرشتے ان کی شکل میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4723 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، أخبرنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ ؟، قَالُوا: السَّحَابَ، قَالَ: وَالْمُزْنَ، قَالُوا: وَالْمُزْنَ، قَالَ: وَالْعَنَانَ، قَالُوا: وَالْعَنَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ أُتْقِنْ الْعَنَانَ جَيِّدًا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ؟ قَالُوا: لَا نَدْرِي، قَالَ: إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا: إِمَّا وَاحِدَةٌ، أَوِ اثْنَتَانِ، أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৪
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٤) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4724 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ،أنبأنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: أنبأنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৫
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
اس سند سے بھی سماک سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٤) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4725 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ، ومعنى هذا الحديث الطويل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৬
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! لوگ مصیبت میں پڑگئے، گھربار تباہ ہوگئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہوگئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ پھر رسول اللہ ﷺ سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ ﷺ کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا : تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جاسکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو ! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، (ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣١٩٦) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں، نیز سند میں اختلاف ہے )
حدیث نمبر: 4726 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالُوا: أخبرنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ أَحْمَدُ: كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جُهِدَتِ الْأَنْفُسُ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ، وَهَلَكَتِ الْأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ، وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ، أَتَدْرِي مَا تَقُولُ ؟، وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ، أَتَدْرِي مَا اللَّهُ ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا، وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ، قال ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أبو داود: وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ، ووَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ: يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا، وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَابْنِ الْمُثَنَّى، وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৭
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٠٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے، اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول و عرض اور عظمت و جثہ بتانا ہے، اور ستر کا عدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
حدیث نمبر: 4727 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أخبرنا أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ، مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৮
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہمیہ کا بیان
ابوہریرہ (رض) کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو آیت کریمہ إن الله يأمرکم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔۔۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے (سورۃ النساء : ٥٨) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو) ، ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں : عبداللہ بن یزید مقری نے کہا : یعنی إن الله سميع بصير پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ جہمیہ کا رد ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٦٧) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں جہمیہ کا رد بلیغ ہے، جہمیہ اللہ کے لئے صفت سمع و بصر کی نفی کرتے ہیں، رسول اکرم ﷺ نے انگوٹھا اور انگلی رکھ کر ان کی تردید فرما دی، جہمیہ تشبیہ سے بچنے کے لئے ایسا کہتے ہیں، جب کہ اس میں تشبیہ ہے ہی نہیں، مقصود صفت سمع (سننا) صفت بصر (دیکھنا) کا اثبات ہے، یہ مقصود نہیں کہ اس کی آنکھ وکان ہماری آنکھ اور کان جیسے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کان اس کی عظمت و جلال کے لائق ہیں، بلا کسی کیفیت تشبیہ، و تمثیل اور تعطیل کے سبحانہ تعالیٰ ۔
حدیث نمبر: 4728 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ المعنى، قَالَا: أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أخبرنا حَرْمَلَةُ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: قَالَ الْمُقْرِئُ: يَعْنِي إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ: يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا، قال أَبُو دَاوُد: وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২৯
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار باری تعالیٰ کا بیان
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا : تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی زحمت نہ ہوگی، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو پھر آپ نے یہ آیت فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبها اور اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے (سورۃ طہٰ : ١٣٠) پڑھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ١٦ (٥٥٤) ، التوحید ٢٤ (٧٤٣٥) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٦٣٣) ، سنن الترمذی/صفة الجنة ١٦ (٢٥٥١) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤ /٣٦٠، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قیامت میں موحدین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا، اہل سنت والجماعت اور صحابہ و تابعین کا یہی مسلک ہے، جہمیہ و معتزلہ اور بعض مرجئہ اس کے خلاف ہیں، ان کے پاس کوئی دلیل قرآن و سنت سے موجود نہیں ہے، محض تاویل اور بعض بےبنیاد شبہات کے بل بوتے پر انکار کرتے ہیں، اس باب میں ان کی تردید مقصود ہے۔
حدیث نمبر: 4729 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أخبرنا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: 0 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا 0.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩০
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار باری تعالیٰ کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟ لوگوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہوگی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٦٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٩ (٨٠٦) ، والرقاق ٥٢ (٦٥٧٣) ، والتوحید ٢٤ (٧٤٣٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨١ (١٨٢) والزھد ١ (٢٩٦٦) ، سنن الترمذی/صفة الجنة ١٧ (٢٥٥٤) ، سنن الدارمی/الرقاق ٨١ (٢٨٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اور چونکہ ان کے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ کے دیدار میں بھی دقت نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 4730 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩১
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار باری تعالیٰ کا بیان
ابورزین عقیلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو (قیامت کے دن) بلا رکاوٹ دیکھے گا ؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابورزین ! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١١١٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١، ١٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جب اس کی مخلوق کو ہر ایک بلا روک ٹوک دیکھ لیتا ہے تو اللہ کو جو اس سے بہت ہی بڑا ہے کیوں نہیں دیکھ سکتا ؟۔
حدیث نمبر: 4731 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا حَمَّادٌ. ح وأخبرنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أخبرنا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، عَنْيَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ مُوسَى: ابْنِ عُدُسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ مُوسَى: الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ ؟ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ ؟، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَاللَّهُ أَعْظَمُ ؟، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: قَالَ: فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار باری تعالیٰ کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا : میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے ؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے ؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا : میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے ؟ کہاں ہیں اترانے والے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التوحید ١٩ (٧٤١٤ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/صفة القیامة (٢٧٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٧٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٤ (١٩٨) (صحیح) ( شمال (بایاں ہاتھ) کے ذکر میں عمر بن حمزة متفرد ہیں، جبکہ صحیح احادیث میں رب کے دونوں ہاتھ کو دایاں ہاتھ کہا گیا ہے، ملاحظہ ہو : الصحيحة 3136 تراجع الألباني 124 )
حدیث نمبر: 4732 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ: أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ، أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: بِيَدِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ، أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৩
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیدار باری تعالیٰ کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے : کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٣١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٦٣، ١٥٢٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دونوں احادیث میں اللہ کی صفات کا ذکر ہے جن کا جہمیہ انکار کرتے ہیں، علماء سلف کا مسلک اس بارے میں یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ جس طرح قرآن وسنت میں وارد ہیں ان کو جوں کا توں باقی رکھا جائے نہ ان کا انکار کیا جائے، اور نہ ان کی تاویل کی جائے، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی کتاب شرح حدیث النزول دیکھیے جو اس بارے میں دلائل سے پُر اور اپنے باب میں عدیم النظیر ہے۔
حدیث نمبر: 4733 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا عز وجل كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৪
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن کے اندر قرآن کریم کا تذکرہ ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خود کو موقف (عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے : کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٤ (٢٩٢٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (٢٠١) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٩٠) ، دی/فضائل ٥ (٣٣٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : رسول اکرم ﷺ موسم حج میں مختلف قبائل کے پاس جاتے اور ان میں دین اسلام کی تبلیغ کرتے تھے، اسی کی طرف اشارہ ہے، اس حدیث میں قرآن کو کلام اللہ فرمایا گیا ہے جس سے معتزلہ وغیرہ کی تردید ہوتی ہے جو کلام اللہ کو اللہ کی صفت نہ مان کر اس کو مخلوق کہتے تھے، سلف صالحین نے قرآن کو مخلوق کہنے والے گروہ کی تکفیر کی ہے، جب کہ قرآنی نصوص ، احادیث شریفہ اور آثار سلف سے قرآن کا کلام اللہ ہونا ، اور کلام اللہ کا صفت باری تعالیٰ ہونا ثابت ہے، اور اس پر سلف کا اجماع ہے۔
حدیث نمبر: 4734 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأنا إِسْرَائِيلُ، أخبرنا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৫
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن کے اندر قرآن کریم کا تذکرہ ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشھادت ١٥ (٢٦٦١) ، المغازي ١٢ (٤٠٢٥) ، ٣٤ (٤١٤١) ، صحیح مسلم/التوبة ١٠ (٢٧٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٢٦، ١٦١٢٨، ١٦٣١١، ١٦٥٧٦، ١٧٤٠٩، ١٧٤١٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرما دے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔
حدیث نمبر: 4735 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى.
তাহকীক: