কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پینے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৭ টি
হাদীস নং: ৩৭০৯
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خشک کجھور کی نبیذ کا بیان
جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس (رض) سے لیتے تھے۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : میں ڈرتا ہوں کہیں یہ مزاء نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے کہا : مزاء کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٣٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٠، ٣٣٤) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 3709 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَخْشَى أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءُ الَّذِي نُهِيَتْ عَنْهُ عَبْدُ القَيْسِ، فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَا الْمُزَّاءُ ؟، قَالَ: النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১০
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ کی کیفیت کا بیان
دیلمی (رض) کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا : اے رسول اللہ ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے خشک لو ہم نے عرض کیا : اس زبیب (سوکھے ہوئے انگور) کو کیا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : صبح کو اسے بھگو دو ، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہوگی تو وہ سرکہ ہوجائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأشربة ٥٥ (٥٧٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٦٢) ، وقد أخرجہ : دی/ الأشربة ١٣ (٢١٥٤) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اکثر مٹکوں اور گھڑوں میں تیزی جلد آجاتی ہے، اس لیے نبی کریم ﷺ نے یہ ممانعت فرمائی ہے، اور چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ بھگونے کی اجازت دی، کیونکہ اس میں تیزی جلد آجانے کا اندیشہ نہیں رہتا، اور نچوڑنے میں دیر ہوگی سے مراد مٹکوں اور گھڑوں سے نکال کر بھگوئی ہوئی کشمش کو نچوڑنے میں دیر کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 3710 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمُرَةُ، عَنْ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ، فَإِلَى مَنْ نَحْنُ ؟، قَالَ: إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا ؟، قَالَ: زَبِّبُوهَا، قُلْنَا: مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ ؟، قَالَ: انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১১
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ کی کیفیت کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٩ (٢٠٠٥) ، سنن الترمذی/الأشربة ٧ (١٨٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو غدو ۃ کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو عشاء کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3711 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১২
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ کی کیفیت کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کردیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں : مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں : میرے والد (حیان) نے ان سے کہا : ایک دن میں دو بار ؟ وہ بولیں : ہاں دو بار۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٢٤) (حسن الإسناد )
حدیث نمبر: 3712 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ، وَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ، ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ، قَالَتْ: نَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، فَقَالَ لَهَا أَبِي: مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ ؟، قَالَتْ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৩
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ کی کیفیت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٩ (٢٠٠٤) ، سنن النسائی/الأشربة ٥٥ (٥٧٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٣٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٢، ٢٤٠، ٢٨٧، ٣٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 3713 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ، فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ، فَيُسْقَى الْخَدَمُ أَوْ يُهَرَاقُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمُ: يُبَادَرُ بِه الْفَسَادَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৪
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد پینے کا بیان
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم ﷺ زینب بنت حجش (رض) کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ (رض) نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ ﷺ تشریف لائیں وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر ١ ؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چناچہ آپ ﷺ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت : لم تحرم ما أحل الله لک تبتغي ٢ ؎ سے لے کر إن تتوبا إلى الله ٣ ؎ تک عائشہ اور حفصہ (رض) کے متعلق نازل ہوئی۔ إن تتوبا میں خطاب عائشہ اور حفصہ (رض) کو ہے اور وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا میں حديثا سے مراد آپ کا : بل شربت عسلا (بلکہ میں نے شہد پیا ہے) کہنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة التحریم (٤٩١٢) الطلاق ٨ (٥٢٦٧) ، الأیمان ٢٥ (٦٦٩١) ، صحیح مسلم/الطلاق ٣ (١٤٧٤) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٤ (٣٤١٠) ، الطلاق ١٧ (٣٤٥٠) ، الأیمان ٤٠ (٣٨٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مغافیر ایک قسم کا گوند ہے جس میں بدبو ہوتی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو اس بات سے سخت نفرت تھی کہ آپ کے جسم اطہر سے کسی کو کوئی بو محسوس ہو۔ ٢ ؎ : سورة التحريم : (١) ٣ ؎ : سورة التحريم : (٤ )
حدیث نمبر: 3714 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَتْ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي سورة التحريم آية 1 إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4، لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৫
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہد پینے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ١ ؎ نے کہا : بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا : شاید اس کی مکھی نے عرفط ٢ ؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مغافیر : مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست : کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٣٢ (٥٤٣١) ، الأشربة ١٠ (٥٥٩٩) ، ١٥ (٥٦١٤) ، الطب ٤ (٥٦٨٢) (الحیل ١٢ (٦٩٧٢) ، صحیح مسلم/الطلاق ٣ (١٤٧٤) ، سنن الترمذی/الأطعمة ٢٩ (١٨٣١) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٦ (٣٣٢٣) (تحفة الأشراف : ١٦٧٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٥٩) ، دی/ الأطعمة ٣٤ (٢١١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پچھلی حدیث میں مغافیر کی بات کہنے والی عائشہ (رض) یا حفصہ (رض) ہیں، اور اس حدیث میں سودہ (رض) ، یہ دونوں دو الگ الگ واقعات ہیں، اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے، اور پچھلی حدیث میں مذکور واقعہ بعد کا ہے جس کے بعد سورة التحریم والی آیت نازل ہوئی۔ ٢ ؎ : عرفط : ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے جس میں بدبو ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3715 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، وَفِي الْحَدِيثِ، قَالَتْ سَوْدَةُ: بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، قَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا سَقَتْنِي حَفْصَةُ، فَقُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَهِيَ صَمْغَةٌ، وَجَرَسَتْ رَعَتْ، وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৬
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ میں اگر جوش پیدا ہوجائے تو کیا حکم ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأشربة ٢٥ (٥٦١٣) ، ٤٨ (٥٧٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٥ (٣٤٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٩٧) ، (صحیح )
حدیث نمبر: 3716 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطِ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے کھڑے پانی پینے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٤ (٢٠٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأشربة ١١ (١٨٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٤) ، مسند احمد (٣/١١٨، ١٤٧، ٢١٤) ، سنن الدارمی/الأشربة ٢٤ (٢١٧٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3717 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے کھڑے پانی پینے کا بیان
نزال بن سبرہ (رض) کہتے ہیں کہ علی (رض) نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا : بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ١٦ (٥٦١٥) ، سنن الترمذی/الشمائل ٣٢ (٢٠٩) ، سنن النسائی/الطہارة ١٠٠ (١٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٧٨، ١٢٠، ١٢٣، ١٣٩، ١٥٣، ١٥٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 3718 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشکیزہ سے منہ لگا کر پانی پینے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جلّالہ وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأطعمة ٢٤ (١٨٢٥) ، سنن النسائی/الضحایا ٤٣ (٤٤٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٠ (٣٤٢١) ، (تحفة الأشراف : ٦١٩٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأشربة ٢٤ (٥٦٢٩) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٤١، ٢٩٣، ٣٢١، ٣٣٩) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٩ (٢١٦٣) ١٣ (٢٠١٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3719 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَعَنْ رُكُوبِ الْجَلَّالَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَلَّالَةُ الَّتِي تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشکیزہ کا منہ موڑنے کا بیان
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٢٣ (٥٦٢٤) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠٢٣) ، سنن الترمذی/الأشربة ١٧ (١٨٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٩ (٣٤١٨) ، (تحفة الأشراف : ٤١٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٦، ٦٧، ٦٩، ٩٣) دی/ الأشربة ١٩ (٢١٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 3720 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২১
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشکیزہ کا منہ موڑنے کا بیان
عبداللہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا : مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ ﷺ نے اس کے منہ سے پیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأشربة ١٨ (١٨٩١) ، (تحفة الأشراف : ٥١٤٩) (منکر) (سند میں عبیداللہ بن عمر ہیں، ابوعبیدالآجری سے روایت ہے کہ امام ابوداود نے کہا : ہذا لا یعرف عن عبیداللہ بن عمر، والصحیح حدیث عبدالرزاق عن عبداللہ بن عمر (تحفة الأشراف : ٥١٤٩) (یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے نہیں جانی جاتی ، اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے ، واضح رہے کہ امام ترمذی نے عبدالرزاق سے اس طریق کی روایت کے بعد فرمایا : اس کی سند صحیح نہیں ہے ، عبداللہ العمری حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہیں ، اور مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے عیسیٰ بن عبداللہ سے سنا ہے یا نہیں سنا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ عبیداللہ بن عمر سے یہ روایت غلط ہے صحیح یہ ہے کہ اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمرالعمری سے روایت کیا جس کے بارے میں امام ابوداود نے اوپر اشارہ کیا اور امام ترمذی نے اس پر تنقید فرمائی ، نیز اوپر کی حدیث جو عبیداللہ بن عمر سے مروی ہے اس میں رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے مشک کے منہ سے موڑ کر پینے سے منع کیا گیا ہے )
حدیث نمبر: 3721 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَعَا بِإِدَاوَةٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: اخْنِثْ فَمَ الْإِدَاوَةِ، ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২২
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیالہ کے سوراخ سے پینا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأشربة ١٥ (١٨٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صفة النبی ٧ (١٢) ، مسند احمد (٣/٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 3722 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৩
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے چاندی کے برتن میں پینا
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ (رض) مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا : میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کرچکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے : یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطمعة ٢٩ (٥٤٢٦) ، الأشربة ٢٧ (٥٦٣٢) ، ٢٨ (٥٦٣٣) ، اللباس ٢٥ (٥٨٣١) ، ٢٧ (٥٨٣٧) ، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٧) ، سنن الترمذی/الأشربة ١٠ (١٨٧٨) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٣٣ (٥٣٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٧ (٣٤١٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٠، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠٨) ، دی/ الأشربة ٢٥ (٢١٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 3723 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ بِهِ إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৪
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی برتن میں منہ ڈال کر پانی پینا
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا : نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٢٠ (٥٦١٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٥ (٣٤٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٨، ٣٤٣، ٣٤٤) ، سنن الدارمی/الأشربة ٢٢ (٢١٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر، نالی اور دریا سے منہ لگا کر پانی پی لینا اس صورت میں صحیح ہے کہ جب کوئی برتن ساتھ میں نہ ہو، لیکن ہاتھ سے پینا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 3724 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا، قَالَ: بَلْ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৫
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساقی (پلانے والا) خود کب پئے
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیئے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥١٨٤) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨١) ، سنن الترمذی/الأشربة ٢٠ (١٨٩٥) ، سنن ابن ماجہ/ (٣٤٣٤) کلاہما عن أبي قتادة، مسند احمد (٤/٣٥٤، ٣٨٢، ٥/٣٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3725 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৬
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساقی (پلانے والا) خود کب پئے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا : دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ١٤ (٥٦١٢، ١٨٩٣) ، ١٨ (٥٦١٩) ، المساقاة ١ (٢٣٥٢) ، الھبة ٤ (٢٥٧١) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٧ (٢٠٢٩) ، سنن الترمذی/الأشربة ١٩ (١٨٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٢ (٣٤٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صفة النبی ٩ (١٧) ، مسند احمد (٣/١١٠، ١١٣، ١٩٧) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٨ (٢١٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی ابتدا داہنی طرف سے مسنون و مستحب ہے، گرچہ بائیں طرف والے لوگ معاشرہ کے معزز افراد ہوں، ہاں اگر کسی نے پانی مانگا تو وہ سب سے پہلے اس کا مستحق ہے، لیکن وہ اپنے دائیں طرف والوں کو دے دے، جیسا کہ حدیث نمبر (٣٧٢٩) میں آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 3726 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِلَبَن ٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৭
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساقی (پلانے والا) خود کب پئے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے : یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٦ (٢٠٢٨) ، سنن الترمذی/الأشربة ١٣ (١٨٨٤) ، الشمائل (٢١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٨، ١١٩، ١٨٥، ٢١١، ٢٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3727 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২৮
پینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کے پانی میں پھونک مارنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الأشربة ١٥ (١٨٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٣ (٣٤٢٩، ٣٤٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٦١٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٠، ٣٠٩، ٣٥٧) ، سنن الدارمی/الأشربة ٢٧ (٢١٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 3728 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ.
তাহকীক: