কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
لباس کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪০ টি
হাদীস নং: ৪০৫৯
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے لئے ریشم پہننے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں : میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٥٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 4059 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي، قَالَ: مِسْعَرٌ فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یمنی چادر کے بیان میں
قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا ؟ تو انہوں نے کہا : دھاری دار یمنی چادر ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ١٨ (٥٨١٢) ، صحیح مسلم/اللباس ٥ (٢٠٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/اللباس ٤٥ (١٧٨٧) ، الشمائل ٨ (٦٠) ، مسند احمد (٣/١٣٤، ١٨٤، ٢٥١، ٢٩١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حبرہ : یمن کے اچھے کپڑوں کو کہتے تھے ، اور یہاں اس سے یمن کی لال رنگ کی خط دار چادر جو سوت یا کتان کی ہوتی تھی مراد ہے ، اور اس کا شمار عرب کے بہترین کپڑوں میں تھا۔
حدیث نمبر: 4060 حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍأَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: الْحِبَرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید کپڑوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٣٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4061 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا خَيْرُ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرانے کپڑوں کا دھونا اور صاف ستھرا رہنا ضروری ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کرلے ؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا : کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٦ (٥٢٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٠١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4062 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ، عَنْحَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ، وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৩
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرانے کپڑوں کا دھونا اور صاف ستھرا رہنا ضروری ہے
مالک بن نضلۃ الجشمی (رض) کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم مالدار ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کس قسم کا مال ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة ٥٢ (٥٢٢٥) ، الزینة من المجتبی ٢٨ (٥٢٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ٤٧٣، ٤/١٣٧) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4063 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ أَيِّ الْمَالِ ؟ قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، قَالَ: فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا، فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৪
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زرد رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے کا بیان
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا : آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٣٧ (٥٨٥٢) ، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧) ، سنن النسائی/الزینة ١٧ (٥٠٨٨) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٨) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4064 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَكَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৫
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبز رنگ کا بیان
ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٤٨ (٢٨١٣) ، سنن النسائی/العیدین ١٥ (١٥٧٣) ، الزینة من المجتبی ٤٢ (٥٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4065 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৬
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے ؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا : عبداللہ ! وہ چادر کیا ہوئی ؟ تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٢١ (٣٦٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٨١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٦) (حسن )
حدیث نمبر: 4066 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ ؟ فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৭
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کا بیان
ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ وہ مضرجہ (چادر) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلابی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4067 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ الْمُضَرَّجَةُالَّتِي لَيْسَتْ بِمُشَبَّعَةٍ وَلَا الْمُوَرَّدَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৮
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا : یہ کیا ہے ؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا : تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا ؟ تو میں نے عرض کیا : میں نے اسے جلا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا ؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٠٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٢٤) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4068 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُفْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ: أُرَاهُ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، فَانْطَلَقْتُ، فَأَحْرَقْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ ؟ فَقُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ، قَالَ: أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدٍ، فَقَالَ: مُوَرَّدٌ، وَطَاوُسٌ، قَالَ: مُعَصْفَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৯
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٩١٨) (ضعیف) (سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں )
حدیث نمبر: 4069 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭০
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کا بیان
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے (ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے) تو رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٥٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٦٣) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4070 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَوَاحِلِنَا وَعَلَى إِبِلِنَا أَكْسِيَةً فِيهَا خُيُوطُ عِهْنٍ حُمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذِهِ الْحُمْرَةَ قَدْ عَلَتْكُمْ ؟، فَقُمْنَا سِرَاعًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَرَ بَعْضُ إِبِلِنَا، فَأَخَذْنَا الْأَكْسِيَةَ فَنَزَعْنَاهَا عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭১
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کا بیان
حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے : میں ایک دن ام المؤمنین زینب (رض) کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب (رض) نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ ناگوار لگا ہے، چناچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٣٦٩) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4071 حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال َ ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِي ّ: وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِإِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ يَعْنِي ابْنَ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الْأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَتْ: كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا لَهَا بِمَغْرَةٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ فَأَخَذَتْ، فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا دَخَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭২
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کی اجازت کا بیان
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥١) ، اللباس ٣٥ (٥٨٤٨) ، ٦٨ (٥٩٠١) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧) ، سنن الترمذی/اللباس ٤ (١٧٢٤) ، الأدب ٤٧ (٢٨١١) ، المناقب ٨ (٣٦٣٥) ، الشمائل ١ (٦٢) ، ٣ (٦٤) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٥ (٥٢٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٦٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٥٩٩) ، مسند احمد (٤/٢٨١، ٢٩٥) ، وأعاد المؤلف بعضہ فی الترجل (٤٢٨٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4072 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৩
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخ رنگ کی اجازت کا بیان
عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی (رض) آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٠٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی آپ جو کہتے ہیں اسے بلند آواز سے پکار کر کہہ دیتے تاکہ آپ کی باتیں لوگوں کو پہنچ جائیں۔
حدیث نمبر: 4073 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৪
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ رنگ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٦٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٢، ١٤٤، ٢١٩، ٢٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4074 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرَقَ فِيهَا وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ، فَقَذَفَهَا، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَكَانَ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৫
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں کے دامن کا ذکر
جابر بن سلیم (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢١٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٦٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4075 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْأَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ،عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৬
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ کا بیان
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ایک کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ١١ (١٧٣٥) ، سنن النسائی/الحج ١٠٧ (٢٨٧٢) ، الزینة ٥٥ (٥٣٤٦، ٥٣٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٢ (٢٨٢٢) ، اللباس ١٤ (٣٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٨٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨) ، مسند احمد (٣/٣٦٣، ٣٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4076 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৭
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ کا بیان
حریث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩) ، سنن الترمذی/الشمائل ١٦ (١٠٨) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٥٦ (٥٣٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٢ (٢٨٢١) ، اللباس ١٥ (٣٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٠٧) ، سنن الدارمی/المناسک ٨٨ (١٩٨٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4077 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৮
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ کا بیان
محمد بن علی بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ٤٢ (١٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٤) (ضعیف) (سند میں ابوجعفر مجہول راوی ہیں ، اور محمد علی اور ان کے دادا یعنی رکانہ کے درمیان انقطاع ہے )
حدیث نمبر: 4078 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَرُكَانَةُ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ.
তাহকীক: