কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
لباس کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪০ টি
হাদীস নং: ৪১১৯
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دامن کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امہات المؤمنین (رضی اللہ عنہن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چناچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ اللباس ١٣ (٣٥٨١) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٦١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١) ، مسند احمد (٢/١٨، ٩٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 4119 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ثُمَّ اسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২০
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
ام المؤمنین میمونہ (رض) کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کردیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مرگئی، نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا : تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے ؟ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : صرف اس کا کھانا حرام ہے (نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢) والبیوع ١٠١ (٢٢٢١) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٤، ٣٦٥) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٦، ٥٨٣٩) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠) ، موطا امام مالک/الصید ٦ (١٦) ، مسند احمد (١/٢٦١، ٣٢٧، ٣٢٩، ٣٦٥) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4120 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ، وَوَهْبٌ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِمَوْلَاةٍ لَنَا شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا وَاسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২১
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ام المؤمنین میمونہ (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے، زہری کہتے ہیں : اس پر آپ نے فرمایا : تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اور دباغت کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٨٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4121 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرْ مَيْمُونَةَ قَالَ: فَقَالَ: أَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرِ الدِّبَاغَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২২
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
معمر کہتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں دباغت کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف :) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4122 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّيُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ: يُسْتَمْتَعُ بِهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ الْأَوْزَاعِيُّ، وَيُونُسُ، وَعُقَيْلٌ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ الدِّبَاغَ، وَذَكَرَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَحَفْصُ بْنُ الْوَلِيدِ ذَكَرُوا الدِّبَاغَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৩
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب چمڑہ دباغت دے دیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٦) ، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٨) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٤٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٢٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصید ٦ (١٧) ، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٣٧، ٢٧٩، ٢٨٠، ٣٤٣) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٢٠ (٢٠٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4123 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৪
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٥ (٤٢٥٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٩١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصید ٦ (١٨) ، مسند احمد (٦ /٧٣، ١٠٤، ١٤٨، ١٥٣) ، دي /الأضاحي ٢٠ (٢٠٣٠) (صحیح لغیرہ) (سند میں ام محمد بن عبدالرحمن مجہول ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح موارد الظمآن : ١٢٢، غایة المرام : ٢٦ )
حدیث نمبر: 4124 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৫
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
سلمہ بن محبق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک میں ایک گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک مشک لٹک رہی تھی آپ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ مردار کے کھال کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : دباغت سے پاک ہوگئی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٦، ٥/٦، ٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4125 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْسَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَتَى عَلَى بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: دِبَاغُهَا طُهُورُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৬
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ جانور کی کھال کا بیان
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ (رض) کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا : اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں ! تو میں بولی : کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، رسول اللہ ﷺ کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا : وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٥١، ٤٢٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4126 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ،عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوَ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا، فَقَالَتْ: أَوَ يَحِلُّ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৭
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مردار کی کھال پاک نہیں ہوتی ان کی دلیل
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا : مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٩) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٤ (٤٢٥٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٦ (٣٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٠، ٣١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4127 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّأَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৮
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مردار کی کھال پاک نہیں ہوتی ان کی دلیل
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا : مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل کہتے ہیں : اہاب ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے اہاب نہیں کہتے بلکہ اسے شنّ یا قرب ۃ کہا جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٦٦٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حلال مردہ جانوروں کے چمڑوں سے دباغت کے بعد فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4128 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ، فَخَرَجُوا إِلَيَّ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لَا يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَإِذَا دُبِغَ لَا يُقَالُ لَه إِهَابٌ، إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً، قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৯
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیتوں کی کھالوں کا بیان
امیر المؤمنین معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں : معاویہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٤٢٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٧ (٣٦٥٦) ، مسند احمد (٤/٩٣، ٩٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4129 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ، قَالَ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ: أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيَرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩০
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیتوں کی کھالوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٨٩٨) (حسن )
حدیث نمبر: 4130 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩১
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیتوں کی کھالوں کا بیان
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان (رض) کے پاس آئے، تو معاویہ (رض) نے مقدام سے کہا : کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی (رض) کا انتقال ہوگیا ؟ مقدام نے یہ سن کر انا لله وانا اليه راجعون پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا : کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا : یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا : ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا : آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا : معاویہ ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے : میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ معاویہ نے کہا : ہاں۔ پھر کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں معلوم ہے، پھر کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا : معاویہ ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں ؟ تو معاویہ نے کہا : مقدام ! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں : پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا : مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٦ (٤٢٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٤١١، ١١٥٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4131 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِأَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي، وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩২
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چیتوں کی کھالوں کا بیان
اسامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ٣٢ (١٧٧١) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٦ (٤٢٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4132 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৩
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتا پہننے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا : جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے (یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٩٧١) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/اللباس ١٨ (٢٠٩٦) ، مسند احمد (٣/٣٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4133 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৪
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتا پہننے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ہر جوتے میں دو تسمے (فیتے) لگے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ٥ (٣١٠٧) ، اللباس ٤١ (٥٨٥٧) ، سنن الترمذی/اللباس ٣٣ (١٧٧٣) ، الشمائل ١٠ (٧١) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٦٢ (٥٣٦٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٧ (٣٦١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣ /١٢٢، ٢٠٣، ٢٤٥، ٢٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایک فیتہ انگوٹھے اور اس کے پاس والی انگلی میں لگاتے تھے، جب کہ دوسرا فیتہ بیچ کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی میں لگاتے تھے۔
حدیث نمبر: 4134 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍأَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৫
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتا پہننے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٦٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4135 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৬
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتا پہننے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک جوتا پہن کر نہ چلا کرے، دونوں پہنے رکھے یا دونوں اتا r دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٤٠ (٥٨٥٥) ، صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٧) ، سنن الترمذی/اللباس ٣٧ (١٧٧٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٩ (١٦١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٠٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/اللباس ٧ (١٤) ، مسند احمد (٢ /٢٤٥، ٢٥٣، ٣١٤، ٤٢٤، ٤٤٣، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4136 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ لِيَنْتَعِلْهُمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৭
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتا پہننے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کے ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اس کا تسمہ درست نہ کرلے ایک ہی پہن کر نہ چلے، اور نہ ایک موزہ پہن کر چلے، اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٠ (٢٠٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٣، ٣٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4137 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৮
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتا پہننے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٥٧١) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4138 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ فَيَضَعَهُمَا بِجَنْبِهِ.
তাহকীক: