কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)

كتاب السنن للإمام أبي داود

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩১২ টি

হাদীস নং: ২৭৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے حصہ کا بیان
مجمع بن جاریہ انصاری (رض) سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں : ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ (اپنی سواریوں) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ١ ؎ کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے إنا فتحنا لک فتحا مبينا پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہی فتح ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہی فتح ہے ، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے، آپ ﷺ نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومعاویہ کی حدیث (نمبر ٢٧٣٣) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے : تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (٣/٤٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٢١٤) ، ویأتی ہذا الحدیث فی الخراج (٣٠١٥) (ضعیف) (اس کے راوی مجمع سے وہم ہوگیا ہے حالانکہ وہ صدوق ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎ : گویا لشکر کی صحیح تعداد چودہ سو تھی جن میں دو سو سوار تھے، سواروں کو تین تین حصے دئے گئے اور پیدل والوں کو ایک حصہ۔
حدیث نمبر: 2736 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعٍ، ‏‏‏‏‏‏يَذْكُرُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ َرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الْأَبَاعِرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا:‏‏‏‏ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ قَرَأَ عَلَيْهِمْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتْحٌ هُوَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ فَقُسِّمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَصَحُّ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ وَأَرَى الْوَهْمَ فِي حَدِيثِ مُجَمِّعٍ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَ مِائَةِ فَارِسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا مِائَتَيْ فَارِسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے ماسوا انعام کے طور پر کچھ دینے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا : جس نے ایسا ایسا کیا اس کو بطور انعام اتنا اتنا ملے گا ، جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے جھنڈوں سے چمٹے رہے اس سے ہٹے نہیں، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا : ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری ہی طرف پلٹتے، تو یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ غنیمت کا مال تم ہی اڑا لو، اور ہم یوں ہی رہ جائیں، جوانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسے ہم کو دیا ہے، تب اللہ نے یہ آیت کریمہ يسألونک عن الأنفال قل الأنفال لله یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئیے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو، بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی (سورۃ الانفال : ١-٥) سے كما أخرجک ربک من بيتک بالحق وإن فريقا من المؤمنين لکارهون تک نازل فرمائی، پھر ان کے لیے یہی بہتر ہوا، اسی طرح تم سب میری اطاعت کرو، کیونکہ میں اس کے انجام کار کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٠٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام اپنے اختیار سے مجاہدین کو غنیمت سے مقررہ حصہ کے سوا بطور تشجیع و ہمت افزائی جو کچھ دیتا ہے اسے نفل کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2737 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفَلِ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَقَدَّمَ الْفِتْيَانُ وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَالَ الْمَشْيَخَةُ:‏‏‏‏ كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ لَوِ انْهَزَمْتُمْ لَفِئْتُمْ إِلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَذْهَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى الْفِتْيَانُ وَقَالُوا:‏‏‏‏ جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ إِلَى قَوْلِهِ كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ سورة الأنفال آية 1 ـ 5 يَقُولُ فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ فَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے ماسوا انعام کے طور پر کچھ دینے کا بیان
اس سند سے بھی ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا : جو شخص کسی کافر کو مارے تو اس کے لیے اتنا اور اتنا (انعام) ہے، اور جو کسی کافر کو قید کرے اس کے لیے اتنا اور اتنا (انعام) ہے ، پھر آگے اسی حدیث کی طرح بیان کیا، اور خالد کی (یعنی : پچھلی حدیث) زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٦٠٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2738 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ وَحَدِيثُ خَالِدٍ أَتَمُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے ماسوا انعام کے طور پر کچھ دینے کا بیان
اس سند بھی سے داود سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے : رسول اللہ ﷺ نے اسے برابر برابر تقسیم کیا ، اور خالد کی حدیث (نمبر ٢٧٣٧) کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٢٧٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٨١، ١٥٦٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2739 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّوَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ خَالِدٍ أَتَمُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے ماسوا انعام کے طور پر کچھ دینے کا بیان
سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا : یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چناچہ میں آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کردیا ہے، لہٰذا (اب) یہ تمہاری ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی يسألونک عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ بن مسعود (رض) کی قرأت يسألونک عن النفل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجھاد ١٢ (١٧٤٨) ، سنن الترمذی/تفسیر الأنفال ٩ (٣٠٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٧٨، ١٨١، ١٨٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2740 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجِبْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ بِكَلَامِي فَجِئْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُونَكَ النَّفْلَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٦٧٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٤) ، والمغازي ٥٧ (٤٣٣٨) ، صحیح مسلم/الجھاد ١٢ (١٧٤٨) ، موطا امام مالک/الجھاد ٦ (١٥) ، سنن الدارمی/السیر ٤١ (٢٥٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2741 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَامُبَشَّرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمُ الْمَعْنَى كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْنَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ قِبَلَ نَجْدٍ وَانْبَعَثَتْ سَرِيَّةٌ مِنَ الْجَيْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ سُهْمَانُ الْجَيْشِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَنَفَّلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ بَعِيرًا بَعِيرًا فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
ولید بن مسلم کہتے ہیں : میں نے ابن مبارک سے یہی حدیث بیان کی، میں نے کہا اور اسی طرح ہم سے ابن ابی فروہ نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ہے تو ابن مبارک نے کہا : جن کا نام تم نے لیا ہے وہ مالک کے برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح یا اس جیسی بات انہوں نے کہی، اس سے وہ امام مالک بن انس کو مراد لے رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٧٦٧٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2742 حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ:‏‏‏‏ حَدَّثْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَعْدِلُ مَنْ سَمَّيْتَ بِمَالِكٍ هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ يَعْنِي مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ ١ ؎ نجد کی جانب بھیجا، میں بھی اس کے ساتھ نکلا، ہمیں بہت سے اونٹ ملے، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا، آپ ﷺ نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٤١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سریہ ایسی فوجی کاروائی جس میں رسول ﷺ نے شرکت نہیں فرمائی، اور غزوہ ایسی جنگ جس میں آپ نے شرکت فرمائی۔
حدیث نمبر: 2743 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيَّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجْتُ مَعَهَا فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا وَلَا عَابَ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا صَنَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا بِنَفْلِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر (رض) بھی تھے، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل (انعام) دئیے گئے۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے : تو رسول اللہ ﷺ نے اس تقسیم کو بدلا نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الخمس ١٥ (٣١٣٤) ، صحیح مسلم/ الجہاد ١٢ (١٧٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٩٣، ٨٣٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦٢، ١١٢، ١٥٦) ، موطا امام مالک/ الجہاد ٦ (١٥) ، دی السیر ٤ (٢٥٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2744 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ الْمَعْنَى،‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ:‏‏‏‏ فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بطور انعام دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الجہاد ١٢ (١٧٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٨١٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2745 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٥) ، صحیح مسلم/الجھاد ١٢ (١٧٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی پہلے پورے مال میں سے خمس نکالتے پھر انعام کچھ دینا ہوتا دیتے پھر باقی عام لشکر میں برابر تقسیم کرتے۔
حدیث نمبر: 2746 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّي. ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةَ النَّفَلِ سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلُّهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے ایک حصہ کو انعام کے طور پر کچھ زیادہ دینا
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی : اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم اے اللہ ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دیدے، اے اللہ ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے ، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہوگئے اور وہ آسودہ بھی ہوگئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨٥٩) (حسن )
حدیث نمبر: 2747 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُيَيٌّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خمس انعام سے پہلے نکالا جائے گا
حبیب بن مسلمہ فہری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (مال غنیمت میں سے) خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے بعد ثلث (ایک تہائی) بطور نفل (انعام) دیتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٥ (٢٨٥١) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٥٩، ١٦٠) ، سنن الدارمی/السیر ٤٣ (٢٥٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی پہلے کل مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال لیتے پھر باقی میں سے ایک تہائی انعام میں دیتے اور دو تہائی بانٹ دیتے۔
حدیث نمبر: 2748 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَكْحُولٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُنَفِّلُ الثُّلُثَ، ‏‏‏‏‏‏بَعْدَ الْخُمُسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خمس انعام سے پہلے نکالا جائے گا
حبیب بن مسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خمس نکالنے کے بعد ربع (ایک چوتھائی) بطور نفل دیتے تھے (ابتداء جہاد میں) اور جب جہاد سے لوٹ آتے (اور پھر ان میں سے کوئی گروہ کفار سے لڑتا) تو خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی بطور نفل دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٢٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2749 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَكْحُولٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جَارِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبْعَ، ‏‏‏‏‏‏بَعْدَ الْخُمُسِ، ‏‏‏‏‏‏وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خمس انعام سے پہلے نکالا جائے گا
مکحول کہتے ہیں میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کردیا، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کرلیا، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کرلیا، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کرلیا، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا، میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ کہا : ہاں ! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری (رض) کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا آپ ﷺ نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد (پھر حملہ کرنے پر) ١ ؎ ایک تہائی بطور نفل دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٢٧٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس لئے کہ لوٹ آنے کے بعد پھر لڑنے کے لئے جانا سخت اور دشوار عمل ہے کیونکہ دشمن چوکنا اور محتاط ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2750 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ المعنى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَكْحُولًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْتَقَتْنِي فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِجَازَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُ الْعِرَاقَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفَلِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ هَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفَلِ شَيْئًا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس دستہ کا بیان جو لشکر میں آکر مل جائے
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کے خون برابر ہیں ١ ؎ ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہوگی، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے (گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ٢ ؎ جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ (غنیمت کے مال میں) اس کے برابر ہوگا جس کی سواریاں کمزور ہیں، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو ۔ ابن اسحاق نے القود ٣ ؎ اور التکافؤ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وأعاد بعض المؤلف فی الدیات (٤٥٣١) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٨٦، ٨٨١٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٣١ (٢٦٨٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی شریف اور رذیل کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ ٢ ؎ : یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہوں گے ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور سب مل کر غیروں کا مقابلہ کریں گے۔ ٣ ؎ : اس سے مراد لا يقتل مؤمن بکافر کا جملہ ہے۔
حدیث نمبر: 2751 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ إِسْحَاق هُوَ مُحَمَّدٌ بِبَعْضِ هَذَا. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ إِسْحَاق الْقَوَدَ وَالتَّكَافُؤَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس دستہ کا بیان جو لشکر میں آکر مل جائے
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا، اور تین بار پکار کر کہا يا صباحاه (اے صبح کا حملہ) ١ ؎، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کردیا، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آپہنچا، اور اس نے کہا : تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف (یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ) کی طرف جائیں (اور اسے قتل کردیں) چناچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا : تم مجھے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں اکوع کا بیٹا ہوں، قسم اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو بزرگی عنایت کی، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی (رض) تھے، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا، اخرم (رض) نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور عبدالرحمٰن نے اخرم (رض) کو مار ڈالا، پھر عبدالرحمٰن اخرم (رض) کے گھوڑے پر سوار ہوگیا، اس کے بعد ابوقتادہ (رض) نے عبدالرحمٰن کو جا لیا، دونوں میں بھالا چلنے لگا، تو اس نے ابوقتادہ (رض) کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور ابوقتادہ (رض) نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہوگئے، اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٥٢٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجھاد ٤٥ (١٨٠٦) ، مسند احمد (٤/٤٨) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” يا صباحاه “: یہ وہ کلمہ ہے جسے عام طور سے فریادی کہا کرتے تھے۔ ٢ ؎ : تو تین حصے دیئے یا چار، انہوں نے کام ہی ایسا کیا تھا کہ جو بہت سے آدمیوں سے نہ ہوتا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ” سواروں میں آج سب سے بہتر ابوقتادہ (رض) ہیں، اور پیادوں میں سب سے بہتر سلمہ بن الاکوع ہیں “ ، پھر سلمہ بن الاکوع (رض) نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے عضباء نامی اونٹی پر بیٹھا لیا، اور مدینے تک اسی طرح آئے۔ آپ ﷺ نے سلمہ بن الاکوع (رض) کو ایک سوار کا حصہ دیا، اور ایک پیدل کا، اس میں دو احتمال ہے : ایک یہ کہ چار حصے دیئے، دوسرے یہ کہ تین حصے دئیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سوار کے حصہ میں اختلاف ہے، جن لوگوں کے نزدیک سوار کے تین حصے ہیں، ایک حصہ خود اس کا، دو حصہ اس کے گھوڑے کا، اور جن کے نزدیک سوار کے دو حصے ہیں، ایک حصہ اس کا، اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کا۔
حدیث نمبر: 2752 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَ رَاعِيَهَا فَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ:‏‏‏‏ يَا صَبَاحَاهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ، ‏‏‏‏‏‏جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ:‏‏‏‏ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سو نے چاندی میں سے نفل کا بیان اور غنیمت کے مال میں سے
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ١ ؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا : اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ٢ ؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دشمن سے جو مال جہاد میں حاصل ہوتا ہے اسے غنیمت کہتے ہیں، غنیمت میں چار حصے غازیوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں، اور ایک حصہ امام رکھ لیتا ہے، امام کو اختیار ہے کہ لشکر میں سے کسی خاص جماعت یا کسی خاص شخص کو کسی خاص کام کے سلسلے میں بطور انعام کچھ زیادہ دے دے، اسے نفل کہتے ہیں، یہ لشکر جو نجد کی طرف گیا تھا اس میں چار ہزار آدمی تھے، ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، لیکن پندرہ آدمیوں کی ایک ٹکڑی کو جن میں عبداللہ بن عمر (رض) تھے، ایک ایک اونٹ بطور نفل زیادہ دیا۔ ٢ ؎ : یہ غنیمت کا مال نہیں ہے جسے کافروں سے لڑ کر چھینا گیا ہو، بلکہ یہ فیٔ کا مال ہے جس میں خمس نہیں ہوتا لہٰذا اس میں نفل بھی نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 2753 حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ، ‏‏‏‏‏‏فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ لَأَعْطَيْتُكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سو نے چاندی میں سے نفل کا بیان اور غنیمت کے مال میں سے
اس سند سے بھی عاصم بن کلیب سے اسی طریق سے اور اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2754 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فئی میں سے اگر امام اپنے لئے کچھ رکھے تو کیا حکم ہے؟
عمرو بن عبسہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا، اور فرمایا : تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام غنیمت کے مال میں سے سوائے خمس کے کچھ نہیں لے گا، اور خمس بھی جو لے گا وہ تنہا اس کا نہیں ہوگا بلکہ وہ اسے مسلمانوں ہی میں اس تفصیل کے مطابق خرچ کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ واعلموا أنما غنمتم من شيئ فإن لله خمسه وللرسول ولذي القربى ولليتامى والمساکين میں بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2755 حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُعَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ.
tahqiq

তাহকীক: