কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৩ টি
হাদীস নং: ৪৫১৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مر گئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ: كَذَا قَالَ: عَنْ أُمِّهِ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَخْلَدِ بْنِ خَالِدٍ، نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ ؟، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحِجَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام کو قتل کردیا یا مثلہ کردیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں ؟
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدیات ١٨ (١٤١٤) ، سنن النسائی/القسامة ٦ (٤٧٤٠) ، ٧ (٤٧٤٣) ، ١٢ (٤٧٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨) ، دی/ الدیات ٧ (٢٤٠٣) (ضعیف) (سند میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری نے عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ سے دوسری احادیث نہیں سنی ہے )
حدیث نمبر: 4515 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْسَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام کو قتل کردیا یا مثلہ کردیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں ؟
اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4516 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ خَصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَحَمَّادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام کو قتل کردیا یا مثلہ کردیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں ؟
اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن (راوی حدیث) اس حدیث کو بھول گئے چناچہ وہ کہتے تھے : آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : وانظر حدیث رقم : (٤٥١٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4517 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ مِثْلَهُ، زَادَ: ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَكَانَ يَقُولُ: لَا يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کا بیان
حسن بصری کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٥١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٨٥٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4518 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: لَا يُقَادُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام کو قتل کردیا یا مثلہ کردیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں ؟
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا : ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا ؟ اس نے کہا : برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لاسکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا : جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری مدد کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہر مومن پر یا کہا : ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٩ (٢٦٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٧١٦، ٤٥٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٢، ٢٢٥) (حسن )
حدیث نمبر: 4519 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مُسْتَصْرِخٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جَارِيَةٌ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ مَا لَكَ ؟ قَالَ: شَرًّا أَبْصَرَ لِسَيِّدِهِ جَارِيَةً لَهُ فَغَارَ فَجَبَّ مَذَاكِيرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي ؟ قَالَ: عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ، أَوْ قَالَ: كُلِّ مُسْلِمٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي عُتَقَ كَانَ اسْمُهُ رَوْحُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي جَبَّهُ زِنْبَاعٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا زِنْبَاعٌ أَبُو رَوْحٍ كَانَ مَوْلَى الْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت کا بیان
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کردیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کا لحاظ کرو (اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا : بڑے کو پہلے بولنے دو چناچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کردیا جائے ان لوگوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں ؟ آپ نے فرمایا : پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے : اللہ کے رسول ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار ؟ ) چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں : ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے : کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو ؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٧ (٢٧٠٢) ، الجزیة ١٢ (٣١٧٣) ، الأدب ٨٩ (٦١٤٣) ، الدیات ٢٢ (٦٨٩٨) ، الأحکام ٣٨ (٧١٩٢) ، صحیح مسلم/القسامة ١ (١٦٦٩) ، سنن الترمذی/الدیات ٢٣ (١٤٤٢) ، سنن النسائی/القسامة ٢ (٤٧١٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٨ (٢٦٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٤، ١٥٥٣٦) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/القسامة ١ (١) ، مسند احمد ( ٤/٢، ٣) ، سنن الدارمی/الدیات ٢ (٢٣٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قسامہ یہ ہے کہ جب مقتول کی نعش کسی بستی یا محلہ میں ملے اور اس کا قاتل معلوم نہ ہو تو مقتول کے ورثہ کا جس پر گمان ہو اس پر پچاس قسمیں کھائیں کہ اس نے قتل کیا ہے اگر مقتول کے ورثہ قسم کھانے سے انکار کریں تو اہل محلہ میں سے جنہیں وہ اختیار کریں ان سے قسم لی جائے گی، اگر قسم کھا لیں تو ان پر کچھ مواخذہ نہیں ، اور قسم نہ کھانے کی صورت میں وہ دیت دیں، اور اگر نہ مقتول کے ولی قسم کھائیں، اور نہ ہی بستی یا محلہ والے تو سرکاری خزانہ سے اس مقتول کی دیت ادا کی جائے گی، جیسا کہ آپ ﷺ نے ادا کیا۔
حدیث نمبر: 4520 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْبَشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكُبْرَ الْكُبْرَ، أَوْ قَالَ: لِيَبْدَإِ الْأَكْبَرُ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ، قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ ؟ قَالَ: فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ، قَالَ سَهْلٌ: دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا، قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَمَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ فِيهِ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ بِشْرٌ دَمًا، وقَالَ عَبْدَةُ: عَنْ يَحْيَى، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى، فَبَدَأَ بِقَوْلِهِ: تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِحْقَاقَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت کا بیان
سہل بن ابی حثمہ انصاری (رض) اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ (رض) کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ (محیصہ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے : قسم اللہ کی ! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے : اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑوں کو بڑائی دو آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چناچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا : کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس پر آپ نے فرمایا : تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے اس پر وہ کہنے لگے : وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کردیے گئے، سہل کہتے ہیں : انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٣٦، ٤٦٤٤، ١٥٥٩٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4521 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرْ كَبِّرْ، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت کا بیان
عمرو بن شعیب رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃ الرغاء ١ ؎ میں لیۃ البحرہ ٢ ؎ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں : قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، ببحرة الرغاء على شطر لية البحر کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١٧٣) (ضعیف) (اس سند میں عمرو بن شعیب نے رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے روایت کی ہے، عموماً وہ اپنے والد اور ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں، اس لئے سند میں اعضال ہیں یعنی مسلسل دو راوی ایک جگہ سے ساقط ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎ : ایک وادی کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 4522 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا. ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنْأَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ بِبَحْرَةِ الرُّغَاءِ عَلَى شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ، قَالَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ، وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةٍ، أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ عَلَى شَطِّ لِيَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہوگئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا : تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے : ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چناچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا : تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا : پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے : ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہوجائے چناچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٤٥٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٤، ١٥٥٣٦، ١٥٥٩٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4523 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، فَقَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، فَانْطَلَقْنَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ هَذَا، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کردیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہوجانے کی گواہی دیں ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کرلیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٦٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4524 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: لَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلَفُوهُمْ، فَأَبَوْا، فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہوگیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا : ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں : اس پر اس کی دیت رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٥٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٨٦) (منکر )
حدیث نمبر: 4525 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، قَالَ: إِنَّ سَهْلًا وَاللَّهِ أَوْهَمَ الْحَدِيثَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ أَنَّهُ قَدْ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَتِيلٌ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةِ نَاقَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پہلے یہود سے کہا : تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے انصار سے کہا : تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٨٨، ١٥٦٩١) (شاذ )
حدیث نمبر: 4526 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْيَهُودِ وَبَدَأَ بِهِمْ: يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: اسْتَحِقُّوا، قَالُوا: نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةً عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا : کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٥ (٢٧٤٦) ، والطلاق ٢٤ (تعلیقاً ) ، الدیات ٤ (٦٨٧٦) ، ٥ (٦٨٧٧) ، ١٢ (٦٨٨٤) ، صحیح مسلم/القسامة ٣ (١٦٧٢) ، سنن الترمذی/الدیات ٦ (١٣٩٤) ، سنن النسائی/المحاربة ٧ (٤٠٤٩) ، القسامة ٨ (٤٧٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/١٦٣، ١٨٣، ٢٠٣، ٢٦٧) ، سنن الدارمی/الدیات ٤ (٢٤٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4527 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کردیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے تو اسے رجم کردیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الحدود ٣ (١٦٧٢) ، سنن النسائی/ المحاربة ٧ (٤٠٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4528 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا : تجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے ؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا : تجھے کس نے قتل کیا ؟ فلاں نے قتل کیا ہے ؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا : کیا فلاں نے کیا ہے ؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٥٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4529 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ: أَنّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ فَقَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ قَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِرَأْسِهَا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کرنے کا حکم
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی (رض) کے پاس آئے اور ہم نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو ؟ وہ بولے : نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں : پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب (نکالی) اس میں یہ لکھا تھا : سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ١ ؎، آگاہ رہو ! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہوگی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص (بدعتی) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں : ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دے دے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔
حدیث نمبر: 4530 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقُلْنَا: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ: لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي هَذَا، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَأَخْرَجَ كِتَابًا، وَقَالَ أَحْمَدُ: كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ، فَإِذَا فِيهِ: الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَأَخْرَجَ كِتَابًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کرنے کا حکم
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : … پھر راوی نے علی (رض) کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وقد مضی بتمامہ ٢٧٥١، (تحفة الأشراف : ٨٨١٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٣١ (٢٦٨٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4531 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ، زَادَ فِيهِ: وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَيَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو پائے تو کیا کرے؟
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں سعد نے کہا : کیوں نہیں، اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی (میں تو اسے قتل کر دوں گا) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سنو ! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں (عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، (سنو) جو سعد کہہ رہے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٤ (٢٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٩٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأقضیة ١٩ (١٧) ، الحدود ١(٧) ، مسند احمد (٢/٤٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4532 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْسُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو پائے تو کیا کرے؟
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4533 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ: نَعَمْ.
তাহকীক: