কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩১২ টি
হাদীস নং: ২৬৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات میں اچانک حملہ کرنے کا بیان
سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم پر ابوبکر صدیق (رض) کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار (کوڈ) أمت أمت ١ ؎ تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٦) ، سنن الدارمی/السیر ١٥ (٢٤٩٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے کافروں پر شب خون مارنے کا جواز ثابت ہوا اگر اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہو۔
حدیث نمبر: 2638 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَأَبُو عَامِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَمِتْ أَمِتْ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساقہ کے ساتھ امام کا رہنا
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ساقہ (لشکر کے پچھلے دستہ) کے ساتھ رہا کرتے تھے، آپ ﷺ کمزوروں کو ساتھ لیتے، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٦٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2639 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ، فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُو لَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے کس بات پر جنگ کی جائے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لا إله إلا الله کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوگئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الإیمان ١(٢٦٠٦) ، سنن النسائی/المحاربة ١ (٣٩٨١) ، سنن ابن ماجہ/الفتن (٣٩٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٠٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٠٢ (٢٩٤٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢٦١٠) ، مسند احمد (٢/ ٣١٤، ٣٧٧، ٤٢٣، ٤٣٩، ٤٧٥، ٤٨٢، ٥٠٢) (صحیح متواتر )
حدیث نمبر: 2640 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے کس بات پر جنگ کی جائے؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہوگئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٨ (٣٩٢) ، سنن الترمذی/الایمان ٢ (٢٦٠٨) ، سنن النسائی/تحریم الدم ١ (٣٩٧٢) ، والإیمان ١٥ (٥٠٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٩٩، ٢٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2641 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَأَنْ يَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے کس بات پر جنگ کی جائے؟
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٨٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/ الصلاة ٢٨ (٣٩٣ تعلیقًا) (صحیح )
حدیث نمبر: 2642 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے کس بات پر جنگ کی جائے؟
اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حرقات ١ ؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہوگیا، چناچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو لا إله إلا الله کہنے لگا (اس کے باوجود) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لا إله إلا الله کے سامنے تیری مدد کون کرے گا ؟ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ ٢ ؎ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا (تلوار کے ڈر سے) نہیں (بلکہ اسلام کے لیے) ؟ قیامت کے دن لا إله إلا الله کے سامنے تیری مدد کون کرے گا ؟ آپ ﷺ برابر یہی بات فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٤٥ (٤٢٦٩) ، والدیات ٢ (٦٨٧٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤١ (٩٦) ، سنن النسائی/الکبری (٨٥٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جہینہ کے چند قبائل کا نام ہے۔ ٢ ؎ : زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے والے کا شمار مسلمانوں میں ہوگا، اس کے ساتھ دنیا میں وہی سلوک ہوگا جو کسی مسلم مومن کے ساتھ ہوتا ہے اس کے کلمہ پڑھنے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، کیونکہ کلمہ کا تعلق ظاہر سے ہے نہ کہ باطن سے اور باطن کا علم صرف اللہ کو ہے نبی اکرم ﷺ کے فرمان أفلا شققت عن قلبه کا یہی مفہوم ہے۔
حدیث نمبر: 2643 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ، قَالَ: أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَالَهَا أَمْ لَا مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟. فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے کس بات پر جنگ کی جائے؟
مقداد بن اسود (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہوجائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے : میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کرلیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں تم اسے قتل نہ کرو ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آجائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ١٢ (٤٠١٩) ، والدیات ١ (٦٨٦٥) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤١ (٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣، ٤، ٥، ٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی وہ معصوم الدم قرار پائے گا اور تمہیں بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2644 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوسجدہ کر کے پناہ حاصل کرے اس کو قتل کرنیکی ممانعت
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت ١ ؎ کا حکم دیا اور فرمایا : میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دونوں کی (یعنی اسلام اور کفر کی) آگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہشیم، معمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/السیر ٤٢ (١٦٠٥) ، سنن النسائی/القسامة ٢١ (٤٧٨٤) (عن قیس مرسلا) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نصف دیت کا حکم دیا اور باقی نصف کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہوگئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں نصف دیت ساقط ہوگئی۔ ٢ ؎ : اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں : ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہوسکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علیحدہ کردیا ہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ٣ ؎ : یعنی : ان لوگوں نے اس حدیث کو عن قیس عن النبی ﷺ مرسلاً روایت کیا ہے، بخاری نے بھی مرسل ہی کو صحیح قرار دیا ہے مگر موصول کی متابعات صحیحہ موجود ہیں جیسا کہ البانی نے (ارواء الغلیل، حدیث نمبر : ١٢٠٧ میں) ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2645 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ؟ قَالَ: لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هُشَيْمٌ، وَمَعْمَرٌ، وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، وجماعة لم يذكروا جريرا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کے مقابلہ سے بھاگنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آیت کریمہ إن يكن منکم عشرون صابرون يغلبوا مائتين اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے (سورۃ الانفال : ٦٥) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کردیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا : الآن خفف الله عنكم اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے (سورۃ الانفال : ٦٦) ۔ ابوتوبہ نے پوری آیت يغلبوا مائتين تک پڑھ کر سنایا اور کہا : جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کردی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کردی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التفسیر ٧ (٤٦٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2646 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَزَلَتْ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 65، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ فَقَالَ: الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ سورة الأنفال آية 66، قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 66، قَالَ: فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کے مقابلہ سے بھاگنا
عبداللہ بن عمر (رض) کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سرایا میں سے کسی سریہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی کے ساتھ بھاگے، بھاگنے والوں میں میں بھی تھا، جب ہم رکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں ؟ ہم کافروں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے، پھر ہم نے کہا : چلو ہم مدینہ چلیں اور وہاں ٹھہرے رہیں، (پھر جب دوسری بار جہاد ہو) تو چل نکلیں اور ہم کو کوئی دیکھنے نہ پائے، خیر ہم مدینہ گئے، وہاں ہم نے اپنے دل میں کہا : کاش ! ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اگر ہماری توبہ قبول ہوئی تو ہم ٹھہرے رہیں گے ورنہ ہم چلے جائیں گے، ہم رسول اللہ ﷺ کے انتظار میں فجر سے پہلے بیٹھ گئے، جب آپ ﷺ نکلے تو ہم کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس جا کر ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : نہیں، بلکہ تم لوگ عکارون ہو (یعنی دوبارہ لڑائی میں واپس لوٹنے والے ہو) ۔ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : (خوش ہو کر) ہم آپ کے نزدیک گئے اور آپ کا ہاتھ چوما تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں ، (یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں میرے سوا وہ اور کہاں جائیں گے ؟ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجھاد ٣٦ (١٧١٦) ، سنن ابن ماجہ/ الأدب ١٦ (٣٧٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣، ٥٨، ٧٠، ٨٦، ٩٩، ١٠٠، ١١٠) ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 2647 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، قَالَ: فَلَمَّا بَرَزْنَا قُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ، فَقُلْنَا: نَدْخُلُ الْمَدِينَةَ فَنَتَثَبَّتُ فِيهَا وَنَذْهَبُ وَلَا يَرَانَا أَحَدٌ، قَالَ: فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لَنَا تَوْبَةٌ أَقَمْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ ذَهَبْنَا، قَالَ: فَجَلَسْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا خَرَجَ قُمْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ، قَالَ: فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَدَهُ، فَقَالَ: إِنَّا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کے مقابلہ سے بھاگنا
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ومن يولهم يومئذ دبره ١ ؎ بدر کے دن نازل ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٣١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پوری آیت اس طرح ہے إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله ( سورة الانفال : ١٦) ” جو شخص لڑائی سے اپنی پیٹھ موڑے گا، مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائیگا “ ، حدیث میں مذکور ہے لوگوں نے خود کو اس آیت کا مصداق سمجھ لیا تھا تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو مستثنی لوگوں میں سے قرار دیا۔
حدیث نمبر: 2648 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي يَوْمِ بَدْرٍ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ سورة الأنفال آية 16.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ فَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ فِرْقَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَحَضْرمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ قیدی جو کافر ہونے پر زبردستی کیا جائے
خباب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے (کافروں کے غلبہ کی) شکایت کی اور کہا : کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے ؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے ؟ (یہ سن کر) آپ ﷺ بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، اور فرمایا : تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کردیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم ! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضرموت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٢ (٣٤٦٦) ٢٥ (٣٨٢٩) ، والإکراہ ١ (٦٥٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٥١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١١، ٦/٣٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2649 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ فَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ فِرْقَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَحَضْرمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مسلمان کافروں کی طرف سے مسلمانوں کی جاسوسی کرے
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب (رض) کے منشی تھے، کہتے ہیں : میں نے علی (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا : تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ١ ؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا : خط لاؤ، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا : خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کردیا، ہم اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ (رض) کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا، وہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا : حاطب یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں، خاص ان میں سے نہیں ہوں، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں، قسم اللہ کی ! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس نے تم سے سچ کہا ، اس پر عمر (رض) بولے : مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو جھانک کر نظر رحمت سے دیکھا، اور فرمایا : تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کرچکا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٤١ (٣٠٠٧) ، والمغازي ٩ (٣٩٨٣) ، و تفسیر الممتحنة ١ (٤٨٩٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٦ (٢٤٩٤) ، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٦٠ (٣٣٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٧٩، ٢/٢٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مدینہ سے بارہ میل کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 2650 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا والزُّبَيْرُ وَالْمِقْدَادُ فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا، فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: هَلُمِّي الْكِتَابَ فَقَالَتْ: مَا عِنْدِي مِنْ كِتَابٍ فَقُلْتُ: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا حَاطِبُ ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَإِنَّ قُرَيْشًا لَهُمْ بِهَا قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي بِهَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ بِي مِنْ كُفْرٍ وَلَا ارْتِدَادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَكُمْ فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مسلمان کافروں کی طرف سے مسلمانوں کی جاسوسی کرے
اس سند سے بھی علی (رض) سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد ﷺ تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی : میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا، علی (رض) نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے ! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، ورنہ خط مجھے نکال کر دے، پھر پوری حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الجہاد ١٩٥ (٣٠٨١) ، المغازی ٩ (٣٩٨٣) ، الاستئذان ٢٣ (٦٢٥٩) ، صحیح مسلم/ فضائل الصحابة ٣٦ (٢٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٠٥، ١٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2651 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: انْطَلَقَ حَاطِبٌ فَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَارَ إِلَيْكُمْ وَقَالَ: فِيهِ، قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَانْتَحَيْنَاهَا فَمَا وَجَدْنَا مَعَهَا كِتَابًا فَقَالَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَأَقْتُلَنَّكِ أَوْ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے ۱؎، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْحَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَقُولُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ذمی کافر جاسوسی کرے
فرات بن حیان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے ١ ؎، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایک انصاری کے حلیف ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے فرات بن حیان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ ذمی جاسوس کو قتل کرنا صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2652 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْحَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَقُولُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کافر پناہ لے کر مسلمانوں میں آئے اور پھر جاسوسی کرے
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا، آپ سفر میں تھے، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا، پھر چپکے سے فرار ہوگیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو ، سلمہ بن اکوع (رض) کہتے ہیں : سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ ﷺ نے اسے بطور نفل (انعام) مجھے دیدیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٧٣ (٣٠٥١) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١٤) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجھاد ١٣ (١٧٥٤) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٩ (٢٨٣٦) ، مسند احمد (٤/٥٠) ، سنن الدارمی/السیر ١٥ (٢٤٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2653 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ، قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کافر پناہ لے کر مسلمانوں میں آئے اور پھر جاسوسی کرے
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں : ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے ہوئے تیزی کے ساتھ چل پڑا (جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جاسوس ہے) تو قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا اور یہ لوگوں کی سواریوں میں سب سے بہتر تھی، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا اور حال یہ تھا کہ اونٹنی کا سر اونٹ کے پٹھے کے پاس اور میں اونٹنی کے پٹھے پر تھا، پھر میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں اونٹ کے پٹھے کے پاس پہنچ گیا، پھر آگے بڑھ کر میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھایا، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا تو میں نے تلوار میان سے نکال کر اس کے سر پر ماری تو اس کا سر اڑ گیا، میں اس کا اونٹ مع ساز و سامان کے کھینچتے ہوئے لایا تو لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے آ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا : اس شخص کو کس نے مارا ؟ لوگوں نے بتایا : سلمہ بن اکوع نے، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کا سارا سامان انہی کو ملے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الجہاد ١٣ (١٧٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٩، ٥١) (حسن) (مؤلف کی اس سند سے حسن ہے، نیز یہ واقعہ صحیحین میں بھی ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امن حاصل کرنے والے کافر کے متعلق اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ جاسوس ہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2654 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ، وَهِشَامًا حَدَّثَاهُمْ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَضَحَّى وَعَامَّتُنَا مُشَاةٌ وَفِينَا ضَعَفَةٌ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ ثُمَّ جَاءَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى ضَعَفَتَهُمْ وَرِقَّةَ ظَهْرِهِمْ خَرَجَ يَعْدُو إِلَى جَمَلِهِ فَأَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُهُ وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ هِيَ أَمْثَلُ ظَهْرِ الْقَوْمِ قَالَ: فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، وَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ بِالْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَأَضْرِبُ رَأْسَهُ فَنَدَرَ فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهَا فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ مُقْبِلًا فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ فَقَالُوا: سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ لَهُ: سَلَبُهُ أَجْمَعُ، قَالَ هَارُونُ: هَذَا لَفْظُ هَاشِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کرنے کے لئے کونسا وقت بہتر ہے
نعمان بن مقرن (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (لڑائی میں) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال (لڑائی) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجزیة ١ (٣١٦٠) ، سنن الترمذی/السیر ٤٦ (١٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2655 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُقَرِّنٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ.
তাহকীক: