কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩১২ টি
হাদীস নং: ২৬৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے مقابلہ کے وقت خاموش رہنا بہتر ہے
قیس بن عباد (رض) کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قتال کے وقت آواز ١ ؎ ناپسند کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩١٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دوران قتال آواز کرنے سے مراد مجاہدین کا آپس میں ایک دوسرے کو بآواز بلند نام لے کر پکارنا یا ایسے الفاظ سے پکارنا ہے جس سے وہ فخر و غرور میں مبتلا ہوجائیں، اسے صحابہ ناپسند کرتے تھے۔ ابوبردہ (رض) اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩١٢٨) (ضعیف) (سابقہ حدیث میں ہشام دستوائی نے اسے قیس بن عباد کا قول روایت کیا ہے مطر صدوق راوی ہیں لیکن علماء نے انہیں کثیر الخطا قرار دیا ہے )
حدیث نمبر: 2656 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ. حدیث نمبر: 2657 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مَطَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مَطَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کے وقت سواری سے اترنا درست ہے
براء (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کی حنین کے دن مشرکوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ چھٹ گئے (یعنی شکست کھا کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے) اور آپ ﷺ اپنے خچر سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٢٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجھاد ١٥ (١٦٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2658 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَانْكَشَفُوا نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی میں غرور اور تکبر کرنے کا بیان
جابر بن عتیک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے : ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، اور دوسری غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ پسند کرتا ہے تو وہ شک کے مقامات میں غیرت کرنا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ شک کے علاوہ میں غیرت کرنا ہے، اور تکبر میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے اور دوسرا وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، پس وہ تکبر جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے دوران آدمی کا کافروں سے جہاد کرتے وقت تکبر کرنا اور اترانا ہے، اور صدقہ دیتے وقت اس کا خوشی سے اترانا ہے، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم میں تکبر کرنا ہے ، اور موسیٰ کی روایت میں ہے : فخر و مباہات میں تکبر کرنا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٦٦ (٢٥٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٣١٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٤٥، ٤٤٦) (حسن )
حدیث نمبر: 2659 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، و موسي بن إسماعيل، المعني وَاحِدٌ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، فَأَمَّا الَّتِي يُحِبُّهَا اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُهَا اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُحِبُّ اللَّهُ، فَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ نَفْسَهُ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَاخْتِيَالُهُ فِي الْبَغْيِ، قَالَ مُوسَى: وَالْفَخْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی گھِرجائے تو کیا کرے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا، اور ان کا امیر عاصم بن ثابت (رض) کو بنایا، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے، جب عاصم (رض) نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی، کافروں نے ان سے کہا : اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو ، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے، عاصم (رض) نے کہا : رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو قتل کردیا جن میں عاصم (رض) بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے، ان میں ایک خبیب، دوسرے زید بن دثنہ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے رضی اللہ عنہم، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آگئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا، تیسرے شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے، کافروں نے ان کو کھینچا، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا، تو انہیں قتل کردیا، اور خبیب (رض) ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا ١ ؎، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب (رض) نے ان سے کہا : مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر کہا : اللہ کی قسم ! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے مارے جانے کے خوف سے گھبراہٹ ہے تو میں اور دیر تک پڑھتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٧٠ (٣٠٤٥) ، والمغازي ١٠ (٣٩٨٩) ، والتوحید ١٤ (٧٤٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٩٤، ٣١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سولی دیتے وقت بےپردہ ہونے کا خطرہ تھا، اس لئے خبیب (رض) نے استرا طلب کیا تاکہ زیر ناف صاف کرلیں۔
حدیث نمبر: 2660 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّحَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ فَنَفَرُوا لَهُمْ هُذَيْلٌ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ لَجَئُوا إِلَى قَرْدَدٍ فَقَالُوا لَهُمْ: انْزِلُوا فَأَعْطُوا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ، وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ: هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً فَجَرُّوهُ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ لِيَقْتُلُوهُ، قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ: دَعُونِي أَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا مَا بِي جَزَعًا لَزِدْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی گھِرجائے تو کیا کرے
زہری سے روایت ہے کہ مجھے عمرو بن ابوسفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی (وہ بنو زہرہ کے حلیف اور ابوہریرہ (رض) کے اصحاب میں سے تھے) ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2661 حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کمین گاہوں میں چھپ کر بیٹھنے کا بیان
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد میں عبداللہ بن جبیر (رض) کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا : اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے، انہیں روند ڈالا ہے، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں ، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے : لوگو ! غنیمت، غنیمت، تمہارے ساتھی غالب آگئے تو اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے ؟ اس پر عبداللہ بن جبیر (رض) نے کہا : کیا تم وہ بات بھول گئے جو تم سے رسول اللہ ﷺ نے کہی ہے ؟ تو ان لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم ضرور مشرکین کے پاس جائیں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے، چناچہ وہ ہٹ گئے تو اللہ نے ان کے منہ پھیر دئیے اور وہ شکست کھا کر واپس آئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٦٤ (٣٠٣٩) ، والمغازي ١٠ (٣٩٨٦) ، والتفسیر ١٠ (٤٥٦١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٩٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2662 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ وَقَالَ: إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطِفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا حَتَّى أُرْسِلَ إلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ قَالَ: فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ: فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ: أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ: الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَأَتَوْهُمْ فَصُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صف بندی کا بیان
ابواسید (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم نے بدر کے دن صف بندی کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کافر تمہارے قریب پہنچ جائیں ١ ؎ تب تم انہیں نیزوں سے مارنا، اور اپنے تیر بچا کر رکھنا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٧٨ (٢٩٠٠) ، والمغازي ١٠ (٣٩٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی تیر کی زد میں آجائیں۔
حدیث نمبر: 2663 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اصْطَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ: إِذَا أَكْثَبُوكُمْ يَعْنِي إِذَا غَشُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب دشمن بالکل قریب جائے تب تلوار نکالیں
ابواسید ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا : جب وہ (دشمن) تم سے قریب ہوجائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ١ ؎ تلوار نہ سونتنا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١١٩٠) (ضعیف) (اس کے راوی اسحاق مجہول، اور مالک بن حمزہ لین الحدیث ہیں، نیز پچھلی حدیث کے مضمون سے اس کے مضمون میں فرق ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی تلوار کی مار پر نہ آجائیں۔
حدیث نمبر: 2664 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ نَجِيحٍ وَلَيْسَ بِالْمَلْطِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مبازرت کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ آگے آیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا (ولید) اور اس کا بھائی اس کے پیچھے آئے، پھر عتبہ نے آواز دی : کون میرے مقابلے میں آئے گا ؟ تو انصار کے کچھ جوانوں نے اس کا جواب دیا، اس نے پوچھا : تم کون ہو ؟ انہوں نے اسے بتایا (کہ ہم انصار کے لوگ ہیں) اس نے (سن کر) کہا : ہمیں تمہاری ضرورت نہیں، ہم اپنے چچا زادوں کو (مقابلہ کے لیے) چاہتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حمزہ ! تم کھڑے ہو، علی ! تم کھڑے ہو، عبیدہ بن حارث ! تم کھڑے ہو ، تو حمزہ (رض) عتبہ کی طرف بڑھے، اور میں شیبہ کی طرف بڑھا، اور عبیدہ اور ولید (آپس میں بھڑے تو دونوں) کو دو دو زخم لگے، دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو نڈھال کردیا، پھر ہم ولید کی طرف مائل ہوئے اور اسے قتل کردیا، اور عبیدہ کو اٹھا کرلے آئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٠٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١١٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2665 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: تَقَدَّمَ يَعْنِي عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَتَبِعَهُ ابْنُهُ، وَأَخُوهُ فَنَادَى مَنْ يُبَارِزُ فَانْتَدَبَ لَهُ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكُمْ إِنَّمَا أَرَدْنَا بَنِي عَمِّنَا فقال النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ يَا حَمْزَةُ قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْحَارِثِ، فَأَقْبَلَ حَمْزَةُ إِلَى عُتْبَةَ وَأَقْبَلْتُ إِلَى شَيْبَةَ وَاخْتُلِفَ بَيْنَ عُبَيْدَةَ والْوَلِيدِ ضَرْبَتَانِ فَأَثْخَنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، ثُمَّ مِلْنَا عَلَى الْوَلِيدِ فَقَتَلْنَاهُ وَاحْتَمَلْنَا عُبَيْدَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ (ناک کان کاٹنے) کی ممانعت
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بہتر قتل کرنے والے صاحب ایمان لوگ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٠ (٢٦٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٣) (ضعیف) (اس کے راوی ہُنّی لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی وہ قتل اچھے طریقے سے کرتے ہیں زیادتی نہیں کرتے مثلاً مثلہ وغیرہ نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 2666 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ (ناک کان کاٹنے) کی ممانعت
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی : ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب (رض) کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ١ ؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین (رض) کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا : تو انہوں نے (بھی) کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٦٣٧، ١٠٨٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٨، ٤٢٩) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢٤ (١٦٩٧) (صحیح) (متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ہیاج لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جاسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2667 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍفَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍفَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں عورتوں کے قتل کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کسی غزوہ میں مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر نکیر فرمائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٤٧ (٣٠١٤) ، صحیح مسلم/الجھاد ٨ (١٧٤٤) ، سنن الترمذی/الجھاد ١٩ (١٥٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤١) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٦٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجھاد ٣ (٩) ، مسند احمد (٢/١٢٢، ١٢٣) ، سنن الدارمی/السیر ٢٥ (٢٥٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2668 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْن سعيدَ قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں عورتوں کے قتل کی ممانعت
رباح بن ربیع (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا : جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں ، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے ١ ؎، مقدمۃ الجیش (فوج کے اگلے حصہ) پر خالد بن ولید (رض) مقرر تھے تو آپ ﷺ نے ایک شخص سے خالد بن ولید (رض) کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٩، ٣٧٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٨٨، ٤/١٧٨، ٣٤٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ عورت اگر لڑائی میں حصہ لیتی ہے اور لڑتی ہے تو اسے قتل کیا جائے گا بصورت دیگر اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ٢ ؎ : یہاں مزدور سے مراد وہ مزدور ہے جو لڑتا نہ ہو صرف خدمت کے لئے ہو۔
حدیث نمبر: 2669 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ ؟ فَجَاءَ فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں عورتوں کے قتل کی ممانعت
سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مشرکین کے بوڑھوں ١ ؎ کو (جو لڑنے کے قابل ہوں) قتل کرو، اور کم سنوں کو باقی رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢، ٢٠) (ضعیف) (حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 2670 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَبْقُوا شَرْخَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں عورتوں کے قتل کی ممانعت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑجا رہے تھے، اور رسول ﷺ ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا : فلاں عورت کہاں ہے ؟ وہ بولی : میں ہوں، میں نے پوچھا : تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی : میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ (رض) کہتی ہیں : پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑجا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ قتل کردی جائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٣٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٧٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کہا جاتا ہے کہ اس عورت کا نیا کام یہ تھا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دی تھیں، اسی سبب سے اسے قتل کیا گیا۔
حدیث نمبر: 2671 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يُقْتَلْ مِنْ نِسَائِهِمْ تَعْنِي بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةٌ إِنَّهَا لَعِنْدِي تُحَدِّثُ تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقتل رجالهم بالسيوف، إذ هتف هاتف باسمها أين فلانة ؟ قَالَتْ: أَنَا، قُلْتُ: وَمَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ: حَدَثٌ أَحْدَثْتُهُ، قَالَتْ: فَانْطَلَقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا أَنَّهَا تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں عورتوں کے قتل کی ممانعت
صعب بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں (تو کیا حکم ہے ؟ ) ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور عمرو بن دینار کہتے تھے : وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں ۔ زہری کہتے ہیں : پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٤٦ (٣٠١٢) ، صحیح مسلم/الجھاد ٩ (١٧٨٥) ، سنن الترمذی/السیر ١٩ (١٥٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٨، ٧١، ٧٢، ٧٣) (صحیح) (زہری کا مذکورہ قول مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے )
حدیث نمبر: 2672 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ ابْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ ذَرَارِيِّهِمْ وَنِسَائِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُمْ مِنْهُمْ، وَكَانَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ يَقُولُ: هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَعَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کو جلا کر مارنا
حمزہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا، میں اس سریہ میں نکلا، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا ، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ ﷺ نے مجھے پکارا، میں لوٹا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا، جلانا نہیں، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٤٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : البتہ آگ سے کافروں کے کھیتوں، باغوں اور بستیوں کو جلانا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2673 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيهَا، وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ، فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ، فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کو جلا کر مارنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا : اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٤٩ (٣٠١٦) ، سنن الترمذی/السیر ٢٠ (١٥٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٧، ٣٣٨، ٤٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2674 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ، وَقُتَيْبَةُ، أن الليث بن سعد. حدثهم عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کو جلا کر مارنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم ﷺ آگئے، اور (یہ دیکھ کر) فرمایا : اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بےقرار کیا ہے ؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو ، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا : اس کو کس نے جلایا ہے ؟ ہم لوگوں نے کہا : ہم نے، آپ ﷺ نے فرمایا : آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٣٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٠٤) ، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٢٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2675 حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ: غَيْرُ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ قُلْنَا نَحْنُ قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ.
তাহকীক: