কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
فیصلوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭০ টি
হাদীস নং: ৩৬১১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا : تو انہوں نے کہا : میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا : ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا : اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 3611 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ ١ ؎ میں گرفتار کرلیا، اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہا : السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کرلیا، حالانکہ ہم مسلمان ہوچکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ٢ ؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے ؟ میں نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : کون تمہارا گواہ ہے ؟ میں نے کہا : بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کردیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کردیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے ؟ میں نے کہا : ہاں، چناچہ آپ ﷺ نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہوچکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کرلو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں : مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا : اس شخص نے تو میرا تو شک چھین لیا ہے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا : تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو ؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا : تو اس کی والدہ کا تو شک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا : اللہ کے نبی ! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں : تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا : جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں : اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٦١٩) (ضعیف) (اس کے رواة ” عمار “ اور ” شعیث “ دونوں لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : ” ركبة “: طائف کے نواح میں ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎ : خطابی کہتے ہیں : شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
حدیث نمبر: 3612 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّيالزُّبَيْبَ، يَقُولُ: بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ، إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ بَيِّنَتُكَ ؟، قُلْتُ: سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ، لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا، فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ، لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ الْعَمَلَ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا، قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُه، فَقَالَ لِي: احْبِسْهُ، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ ؟، فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي، قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ ﷺ کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/آداب القضاة ٣٤ (٥٤٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣٣٠) ، (تحفة الأشراف والإرواء : ٢٦٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠٢) (ضعیف) (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے )
حدیث نمبر: 3613 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٠٨٨) (ضعیف )
حدیث نمبر: 3614 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦١٣، (تحفة الأشراف : ٩٠٨٨) (ضعیف )
حدیث نمبر: 3615 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ١ ؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٨٩، ٥٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
حدیث نمبر: 3616 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے) ۔ سلمہ کہتے ہیں : عبدالرزاق کی روایت میں حدثنا معمر کے بجائے أخبرنا معمر اور إذا كَرِهَ الاثنان اليمين کے بجائے إذا أكره الاثنان على اليمين ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الشہادات ٢٤ (٢٦٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣١٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری (٦٠٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3617 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا، قَالَ سَلَمَةُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَقَالَ: إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں في متاع کے بجائے في دابة کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٦١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٦٢) (صحیح) بما قبلہ
حدیث نمبر: 3618 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانا مدعی علیہ کے ذمہ ہے
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے (یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرھن ٦ (٢٥١٤) ، الشھادات ٢٠ (٢٦٦٨) ، تفسیر آل عمران ٣ (٤٥٥٢) ، صحیح مسلم/الأقضیة ١ (١٧١١) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٢ (١٣٤٢) ، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٥ (٥٤٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٢، ٥٧٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٤٢، ٣٥١، ٣٥٦، ٣٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3619 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلف کا طریقہ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا : اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٤٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ١/٢٨٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عطاء اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے )
حدیث نمبر: 3620 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ: احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ، يَعْنِي لِلْمُدَّعِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مدعا علیہ ذمی ہو تو کیا اس سے حلف لیا جائے گا
اشعث (رض) کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا : تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں (سورة آل عمران : ٧٧) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ المساقاة ٤ (٢٣٥٦) ، الرہن ٦ (٢٥١٥، ٢٥١٦) ، الشہادات ١٩ (٢٢٦٦، ٢٢٦٧) ، التفسیر ٣ (٤٥٤٩) ، الأیمان ١١ (٦٦٥٩، ٦٦٦٠) ، الأحکام ٣٠ (٧١٨٣، ٧١٨٤) ، صحیح مسلم/ الإیمان ٦١ (١٣٨) ، سنن الترمذی/ البیوع ٤٢ (١٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨، ٩٢٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3621 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی ایسے امر پر قسم کھانا جو اس کی غیر موجودگی میں ہوا ہو اور اسے صرف علم ہو
اشعث بن قیس (رض) کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کرلی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا : نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلیا ہے ؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہوگیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر : ٣٢٤٤) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٢٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 3622 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی ایسے امر پر قسم کھانا جو اس کی غیر موجودگی میں ہوا ہو اور اسے صرف علم ہو
وائل بن حجر حضرمی (رض) کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا : یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا : کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، تب آپ ﷺ نے (کندی سے) فرمایا : تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ ﷺ نے فرمایا : سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٢٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3623 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی سے حلف کیسے لیا جائے گا؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٤٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٩٢) (ضعیف) (اس کا راوی رجل من مزینة مبہم ہے )
حدیث نمبر: 3624 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِلْيَهُودِ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الرَّجْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی سے حلف کیسے لیا جائے گا؟
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٤٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٩٢) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی وہی مجہول راوی ہے )
حدیث نمبر: 3625 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مُزْيَنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی سے حلف کیسے لیا جائے گا؟
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے یعنی ابن صوریا ١ ؎ سے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من وسلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم (زانی کو پتھر مارنے) کا حکم ہے ؟ ابن صوریا نے کہا : آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفر بہ أبو داود (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ایک یہودی عالم کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 3626 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ صُورِيَا: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ ؟قَالَ: ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ وَلَا يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے
عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا : مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہوجاؤ تو کہو : میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی بقیہ ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 3627 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عليْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ، فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے
شرید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کردیتا ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں : ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/البیوع ٩٨ (٤٦٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن )
حدیث نمبر: 3628 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ: يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے
حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ ان کے والد نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : اس کو پکڑے رہو پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی ہر م اس اور حبیب دونوں مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 3629 حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: الْزَمْهُ، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے
معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدیات ٢١ (١٤١٧) ، سنن النسائی/قطع السارق ٢ (٤٨٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢، ٤، ٤/٤٤٧) (حسن )
حدیث نمبر: 3630 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ.
তাহকীক: