কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩১২ টি
হাদীস নং: ২৫৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجاست کھانے والے جانوروں پر سواری کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گندگی کھانے والے اونٹوں کی سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٧٥٨٩) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2558 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی اپنے جانور کا نام رکھ سکتا ہے
معاذ (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا جس کو عفیر کہا جاتا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٤٦ (٢٨٥٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٠(٣٠) ، سنن الترمذی/الایمان ١٨ (٢٦٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٥١) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ العلم (٥٨٧٧) ، مسند احمد (٥/٢٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پیچھے سواری پر کسی کو بٹھایا جاسکتا ہے بشرطیکہ جانور اس دوسرے سوار کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو، اسی طرح جانوروں کا نام بھی رکھا جاسکتا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کے خچر کا نام دلدل اور گھوڑوں میں سے ایک کا نام سکب اور ایک کا بحر تھا۔
حدیث نمبر: 2559 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوچ کے وقت مجاہدین کو اللہ کے گھوڑ سوار کہہ کر پکارنا
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے ، وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی (تسلی دیتے ہوئے) خیل اللہ کہتے، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے (تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٦١٩) (ضعیف) (اس سند میں جعفر ضعیف ہیں، خبیب مجہول، اس لئے حدیث ضعیف ہے، اور سلیمان بن سمرہ مقبول یعنی بشرط متابعت )
حدیث نمبر: 2560 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى خَيْلَنَا خَيْلَ اللَّهِ إِذَا فَزِعْنَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا فَزِعْنَا بِالْجَمَاعَةِ وَالصَّبْرِ وَالسَّكِينَةِ، وَإِذَا قَاتَلْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور پر لعنت کرنے کی ممانعت
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ١ ؎، لوگوں نے اس پر سے (کجاوہ) اتار لیا۔ عمران (رض) کہتے ہیں : گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر ٢٤ (٢٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣١) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٥ (٢٧١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا اس لئے کیا تاکہ جانور کا مالک آئندہ کسی جانور پر لعنت نہ بھیجے، گویا آپ ﷺ کا یہ فرمان اس مالک کے لئے بطور سرزنش تھا۔
حدیث نمبر: 2561 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ لَعْنَةً فَقَالَ: مَا هَذِهِ ؟ قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ، فَوَضَعُوا عَنْهَا، قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةٌ وَرْقَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوپایہ جانوروں کو لڑانے کی ممانعت
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجھاد ٣٠ (١٧٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٣١) (ضعیف) (اس کے راوی ابویحییٰ قتات ضعیف راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل سے جانوروں کو تکلیف پہنے گی، اور تکان لاحق ہوگی جو بلا کسی فائدہ کے ہوگی۔
حدیث نمبر: 2562 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کی علامت لگانا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک (گھٹی) ١ ؎ فرما دیں، تو دیکھا کہ آپ ﷺ جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان (داغ) لگا رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انس (رض) نے کہا : ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٦٩ (١٥٠٢) ، والذبائح ٣٥ (٥٥٤٢) ، صحیح مسلم/اللباس ٣٠ (٢١١٩) ، الآداب ٥ (٢١٤٥) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤ (٣٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٩، ١٧١، ٢٥٤، ٢٥٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” تحنيك “ یہ ہے کہ کھجور یا اسی جیسی کوئی میٹھی چیز منہ میں چبا کر بچے کے منہ میں رکھ دیا جائے تاکہ اس کی مٹھاس کا اثر بچے کے پیٹ میں پہنچ جائے، رسول اکرم ﷺ سے تحنیک کا مقصد برکت کا حصول تھا، اور چیز غیر نبی میں متحقق نہیں ہے اس لئے دوسروں سے تحنیک کرانے کا کوئی فائدہ نہیں نیز بزرگ شخصیات سے تحنیک کا تحنیک نبوی پر قیاس صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2563 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي حِينَ وُلِدَ لِيُحَنِّكَهُ فَإِذَا هُوَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا أَحْسَبُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چہرہ پرداغ لگانے اور مارنے کی ممانعت
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے ، پھر آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٧٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٩ (٢١١٧) ، سنن الترمذی/الجھاد ٣٠ (١٧١٠) ، مسند احمد (٣/٣٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2564 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: أَمَا بَلَغَكُمْ أَنِّي قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَةَ فِي وَجْهِهَا أَوْ ضَرَبَهَا فِي وَجْهِهَا، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑیوں کا گدھوں سے جفتی کرانا
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی (رض) نے کہا : اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو (شریعت کے احکام سے) واقف نہیں ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الخیل ٨ (٣٦١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٨، ١٠٠، ١٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جو لوگ گھوڑوں کی منفعت سے واقف نہیں ہیں وہی ایسا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2565 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک جانور پر تین آدمیوں کا سوار ہونا
عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چناچہ (ایک بار) آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٥ (٢٤٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٣ (٣٧٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٣٠) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الاستئذان ٣٦ (٢٧٠٧) ، مسند احمد (١/٢٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2566 حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوَرِّقٍ يَعْنِي الْعِجْلِيَّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، اسْتُقْبِلَ بِنَا فَأَيُّنَا اسْتُقْبِلَ أَوَّلًا جَعَلَهُ أَمَامَهُ فَاسْتُقْبِلَ بِي فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ، ثُمَّ اسْتُقْبِلَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ، فَجَعَلَهُ خَلْفَهُ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ وَإِنَّا لَكَذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور پر بیکاربیٹھنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کردیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٥٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سواری پر بلا ضرورت بیٹھنا اور بیٹھ کر اسے مارنا پیٹنا اور تکلیف پہنچانا صحیح نہیں ہے، البتہ اگر یہ بیٹھنا کسی مقصد کے حصول کے لئے ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا حجۃ الوداع کے موقع پر سواری پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2567 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ فَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ وَجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوتل اونٹوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کچھ اونٹ ١ ؎ شیطانوں کے ہوتے ہیں، اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوتے ہیں، رہے شیطانوں کے اونٹ تو میں نے انہیں دیکھا ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے کو تل اونٹ کے ساتھ نکلتا ہے جسے اس نے کھلا پلا کر موٹا کر رکھا ہے (خود) اس پر سواری نہیں کرتا، اور اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے، دیکھتا ہے کہ وہ چلنے سے عاجز ہوگیا ہے اس کو سوار نہیں کرتا، اور رہے شیطانوں کے گھر تو میں نے انہیں نہیں دیکھا ہے ٢ ؎۔ سعید کہتے تھے : میں تو شیطانوں کا گھر انہیں ہودجوں کو سمجھتا ہوں جنہیں لوگ ریشم سے ڈھانپتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٣٧٨) (ضعیف) (اس حدیث کو البانی نے سلسلة الاحادیث سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی میں درج کیا تھا لیکن انقطاع کے سبب ضعیف ابی داود میں ڈال دیا، ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود ٢ ؍٣١٨ ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد ایسے اونٹ ہیں جو محض فخر و مباہات کے لئے رکھے گئے ہوں، ان سے کوئی دینی اور شرعی مصلحت نہ حاصل ہو رہی ہو۔ ٢ ؎ : یعنی ایسے گھر جو بلاضرورت محض نام ونمود کے لئے بنائے گئے ہوں۔
حدیث نمبر: 2568 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَكُونُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِينِ وَبُيُوتٌ لِلشَّيَاطِينِ، فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِينِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِجُنَيْبَاتٍ مَعَهُ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلَا يَعْلُو بَعِيرًا مِنْهَا، وَيَمُرُّ بِأَخِيهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهِ فَلَا يَحْمِلُهُ، وَأَمَّا بُيُوتُ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ أَرَهَا، كَانَ سَعِيدٌ يَقُولُ: لَا أُرَاهَا إِلَّا هَذِهِ الْأَقْفَاصُ الَّتِي يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيبَاجِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلدی چلنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ١ ؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ٢ ؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٢٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإمارة ٥٤ (١٩٢٦) ، سنن الترمذی/الأدب ٧٥ (٢٨٥٨) ، مسند احمد (٢/٣٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی انہیں کچھ دیر چرنے کے لئے چھوڑ دو ۔ ٢ ؎ : تاکہ قحط والی زمین جلدی سے طے کرلو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔ ٣ ؎ : کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2569 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ، فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ فَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ، فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جلدی چلنے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) نے بھی نبی اکرم ﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول فأعطوا الإبل حقها کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو (تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٧ (٣٧٧٢) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٩٥٥) (تحفة الأشراف : ٢٢١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2570 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا قَالَ، بَعْدَ قَوْلِهِ: حَقَّهَا وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اندھیرے میں سفر کرنے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی رات میں مسافت زیادہ طے ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2571 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جانور کا مالک ہو وہ آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے
بریدہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا : اللہ کے رسول سوار ہوجائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنادو ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنادیا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر سوار ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٢٥ (٢٧٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٩٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٣) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2572 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي جَاءَ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ فَرَكِبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں جانور کی کونچیں کاٹ ڈالنے کا بیان
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب (رض) کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ١ ؎، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کردیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کونچ وہ موٹا پٹھا جو آدمی کے ایڑی کے اوپر اور چوپایوں کے ٹخنے کے نیچے ہوتا ہے، گھوڑے کی کونچ اس لئے کاٹ دی گئیں تاکہ دشمن اس گھوڑے کے ذریعہ مسلمانوں پر حملہ نہ کرسکے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑائی میں سامان کے سلسلہ میں یہ اندیشہ ہو کہ دشمن کے ہاتھ میں آ کر اس کی تقویت کا سبب بنے گا تو اسے تلف کر ڈالنا درست ہے۔ ٢ ؎ : شاید مؤلف نے اس بنیاد پر اس حدیث کو غیر قوی قرار دیا ہے کہ عباد کے رضاعی باپ مبہم ہیں، لیکن یہ صحابی بھی ہوسکتے ہیں، اور یہی ظاہر ہے، اسی بنا پر البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے، (حسن اس لئے کہ ” ابن اسحاق “ درجہ حسن کے راوی ہیں )
حدیث نمبر: 2573 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْن عَبَّادٍ، حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي وَهُوَ أَحَدُ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزَاةِ مُؤْتَةَ قَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگے بڑھنے کی شرط کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ١ ؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجھاد ٢٢ (١٧٠٠) ، سنن النسائی/ الخیل ١٣(٣٦١٥) (تحفة الأشراف : ١٤٦٣ ٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں سبق کا لفظ آیا ہے سبق اس پیسہ کو کہتے ہیں، جو گھوڑ دوڑ وغیرہ میں شرط کے طور پر رکھا جاتا ہے، لیکن یہ رقم خود گھوڑ دوڑ میں شرکت کرنے والوں کی طرف سے جیتنے والے کے لئے نہ ہو، بلکہ کسی تیسرے فریق کی طرف سے ہو، اگر خود گھوڑوں کی ریس (دوڑ) میں شرکت کرنے والوں کی جانب سے ہوگا تو یہ مقابلہ جُوا میں داخل ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 2574 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگے بڑھنے کی شرط کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ١ ؎ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر (رض) بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٤١ (٤٢٠) ، والجھاد ٥٦ (٢٨٦٨) ، ٥٧ (٢٨٦٩) ، ٥٨ (٢٨٧٠) والاعتصام ١٦ (٧٣٣٦) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠) ، سنن النسائی/الخیل ١٢ (٣٦١٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجھاد ٢٢ (١٦٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٤ (٢٨٧٧) ، موطا امام مالک/الجھاد ١٩ (٤٥) ، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٥٦) ، سنن الدارمی/الجھاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : گھوڑوں کے بدن کو چھریرا بنانے کے عمل کو تضمیر کہتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خوب کھلا پلا کر موٹا اور تندرست کیا جائے، پھر آہستہ آہستہ ان کی خوراک کم کردی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل خوراک پر آجائیں، پھر ایک مکان میں بند کر کے ان پر گردنی ڈال دی جائے تاکہ انہیں گرمی اور پسینہ آجائے جب پسینہ خشک ہوجاتا ہے تو وہ سبک، طاقتور اور تیز رو ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2575 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ ضُمِّرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگے بڑھنے کی شرط کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں (کو چھریرا) پھرتیلا بناتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨١٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 2576 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُضَمِّرُ الْخَيْلَ يُسَابِقُ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگے بڑھنے کی شرط کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑ دوڑ کا مقابلہ کرایا اور پانچویں برس میں داخل ہونے والے گھوڑوں کی منزل دور مقرر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٠٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦١، ٩١، ١٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2577 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِي الْغَايَةِ.
তাহকীক: