কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پینے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৭ টি
হাদীস নং: ৩৭২৯
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کے پانی میں پھونک مارنا
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ١ ؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ ﷺ کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ ﷺ نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ ﷺ نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا : میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللهم بارک لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٢٢ (٢٠٤٢) ، سنن الترمذی/الدعوات ١١٨ (٣٥٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٨٨، ١٩٠) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢ (٢٠٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3729 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَأَكَلَ تَمْرًا، فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩০
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پینے کے بعد کیا کہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ (رض) کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ کے ساتھ خالد بن ولید (رض) بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن (کراہت) ہو رہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے پیا اور فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے اللهم بارک لنا فيه وأطعمنا خيرا منه اے اللہ ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ ﷺ نے فرمایا : اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے اللهم بارک لنا فيه وزدنا منه اے اللہ ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٩٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٥ (٣٣٢٢) ، مسند احمد (١/٢٢٥) ، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٨٦) (حسن) (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحہ ٢٣٢٠ )
حدیث نمبر: 3730 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَى ثُمَامَتَيْنِ، فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ خَالِدٌ: إِخَالُكَ تَقْذُرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: أَجَلْ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩১
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن ڈھانکنے کا بیان
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو ، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٢٢ (٥٦٢٣) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ٧٤ (٢٨٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٦ (٣٤١٠) ، والأدب ٤٦ (٣٧٧١) ، مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 3731 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩২
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن ڈھانکنے کا بیان
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الأشربة ١٢ (٢٠١٢) ، سنن الترمذی/ الأطعمة ١٥ (١٨١٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 3732 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ أَوْ بُيُوتَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن ڈھانکنے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے : شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ بدء الخلق ١٦ (٣٣١٦) ، الاستئذان ٤٩ (٦٢٩٥) ، سنن الترمذی/ الأدب ٧٤ (٢٨٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3733 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ، قَالَ: وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن ڈھانکنے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا : کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا ؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اصمعی نے کہا : تعرضه عليه یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الأشرابة ١٢ (٥٦٠٦) ، صحیح مسلم/ الأشربة ١٢ (٢٠١١) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3734 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن ڈھانکنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں : سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٠٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3735 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْهِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَيُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا، قِالَ قُتَيْبَةُ: عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ.
তাহকীক: