কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৩ টি
হাদীস নং: ৪৫৫৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے
علی (رض) کہتے ہیں قتل خطا کی دیت میں چار قسم کے اونٹ ہوں گے : پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4553 حدثنا هَنَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِفِي شِبْهِ الْعَمْدِ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے
عثمان بن عفان اور زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں، اور دیت خطا میں تیس حقہ، تیس بنت لبون، بیس ابن لبون، اور بیس بنت مخاض ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 4554 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍفي الْمُغَلَّظَةِ: أَرْبَعُونَ جَذَعَةً خَلِفَةً، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَفِي الْخَطَإِ: ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے
زید بن ثابت سے دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں مروی ہے پھر راوی نے ہو بہو اسی کے مثل ذکر کیا جیسے اوپر گزرا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد ) ابوداؤد کہتے ہیں ابو عبید اور دوسرے بہت سے لوگوں نے کہا : اونٹ جب چوتھے سال میں داخل ہوجائے تو نر کو حق اور مادہ کو حقة کہتے ہیں، اس لیے کہ اب وہ اس لائق ہوجاتا ہے کہ اس پر بار لادا جائے، اور سواری کی جائے اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہوجائے تو نر کو جذع اور مادہ کو جذعة کہتے ہیں، اور جب چھٹے سال میں داخل ہوجائے، اور سامنے کے دانت نکال دے تو نر کو ثني اور مادہ کو ثنية کہتے ہیں، اور جب ساتویں سال میں داخل ہوجائے تو نر کو رباع اور مادہ کو رباعية کہتے ہیں، اور جب آٹھویں سال میں داخل ہوجائے، اور وہ دانت نکال دے جو رباعية کے بعد ہے تو نر کو سديس اور مادہ کو سدس کہتے ہیں : اور جب نویں سال میں داخل ہوجائے اور اس کی کچلیاں نکل آئیں تو اسے بازل کہتے ہیں، اور جب دسویں سال میں داخل ہوجائے تو وہ مخلف ہے، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ہوتا، البتہ یوں کہا جاتا ہے ایک سال کا ب بازل ، دو سال کا بازل ایک سال کا مخلف ، دو سال کا مخلف اسی طرح جتنا بڑھتا جائے۔ نضر بن شمیل کہتے ہیں : ایک سال کی بنت مخاض ہے، دو سال کی بنت لبون ، تین سال کی حقة ، چار سال کی جذعة پانچ سال کا ثني چھ سال کا رباع ، سات سال کا سديس ، آٹھ سال کا بازل ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوحاتم اور اصمعی نے کہا : جذوعة ایک وقت ہے ناکہ کسی مخصوص سن کا نام۔ ابوحاتم کہتے ہیں : جب اونٹ اپنے رباعیہ ڈال دے تو وہ رباع اور جب ثنیہ ڈال دے تو ثني ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں : جب وہ حاملہ ہوجائے تو اسے خلفہ کہتے ہیں اور وہ دس ماہ تک خلفة کہلاتا ہے، جب دس ماہ کا ہوجائے تو اسے عشراء کہتے ہیں۔ ابوحاتم نے کہا : جب وہ ثنیہ ڈال دے تو ثني ہے اور رباعیہ ڈال دے تو رباع ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4555 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الدِّيَةِ الْمُغَلَّظَةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ وَعَنْ غَيْرُ وَاحِدٍ إِذَا دَخَلَتِ النَّاقَةُ فِي السَّنَةِ الرَّابِعَةِ فَهُوَ حِقٌّ وَالْأُنْثَى حِقَّةٌ، لِأَنَّهُ يَسْتَحِقُّ أَنْ يُحْمَلَ عَلَيْهِ وَيُرْكَبَ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَهُوَ جَذَعٌ وَجَذَعَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ وَثَنِيَّةٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي السَّابِعَةِ فَهُوَ رَبَاعٌ وَرَبَاعِيَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ وَأَلْقَى السِّنَّ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التَّاسِعَةِ وَفَطَرَ نَابُهُ وَطَلَعَ فَهُوَ بَازِلٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ مُخْلِفٌ ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ، وَلَكِنْ يُقَالُ بَازِلُ عَامٍ وَبَازِلُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ عَامٍ وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ إِلَى مَا زَادَ، وَقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: ابْنَةُ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ، وَبْنِتُ لَبُونٍ لِسَنَتَيْنِ، وَحِقَّةٌ لِثَلَاثٍ، وَجَذَعَةٌ لِأَرْبَعٍ، وَثَنِيٌّ لَخَمْسٍ، وَرَبَاعٌ لِسِتٍّ، وَسَدِيسٌ لِسَبْعٍ، وَبَازِلٌ لِثَمَانٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَبُو حَاتِمٍ، وَالْأَصْمَعِيُّ: وَالْجُذُوعَةُ وَقْتٌ وَلَيْسَ بِسِنٍّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَالَ بَعْضُهُمْ: فَإِذَا أَلْقَى رَبَاعِيَتَهُ فَهُوَ رَبَاعٌ، وَإِذَا أَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: إِذَا لَقِحَتْ فَهِيَ خَلِفَةٌ، فَلَا تَزَالُ خَلِفَةً إِلَى عَشَرَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ فَهِيَ عُشَرَاءُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: إِذَا أَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ، وَإِذَا أَلْقَى رَبَاعِيَتَهُ فَهُوَ رَبَاعٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩٧، ٣٩٨، ٤٠٤) ، دی/ الدیات ١٥ (٢٤١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4556 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انگلیاں تمام برابر ہیں میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٠٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4557 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، قُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْغَالِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ،وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي غَالِبٌ التَّمَّارُ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، عَنْ غَالِبٍ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ اور یہ برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی (کانی انگلی) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٠ (٦٨٩٥) ، سنن الترمذی/الدیات ٤ (١٣٩٢) ، سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٥١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ١/٣٣٩) ، سنن الدارمی/الدیات ١٥ (٢٤١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4558 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَهَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْإِبْهَامَ وَالْخِنْصَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٧ (٢٦٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٦١٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4559 حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ الثَّنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ، هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ،عَنْ شُعْبَةَ، بِمَعْنَى عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه الدَّارِمِيُّ، عَنْالنَّضْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں سب برابر ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدیات ٤ (١٣٩١) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4560 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کی انگلیوں کو برابر قرار دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4561 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا : انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٣) ، مسند احمد (٢/٢٠٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4562 حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فِي الْأَصَابِعِ: عَشْرٌ عَشْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کرم ﷺ نے فرمایا : دانتوں میں پانچ پانچ (اونٹ) ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٩ (٢٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4563 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي الْأَسْنَانِ: خَمْسٌ خَمْسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گاؤں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہوجاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کردیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے (دیت کی قیمت) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ ﷺ نے گائے بیل والوں پر (دیت میں) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہوگا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ اور اگر اس کا بانسہ (دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہوگی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہوگی، پیر میں بھی آدھی دیت ہوگی۔ اور مامومہ ١ ؎ میں ایک تہائی دیت ہوگی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ ٢ ؎ میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا : عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہوگی (یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں (جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ) اور اگر وہ قتل کردی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہوگی (نہ کہ عصبات میں) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے (اگر قصاص لینا ہو) ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہوگا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٢٧ (٤٨٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٧١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٢/١٨٣، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : مامومہ : سر کے ایسے زخم کو کہتے ہیں جو دماغ تک پہنچ جائے۔ ٢ ؎ : جائفہ : وہ زخم ہے جو سر، پیٹ یا پیٹھ کے اندر تک پہنچ جائے اور اگر وہ زخم دوسری طرف بھی پار کر جائے تو اس میں دو تہائی دیت دینی ہوگی۔
حدیث نمبر: 4564 قَالَ أَبُو دَاوُد: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ شَيْبَانَ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَاشَيْبَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وَإِذَا هَاجَتْ رُخْصًا نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا، وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ، وَعَدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ دِيَةُ عَقْلِهِ فِي الشَّاءِ فَأَلْفَيْ شَاةٍ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَإِنْ جُدِعَتْ ثَنْدُوَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ عَدْلُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوْ مِائَةُ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفُ شَاةٍ، وَفِي الْيَدِ إِذَا قُطِعَتْ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَفِي الرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْإِبِلِ وَثُلُثٌ أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَفِي الْأَصَابِعِ فِي كُلِّ أُصْبُعٍ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَسْنَانِ فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لَا يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهُمْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ فَوَارِثُهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا كُلُّهُ حَدَّثَنِي بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ هَرَبَ إِلَى الْبَصْرَةِ مِنَ الْقَتْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے یہ (قتل شبہ عمد) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہوجاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٧١٣) (حسن )
حدیث نمبر: 4565 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الْعَامِلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْسُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، قَالَ: وَزَادَنَا خَلِيلٌ: عَنِ ابْنِ رَاشِدٍ: وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونُ دِمَاءٌ فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مواضح ١ ؎ میں دیت پانچ اونٹ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٣٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٠، ٨٦٨٣) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مواضح ایسے زخم کو کہتے ہیں جس سے ہڈی دکھائی دینے لگے۔
حدیث نمبر: 4566 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْمَوَاضِحِ: خَمْسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعضاء کی دیت کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٣٦ (٤٨٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٧٠) (حسن) (یہ سند حسن کے مرتبہ تک پہنچنے کے لائق ہے )
حدیث نمبر: 4567 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلُثِ الدِّيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کردیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، (اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی) آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو ؟ تو آپ ﷺ نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ١ (١٦٨٢) ، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١١) ، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩٠٥-٦٩٠٨) ، الاعتصام ١٣ (٧٣١٧) ، مسند احمد ( ٤ /٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4568 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان
اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4569 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان
مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا : میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ (رض) کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گرجائے تو اس کی تعبیر مَلِصَ سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ القسامة ٢ (١٦٨٩) ، سنن ابن ماجہ/ الدیات ١١ (٢٦٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٣٣، ١١٥٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٣) (صحیح) (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 4570 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان
عمر (رض) سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الدیات ٢٥ (٦٩٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4571 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان
عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے : میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مرگئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کردیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل نے کہا : مسطح چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو عبید نے کہا :مسطح خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٧٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٦٤، ٤/ ٧٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٢١ (٢٤٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4572 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَطَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيِه حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ.
তাহকীক: