কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
طب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১ টি
হাদীস নং: ৩৯১৫
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٤ (٥٧٥٦) ، ٥٤ (٥٧٧٦) ، سنن الترمذی/السیر ٤٧ (١٦١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٤) ، مسند احمد (٣/١١٨، ١٥٤، ١٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3915 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৬
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کے قول هام کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے : جو آدمی مرتا ہے اور دفن کردیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول لا صفر کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صفر میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے : صفر پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے : وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا : صفر کوئی چیز نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 3916 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، قَوْلُهُ هَامَ، قَالَ: كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ، فَيُدْفَنُ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ، قُلْتُ: فَقَوْلُهُصَفَرَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي، فَقَالَ: لَا صَفَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৭
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا : ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی (یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3917 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيلٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَقَالَ: أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৮
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا : ہامہ کیا ہے ؟ کہا : لوگ کہتے تھے : الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے (اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 3918 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: يَقُولُ: وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، النَّاسُ الصَّفَرُ، قُلْتُ: فَمَا الْهَامَةُ ؟، قَالَ: يَقُولُ النَّاسُ: الْهَامَةُ الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৯
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے : اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٨٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
حدیث نمبر: 3919 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَحْمَدُ، الْقُرَشِيُّ قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২০
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ ﷺ کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ ﷺ کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٩٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 3920 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২১
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
سعد بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٨٦١) ، وقد أخرجہ : حم (١/١٨٠، ١٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 3921 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২২
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مرگئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مرگئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر (رض) نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٤٧ (٢٨٥٨) ، النکاح ١٧ (٥٠٩٣) ، الطب ٤٣ (٥٧٥٣) ، ٥٤ (٥٧٧٢) ، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥) ، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤) ، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٩) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٥ (١٩٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٦٤، ١٨٢٧٦، ٦٦٩٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢) ، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس حدیث میں الشؤم کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے إن کان الشؤم ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم : ٣٩٢١) ، سہل بن سعد (صحیح البخاری/٥٠٩٥) ، و جابر (صحیح مسلم/٢٢٢٧) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو : الصحیحة : ٧٩٩، ٧٨٩، ١٨٥٧) ۔ وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عمر (رض) کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے : اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر ( ٣٩٢٤) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہوجائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے ﷺ خود فرمایا ہے کہ : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ۔
حدیث نمبر: 3922 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ، قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ، فَهَلَكُوا ؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৩
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
فروہ بن مسیک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٥١) (ضعیف الإسناد) (فروة کے شاگرد مبہم ہیں )
حدیث نمبر: 3923 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৪
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ، مذموم حالت میں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑجائیں۔
حدیث نمبر: 3924 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُوهَا ذَمِيمَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৫
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا : اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأطعمة ١٩ (١٨١٧) ، سنن ابن ماجہ/ الطب ٤٤ (٣٥٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 3925 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ.
তাহকীক: