কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
طب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১ টি
হাদীস নং: ৩৮৯৫
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے : تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٥) ، صحیح مسلم/السلام ٢١ (٢١٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3895 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لِلإِنْسَانِ إِذَا اشْتَكَى يَقُولُ بِرِيقِهِ، ثُمَّ قَالَ بِهِ فِي التُّرَابِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯৬
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ ﷺ ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں ؟ میں نے سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کردیا تو وہ اچھا ہوگیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے ؟ ۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں : هل إلا هذا کے بجائے : هل قلت غير هذا ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا ؟ ) میں نے عرض کیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم :(٣٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3896 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ أَهْلُهُ: إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِيهِ، فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ إِلَّا هَذَا، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هَلْ قُلْتَ غَيْرَ هَذَا ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: خُذْهَا فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯৭
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورة فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کردیتے، پھر وہ اچھا ہوگیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3897 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ قَالَ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯৮
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا : اس نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا : کس چیز نے ؟ اس نے عرض کیا : بچھو نے، آپ ﷺ نے فرمایا : سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے : أعوذ بکلمات الله التامات من شر ما خلق میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو انشاء اللہ (اللہ چاہتا تو) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤٨، ٥/٤٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 3898 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مَنْ أَسْلَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لُدِغْتُ اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَنَمْ حَتَّى أَصْبَحْتُ، قَالَ: مَاذَا ؟قَالَ: عَقْرَبٌ، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯৯
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا : اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا : أعوذ بکلمات الله التامة من شر ما خلق میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٣٥ (٣٥١٨) ، مسند احمد (٢/٣٧٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی طارق لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3899 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ مَخَاشِنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَدِيغٍ لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يُلْدَغْ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০০
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا : ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے ؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا : ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کرسکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چناچہ وہ آئے اور سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوگیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کردی، لوگوں نے کہا : اسے آپس میں تقسیم کرلو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا : اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چناچہ وہ سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ منتر ہے ؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ١٦ (٢٢٧٦) ، الطب ٣٣ (٥٧٣٦) ، صحیح مسلم/السلام ٢٣ (٢٢٠١) ، سنن الترمذی/الطب ٢٠ (٢٠٦٣) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٧ (٢١٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٤٩، ٤٣٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 3900 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، فَنَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا ؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ أُمَّ الْكِتَابِ وَيَتْفُلُ حَتَّى بَرَأَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: اقْتَسِمُوا، فَقَالَ: الَّذِي رَقَى لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْتَأْمِرَهُ فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَحْسَنْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০১
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے : ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے ؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا : ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہوگیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا : میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ نہ لوں، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم :(٣٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3901 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ ؟، قَالَ: فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَاءُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمْتُهَا أَجْمَعُ بُزَاقِي، ثُمَّ أَتْفُلُ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلْ فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০২
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٤ (٥٠١٦) ، صحیح مسلم/السلام ٢٠ (٢١٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٨ (٣٥٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٨٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العین ٤ (١٠) ، مسند احمد (٦/١٠٤، ١٨١، ٢٥٦، ٢٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3902 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا اشْتَكَى: يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৩
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موٹا کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہوجاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے گھر بھیجا جاسکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی ہوگئی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧١٨٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الاطعمة ٣٧ (٣٣٢٤) ، سنن النسائی/الکبری (٦٧٢٥) (صحيح )
حدیث نمبر: 3903 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِي لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَأَحْسَنِ السَّمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৪
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہوگیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئیں ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٠٢ (١٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٢ (٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٦، ٢/٤٠٨، ٤٧٦، ٦/٣٠٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ١١٣ (٢٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 3904 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَتَى كَاهِنًا، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ثُمَّ اتَّفَقَا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৫
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم نجوم کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٨ (٣٧٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٧، ٣١١) (حسن )
حدیث نمبر: 3905 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৬
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم نجوم کا بیان
زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہوگئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے کہا : میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥٦ (٨٤٦) ، الاستسقاء ٢٨ (١٠٣٨) ، المغازي ٣٥ (٤١٤٧) ، التوحید ٣٥ (٧٥٠٣) ، صحیح مسلم/الإیمان ٣٢ (١٢٥) ، سنن النسائی/الاستسقاء ١٦ (١٥٢٦) ، عمل الیوم واللیلة ٢٦٧ (٩٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستسقاء ٣ (٤) ، مسند احمد (٤/١١٥، ١١٦، ١١٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 3906 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم رمل اور پرندوں سے ڈانٹ کر فال لینے کا بیان
قبیصہ بن وقاص (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : رمل، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے، اور عيافة وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٠٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٧، ٥/٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی حیان لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3907 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَوُفٌ، حَدَّثَنَا حَيَّانُ، قَالَ غَيْر مُسَدَّدٍ، حَيَانُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْعِيَافَةُ وَالطِّيَرَةُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ، الطَّرْقُ: الزَّجْرُ، وَالْعِيَافَةُ: الْخَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم رمل اور پرندوں سے ڈانٹ کر فال لینے کا بیان
عوف کہتے ہیں عيافة سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور طرق سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں (اور جسے رمل کہتے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 3908 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ عَوْفٌ: الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
معاویہ بن حکم سلمی (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا : انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٩٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٨) (صحیح)
حدیث نمبر: 3909 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ؟، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا : بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/السیر ٤٧ (١٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٣ (٣٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٣٨، ٤٤٠) (صحیح)
حدیث نمبر: 3910 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১১
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ایک بدوی نے عرض کیا : پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کردیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا ؟ ۔ معمر کہتے ہیں : زہری نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے پھر وہ شخص ابوہریرہ (رض) کے پاس گیا، اور ان سے کہا : کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ابوہریرہ (رض) نے انکار کیا، اور کہا : میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے : ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ (رض) کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٢٥ (٥٧١٧) ، ٤٥ (٥٧٥٧) ، ٥٣ (٥٧٧٠) ، ٥٤ (٥٧٧٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧٣، ١٥٥٠٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/السلام ٣٣ (٢٢٢٣) ، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٢٧، ٣٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 3911 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ. فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيُجْرِبُهَا، قَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ، قَالَ: فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ ؟قَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১২
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٠٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ الطب ٣٣ (٢٢٢٠) ، مسند احمد (٢/٣٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 3912 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৩
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٣٢٢، ١٢٨٢٩، ١٢٨٦٨) (حسن صحیح ) ابوداؤد کہتے ہیں حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم ﷺ کے قول : لا صفر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جاہلیت میں لوگ صفر کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے (محرم کا مہینہ قرار دے کر) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صفر (اب ایسا) نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح )
حدیث نمبر: 3913 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، وَزَيدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا غُولَ. حدیث نمبر: 3914 قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: عَنْ قَوْلِهِ: لَا صَفَرَ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৪
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے ( محرم کا مہینہ قرار دے کر ) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» ( اب ایسا ) نہیں ہے ۔
قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: عَنْ قَوْلِهِ: لَا صَفَرَ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ،
তাহকীক: