কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پینے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৭ টি
হাদীস নং: ৩৬৮৯
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ داذی کی حرمت کا بیان
حارث بن منصور کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے داذی ١ ؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ نے فرمایا ہے : میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری کا کہنا ہے :داذی فاسقوں کی شراب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (صحیح) ( یہ روایت نہیں بلکہ پچھلی حدیث کی طرف اشارہ ہے ) وضاحت : ١ ؎ : داذی ایک قسم کا دانہ جسے نبیذ میں ڈالتے ہیں تو اس میں تیزی پیدا ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3689 حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَسُئِلَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ عَنِ الدَّاذِيِّ ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: الدَّاذِيُّ شَرَابُ الْفَاسِقِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯০
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ١ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٧) ، سنن النسائی/الأشربة ٣٦ (٥٦٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں وارد الفاظ : دباء ، حنتم، مزفت اور نقیر مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں یہ ممانعت بریدہ اسلمی (رض) کی روایت كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء سے منسوخ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 3690 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯১
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جر (مٹی کا گھڑا) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس (رض) کے پاس آ کر کہا : کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر (رض) کیا کہتے ہیں ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جر کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا : وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جر کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا : جر کیا ہے ؟ فرمایا : ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٧) ، سنن النسائی/الأشربة ٢٨ (٥٦٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٤٩) ، وقد أخرجہ : حم ١/٣٤٨، ٢/٤٨، ١٠٤، ١١٢، ١١٥، ١٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3691 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِهِ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ ؟، قَالَ: وَمَا ذَاكَ ؟، قُلْتُ: قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، قَالَ: صَدَقَ، حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ ؟، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯২
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ١ ؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور آپ ﷺ نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں : آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٠ (٥٣) ، العلم ٢٥ (١٨٧) ، المواقیت ٢ (٥٢٣) ، الزکاة ١ (١٣٩٨) ، المناقب ٥ (٣٥١٠) ، المغازي ٦٩ (٤٣٦٩) ، الأدب ٩٨ (٦١٧٦) ، خبر الواحد ٥ (٧٢٦٦) ، التوحید ٥٦ (٧٥٥٦) ، صحیح مسلم/ الإیمان ٦ (١٧) ، الأشربة ٦ (١٩٩٥) ، سنن الترمذی/السیر ٣٩ (١٥٩٩) ، الإیمان ٥ (٢٦١١) ، سنن النسائی/الإیمان ٢٥ (٥٠٣٤) ، الأشربة ٥ (٥٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٨، ٢٧٤، ٢٩١، ٣٠٤، ٣٣٤، ٣٤٠، ٣٥٢، ٣٦١) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٤ (٥٦٦٢) ، ویأتی بعضہ فی السنة (٤٦٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حرمت والے مہینوں سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔
حدیث نمبر: 3692 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وَقَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ: الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: النَّقِيرُ: مَكَانَ الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٢) ، سنن النسائی/الأشربة ٣٨ (٥٦٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٠٩٣، ١٤٤٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٩١، ٤١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 3693 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: أَنْهَاكُمْ عَنْ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ، وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا : ہم کس چیز میں پئیں اللہ کے نبی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر رقم : (٣٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3694 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا: فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৫
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا (عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آجائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١١٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٠٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 3695 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيدِ بْنِ عَلِيّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسَبُ عَوْفٌ، أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ، فَقَالَ: لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلَا مُزَفَّتٍ وَلَا دُبَّاءٍ وَلَا حَنْتَمٍ، وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৬
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کس برتن میں پیئیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آجائے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا : اسے بہا دو ١ ؎ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا : شراب، جوا، اور ڈھول ٢ ؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے علی بن بذیمہ سے کو بہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ ڈھول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم :(٣٦٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٧٤، ٢٨٩، ٣٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ ٢ ؎ : حدیث میں کوب ۃ کا لفظ ہے جس کے معنی : شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق کوب ۃ کا ترجمہ ڈھول سے کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3696 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ نَشْرَبُ ؟، قَالَ: لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَلَا فِي النَّقِيرِ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ ؟، قَالَ: فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: أَهْرِيقُوهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ، قَالَ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنْ الْكُوبَةِ، قَالَ: الطَّبْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة ٤٣ (٥١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١١٩، ١٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3697 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجِعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ١ ؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کردیا تھا، لیکن اب اسے بھی (جب تک چاہو) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧) ، الأضاحي ٥ (١٩٧٧) ، الأشربة ٦ (١٩٩٩) ، سنن النسائی/الجنائز ١٠٠ (٢٠٣٤) ، الأضاحي ٣٦ (٤٤٣٤) ، الأشربة ٤٠ (٥٦٥٤، ٥٦٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٠١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأشربة ٦ (١٨٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٤ (٣٤٠٥) ، مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہوجائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہوگیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کردیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور یہ فائدہ اس لئے بھی بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اہل قبور سے حاجت روائی چاہنے لگیں۔
حدیث نمبر: 3698 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعْرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا : وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تب ممانعت نہیں رہی (تمہیں ان کی اجازت ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٨ (٥٥٩٢) ، سنن الترمذی/الأ شربة ٦ (١٨٧٠) ، سنن النسائی/الأشربة ٤٠ (٥٦٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 3699 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ، قَالَ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا، قَالَ: فَلَا إذًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ١ ؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا : ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٨ (٥٥٩٤) ، صحیح مسلم/الأشربة ٦ (٢٠٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢١١) (صحیح) (کلاھمابلفظ : فأرخص لہ في الجر غیر المزفت ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان کے استعمال سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 3700 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ، وَالْحَنْتَمَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَالنَّقِيرَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: إِنَّهُ لَا ظُرُوفَ لَنَا، فَقَالَ: اشْرَبُوا مَا حَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০১
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : نشہ آور چیز سے بچو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 3701 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০২
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کے برتنوں کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ ﷺ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٢٢) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الأشربة ٢٧ (٥٦١٦) ، ٣٨ (٥٦٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٤٠٠) ، مسند احمد (٣/٣٠٤، ٣٠٧، ٣٣٦، ٣٧٩، ٣٨٤) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٢ (٢١٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3702 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو چیزوں کو ملا کر شراب بنانے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٥ (١٩٨٦) ، سنن الترمذی/الأشربة ٩ (١٨٧٦) ، سنن النسائی/الأشربة ٩ (٥٥٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١١ (٣٣٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٧٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأشربة ١١ (٥٦٠١) ، مسند احمد (٣/٢٩٤، ٣٠٠، ٣٠٢، ٣١٧، ٣٦٣، ٣٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 3703 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو چیزوں کو ملا کر شراب بنانے کا بیان
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا : ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ١١ (٥٦٠٢) ، صحیح مسلم/الأشربة ٥ (١٩٨٨) ، سنن النسائی/الأشربة ٦ (٥٥٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١١ (٣٣٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الأشربة ٣ (٨) ، مسند احمد (٥/٢٩٥، ٣٠٧، ٣٠٩، ٣١٠) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٥ (٢١٥٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 3704 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ: نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ، وَقَالَ: انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَ عَلَى حِدَةٍ، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৫
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو چیزوں کو ملا کر شراب بنانے کا بیان
ایک صحابی رسول (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأشربة ٤ (٥٥٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 3705 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৬
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو چیزوں کو ملا کر شراب بنانے کا بیان
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم ﷺ منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہوجائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٨٢٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ثابت لین الحدیث اور ربطہ مجہول ہیں ، اور کبشہ بھی غیر معروف ہے )
حدیث نمبر: 3706 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ ؟، قَالَتْ: كَانَيَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا، أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو چیزوں کو ملا کر شراب بنانے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٩٩٥) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں امرأة مبہم راویہ ہیں )
حدیث نمبر: 3707 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوَدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا، وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو چیزوں کو ملا کر شراب بنانے کا بیان
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر (نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں) پوچھا، آپ نے کہا : میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو پلاتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٦٩) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عتاب لین الحدیث، اور صفیہ مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 3708 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ؟ فقالت: كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ، وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ، فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ، فَأَمْرُسُهُ، ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: