কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
طب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১ টি
হাদীস নং: ৩৮৭৫
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عجوہ کھجور کا بیان
سعد (رض) کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا لدود بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩١٦) (ضعیف) (مجاہد کا سعد (رض) سے سماع نہیں ہے )
حدیث نمبر: 3875 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي، فَقَالَ: إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةَ الْمَدِينَةِ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ، ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৬
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عجوہ کھجور کا بیان
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٤٣ (٥٤٤٥) ، الطب ٥٢ (٥٧٩٩) ، صحیح مسلم/الأ شربة ٢٧ (٢٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3876 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৭
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کے حلق کو دبانے کا بیان
ام قیس بنت محصن (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا : تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو ؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں لدود ١ ؎ بنا کر پلایا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عود سے مراد قسط ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٢١ (٥٧١٣) ، صحیح مسلم/السلام ٢٨ (٢٢١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١٧ (٣٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لدود اس دواء کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3877 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৮
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرمہ لگانے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ١٨ (٩٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٢ (١٤٧٢) ، الطب ٢٥ (٣٤٩٧) ، اللباس ٥ (٣٥٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣١، ٢٤٧، ٢٧٤، ٣٢٨، ٣٥٥، ٣٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3878 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৯
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نظر لگنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نظر بد حق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٦(٥٧٤٠) ، صحیح مسلم/السلام ١٦ (٢١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٣٢ (٣٥٠٦) ، مسند احمد (٢/٣١٩) (صحیح متواتر )
حدیث نمبر: 3879 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَيْنُ حَقٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮০
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نظر لگنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٩٦٥) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 3880 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدت رضاعت میں جماعت کرنے کا بیان
اسماء بنت یزید بن سکن (رض) کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٦١ (٢٠١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ٦/٤٥٣، ٤٥٧، ٤٥٨) (حسن) (تراجع الألبانی ٣٩٧، و صحیح ابن ماجہ : ١٦٤٨ )
حدیث نمبر: 3881 حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدت رضاعت میں جماعت کرنے کا بیان
جدامہ اسدیہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے قصد کرلیا تھا کہ غیلہ سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ مالک کہتے ہیں : غیلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٤ (١٤٤٢) ، سنن الترمذی/الطب ٢٧ (٢٠٧٦) ، سنن النسائی/النکاح ٥٤ (٣٣٢٨) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (٢٠١١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٦) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٦) ، مسند احمد (٦/٣٦١، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پہلی حدیث سے غیلہ یعنی عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو تو ان دنوں میں جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے ، اور دوسری حدیث سے جواز نکلتا ہے ، مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ اولاد کو نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو ، اگر نقصان پہنچنے کا ڈر ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہوگا۔
حدیث نمبر: 3882 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جُدَامَةَ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذُكِّرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ، قَالَ مَالِكٌ: الْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৩
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویذ گنڈے گلے میں لٹکانے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے : جھاڑ پھونک (منتر) ١ ؎ گنڈا (تعویذ) اور تولہ ٢ ؎ شرک ہیں عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی زینب (رض) کہتی ہیں : میں نے کہا : آپ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کردیتا تھا تو میرا درد بند ہوجاتا تھا، عبداللہ (رض) بولے : یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کردیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ ﷺ کہتے تھے : ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما لوگوں کے رب ! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٣٩ (٣٥٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨١) (ضعیف) (الصحیحة : ٢٩٧٢، وتراجع الألباني : ١٤٢ ) وضاحت : ١ ؎ : جھاڑ پھونک اور منتر سے مراد وہ منتر ہے جو عربی میں نہ ہو، اور جس کا معنی و مفہوم بھی واضح نہ ہو، لیکن اگر اس کا مفہوم سمجھ میں آئے، اور وہ اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو تو مستحب ہے، جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں ان کو دعاؤں کے سلسلے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے، اور اس سلسلے میں اسلامی آداب کا لحاظ ضروری ہے۔ ٢ ؎ : ایک قسم کا جادو ہے جسے دھاگہ یا کاغذ میں عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3883 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ، قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي، فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَاكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৪
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویذ گنڈے گلے میں لٹکانے کا بیان
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ١٥ (٢٠٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦) ، صحیح البخاری/ الطب ١٧ (٥٧٠٥) ، موقوفًا (صحیح )
حدیث نمبر: 3884 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویزوغیرہ کا بیان
ثابت بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا : اكشف الباس رب الناس . عن ثابت بن قيس لوگوں کے رب ! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الیوم واللیلة، (١٠١٧، ١٠٤٠) (تحفة الأشراف : ٢٠٦٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن یوسف لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3885 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وابْنُ السَّرْحِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَادَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ عَمْروِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَحْمَدُ: وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: اكْشِفِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بَطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ نَفَثَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَصَبَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَهُوَ الصَّوَابُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویزوغیرہ کا بیان
عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٢٢ (٢٢٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3886 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟، فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویزوغیرہ کا بیان
شفاء بنت عبداللہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ (رض) کے پاس تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : نملہ ١ ؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٩٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نملہ ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3887 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ، فَقَالَ لِي: أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویزوغیرہ کا بیان
سہل بن حنیف (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : میرے آقا ! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے (ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں :حمہ سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٦٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٨٦) (ضعیف الإسناد) (عثمان کی دادی رباب لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3888 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيفٍ، يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ فِيهِ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا سَيِّدِي، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ ؟، فَقَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحُمَةُ مِنَ الْحَيَّاتِ وَمَا يَلْسَعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৯
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویزوغیرہ کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو ۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، صحیح روایت شعبی عن عمران موقوفا بلفظ لارقیة إلا من عین أوحمة (دیکھئے نمبر ٣٨٨٤) ، اور مسلم (السلام ٢١) کی روایت جو انس (رض) سے ہے اس کے الفاظ ہیں رخص النبي ﷺ في الرقیة من الحمة و العین والنملة )
حدیث نمبر: 3889 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِالْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ الْعَبَّاسُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ دَمٍ يَرْقَأُ، لَمْ يَذْكُرِ الْعَبَّاسُ الْعَيْنَ وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯০
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انس (رض) نے ثابت سے کہا : کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس (رض) نے کہا : اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما اے اللہ ! لوگوں کے رب ! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٢) ، سنن الترمذی/الجنائز ٤ (٩٧٣) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (١٠٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3890 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ: أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯১
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
عثمان (رض) کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں : اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو : أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں ۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٢٤ (٢٢٠٢) ، سنن الترمذی/الطب ٢٩ (٨٠ ٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العین ٤ (٩) ، مسند احمد (٤/٢١، ٢١٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 3891 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّنَافِعَ بْنَ جُبَيرٍ، أَخْبَرَهُ،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُثْمَانُ: وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯২
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے : ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمک أمرک في السماء والأرض کما رحمتک في السماء فاجعل رحمتک في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتک و شفاء من شفائك على هذا الوجع ہمارے رب ! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو (رب پروردگار) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما تو وہ صحت یاب ہوجائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٥٧) (ضعیف) (اس کے راوی زیادہ بن محمد منکر الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3892 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ، فَلْيَقُلْ: رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯৩
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انہیں (خواب میں) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے :أعوذ بکلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے ۔ عبداللہ بن عمرو (رض) اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٩٣ (٨٧٨١) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨١) (حسن) (عبداللہ بن عمرو کا اثر صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 3893 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِوَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرٍو يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯৪
طب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعویز کیسے کیے جائیں
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ (رض) کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے : سلمہ (رض) کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3894 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَة، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ ؟ قَالَت: أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ.
তাহকীক: