কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)

كتاب السنن للإمام أبي داود

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩১২ টি

হাদীস নং: ২৭১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت چرانے والے کی پردہ پوشی نہیں کرنی چاہئے
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے انہوں نے حمد و صلاۃ کے بعد کہا : رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : جو شخص غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے تو وہ بھی اسی جیسا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٦٢٠) (ضعیف) (اس کے راوی خبیب مجہول، اور سلیمان لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 2716 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَاجَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ كَتَمَ غَالًّا فَإِنَّهُ مِثْلُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے اس کا اس اسی کو دیا جائے
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے سال نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آپڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آگئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب (رض) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا : وہی ہوا جو اللہ کا حکم تھا، پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا : جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ١ ؎۔ ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں : (جب میں نے یہ سنا) تو میں اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا، پھر آپ ﷺ نے دوسری بار فرمایا : جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۔ ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں (جب میں نے یہ سنا) تو اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی پھر میں اٹھ کھڑا ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوقتادہ کیا بات ہے ؟ میں نے آپ سے سارا معاملہ بیان کیا، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ سچ کہہ رہے ہیں اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے، آپ ان کو اس بات پر راضی کرلیجئے (کہ وہ مال مجھے دے دیں) اس پر ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کبھی بھی ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور سامان تمہیں مل جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ سچ کہہ رہے ہیں، تم اسے ابوقتادہ کو دے دو ۔ ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں : اس نے مجھے دے دیا، تو میں نے زرہ بیچ دی اور اس سے میں نے ایک باغ قبیلہ بنو سلمہ میں خریدا، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٧ (٢١٠٠) ، فرض الخمس ١٨ (٣١٤٢) ، المغازي ٥٤ (٤٣٢١، الأحکام ٢١ (٧١٧٠) ، صحیح مسلم/الجھاد ١٣ (١٥٧١) ، سنن الترمذی/السیر ١٣ (١٥٦٢) ، سنن ابن ماجہ/ الجہاد ٢٩ (٢٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٣٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجھاد ١٠ (١٨) ، مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٦) ، سنن الدارمی/السیر ٤٤ (٢٥٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جنگ حنین میں مسلمان تعداد میں زیادہ تھے، لیکن تعلي اور کثرت تعداد کے زعم کی وجہ سے انہیں شکست ہوئی، میدان جنگ سے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، رسول اکرم ﷺ اور چند جانثار صحابہ رہ گئے تھے، بھگدڑ سے یہی مراد ہے، بعد میں جنگ کا پانسہ پلٹا اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔
حدیث نمبر: 2717 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍمَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَامِ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ قَالَ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ:‏‏‏‏ فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ مَا بَالُ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمْرُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّانِيَةَ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ:‏‏‏‏ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ لَاهَا اللَّهِ إِذًا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ:‏‏‏‏ فَأَعْطَانِيهِ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے اس کا اس اسی کو دیا جائے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا : جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے ، چناچہ اس دن ابوطلحہ (رض) نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے، ابوطلحہ (رض) ام سلیم (رض) سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا : ام سلیم ! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی، تو اس کی خبر ابوطلحہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ کو دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجھاد ٤٧ (١٨٠٩) ، مسند احمد (٣/٢٧٩، ١٩٠) ، سنن الدارمی/السیر ٤٤ (٢٥٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2718 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا مَعَكِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَرَدْتُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُهُمْ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ أَرَدْنَا بِهَذَا الْخِنْجَرَ وَكَانَ سِلَاحَ الْعَجَمِ يَوْمَئِذٍ الْخِنْجَرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام چاہے تو مقتول کا سامان قاتل کو نہ دے نیز گھوڑا اور ہتھیار بھی سامان میں داخل ہیں
عوف بن مالک اشجعی (رض) کہتے ہیں کہ میں زید بن حارثہ (رض) کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی میرے ساتھ ہوگیا، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی، اس نے اسے دے دی، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا، اس پر ایک سنہری زین تھی، ہتھیار بھی سنہرا تھا، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے، وہ گرپڑا، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید (رض) نے مددی کے پاس کسی کو بھیجا اور سامان میں سے کچھ لے لیا۔ عوف (رض) کہتے ہیں : تو میں خالد (رض) کے پاس آیا اور میں نے کہا : خالد ! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے قاتل کے لیے سلب کا فیصلہ کیا ہے ؟ خالد (رض) نے کہا : کیوں نہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا، تو میں نے کہا : تم یہ سامان اس کو دے دو ، ورنہ میں رسول اللہ ﷺ سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا، لیکن خالد (رض) نے لوٹانے سے انکار کیا۔ عوف (رض) کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد (رض) کی سلوک بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خالد ! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا ؟ خالد نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے زیادہ جانا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خالد ! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو ۔ عوف (رض) کہتے ہیں میں نے کہا : خالد ! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ عوف (رض) کہتے ہیں : میں نے اسے آپ سے بتایا۔ عوف کہتے ہیں : تو رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے، اور فرمایا : خالد ! واپس نہ دو ، کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میرے امیروں کو چھوڑ دو کہ وہ جو اچھا کام کریں اس سے تم نفع اٹھاؤ اور بری بات ان پر ڈال دیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجھاد ١٣ (١٧٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٠٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٦، ٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2719 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ فَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرْقِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذْهَبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسِلَاحٌ مُذْهَبٌ فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يُغْرِي بِالْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ فَخَرَّ وَعَلَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَهُ وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلَاحَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَوْفٌ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَتَرُدَّنَّهُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لَأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَوْفٌ:‏‏‏‏ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا خَالِدُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَكْثَرْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا خَالِدُ رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَوْفٌ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ دُونَكَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ:‏‏‏‏ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا خَالِدُ لَا تَرُدَّ عَلَيْهِ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ ؟.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام چاہے تو مقتول کا سامان قاتل کو نہ دے نیز گھوڑا اور ہتھیار بھی سامان میں داخل ہیں
اس سند سے بھی عوف بن مالک اشجعی (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٠٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2720 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ ثَوْرًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کا تمام سامان قاتل کو ملے گا اور اس سے خمس نہ لیا جائے گا
عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا، اور سلب سے خمس نہیں نکالا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٩٠، ٦/٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 2721 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ وَلَمْ يُخَمِّسْ السَّلَبَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص زخمی کافر کو قتل کرے گا اس کو بھی بطور انعام اس کے اس میں سے کچھ ملے گا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٦٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٤٤) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ عبداللہ بن مسعود (رض) ہی نے ابوجہل کے سر کو اس کے جسم سے (جب اس میں جان باقی تھی) جدا کیا تھا اسی لئے اس کی تلوار آپ نے انہی کو دی، ورنہ اس کے قاتل اصلاً معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء (رض) ہیں۔
حدیث نمبر: 2722 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ كَانَ قَتَلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا
ابوہریرہ (رض) سعید بن عاص (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابان بن سعید بن عاص (رض) کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید (رض) اور ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کرچکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے، ابوہریرہ (رض) کہتے : ہیں اس پر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا : تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر ! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابان تم بیٹھ جاؤ ، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٢٨ (٢٨٢٧) ، والمغازي ٣٨ (٤٢٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2723 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّعَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ فَقَالَ أَبَانُ:‏‏‏‏ اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَانُ:‏‏‏‏ أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اجْلِسْ يَا أَبَانُ وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ ﷺ خیبر میں تھے، میں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ١ ؎ تو سعید بن عاص (رض) کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا : اللہ کے رسول ! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا : ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص (رض) نے کہا : تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کردیئے گئے اور باقی واپس آئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے پہلی والی حدیث میں ہے کہ ابان (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ ان کے لئے حصہ لگائیں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے اپنے لئے حصہ لگانے کی درخواست کی تھی دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض ہے صحیح یہ ہے کہ دونوں ہی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے لئے حصہ لگانے کی درخواست کی تھی، اور اپنے اپنے نظریہ کے مطابق دوسرے کو نہ دینے کا مشورہ دیا تھا، ابان (رض) کو اس لئے کہ ابن قوقل (رض) کو قتل کردیا تھا، اور ابوہریرہ (رض) کو اس لئے کہ ابھی مسلمان ہوئے تھے۔ ٢ ؎ : انہوں نے ابن قوقل (رض) کو اس وقت قتل کیا تھا جب وہ کافر تھے، ابن قوقل کو اس قتل کی وجہ سے شہادت کی عزت ملی، اس وقت ابن قوقل (رض) نے اگر ابان بن سعید کو قتل کردیا ہوتا تو وہ جہنم میں ڈالے جاتے اور ذلیل ہوتے، لیکن اللہ نے ایمان کی دولت دے کر انہیں اس ذلت سے بچا دیا۔
حدیث نمبر: 2724 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلَهُ إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ الْقُرَشِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَهَا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُسْهِمَ لِي فَتَكَلَّمَ بَعْضُ وُلْدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ:‏‏‏‏ يَا عَجَبًا لِوَبْرٍ قَدْ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَالٍ يُعَيِّرُنِي بِقَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى يَدَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ كَانُوا نَحْوَ عَشَرَةٍ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجَعَ مَنْ بَقِيَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ ہم (حبشہ سے) آئے اور رسول اللہ ﷺ سے فتح خیبر کے موقع پر ملے، آپ ﷺ نے (مال غنیمت سے) ہمارے لیے حصہ لگایا، یا ہمیں اس میں سے دیا، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر (رض) اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٦) ، والمناقب ٣٧ (٣٨٧٦) ، والمغازي ٣٨ (٤٢٣٠) ، سنن الترمذی/السیر ١٠ (١٥٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٤٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤١ (٢٥٠٢) ، مسند احمد (٤/٣٩٤، ٤٠٥، ٤١٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابوموسی اشعری (رض) اور ان کے ساتھیوں کو مال غنیمت میں سے آپ نے جو حصہ دیا اس کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں : (١) یہ حصہ آپ نے خمس سے دیا تھا، (٢) یہ لوگ تقسیم سے پہلے پہنچے تھے اس لئے انہیں منجملہ مال غنیمت سے دیا گیا، (٣) لشکر کی رضامندی سے ایسا کیا گیا (واللہ اعلم ) ۔
حدیث نمبر: 2725 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا، ‏‏‏‏‏‏جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ فَأَسْهَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا : بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ١ ؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٦٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عثمان (رض) بدر میں شریک نہیں ہو سکے، کیونکہ آپ کی اہلیہ رقیہ (رض) جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ہیں ان ایام میں سخت بیمار تھیں اسی وجہ سے ان کی دیکھ ریکھ کے لئے انہیں رکنا پڑگیا تھا۔
حدیث نمبر: 2726 حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْحَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أُبَايِعُ لَهُفَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور غلام کو غنیمت کو مال میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے یا نہیں؟
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ ١ ؎ نے ابن عباس (رض) کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ (اگر جہاد میں جائے) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا ؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں ؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا ؟ تو ابن عباس (رض) نے کہا : اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا (پھر انہوں نے اسے لکھا :) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا، (اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجھاد ٤٨ (١٨١٢) ، سنن الترمذی/السیر ٨ (١٥٥٦) ، سنن النسائی/الفیٔ (٤١٣٨) ، مسند احمد (١/٢٤٨، ٢٩٤، ٣٠٨، ٣٢٠، ٣٤٤، ٣٤٩، ٣٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : نجدہ حروری جو خوارج کا سردار تھا۔
حدیث نمبر: 2727 حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنِ الْمَمْلُوكِ أَلَهُ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَلْ لَهُنَّ نَصِيبٌ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا الْمَمْلُوكُ فَكَانَ يُحْذَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور غلام کو غنیمت کو مال میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے یا نہیں؟
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ابن عباس (رض) کو لکھا، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں ؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے ؟ عبداللہ بن عباس (رض) کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2728 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّهْرِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَشْهَدْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ قَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَنْ يُضْرَبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَا وَقَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُنَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور غلام کو غنیمت کو مال میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے یا نہیں؟
حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں، جب رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا، آپ ﷺ نے پوچھا : تم کس کے ساتھ نکلیں ؟ اور کس کے حکم سے نکلیں ؟ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے، اور ستو گھول کر پلائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا چلو یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ ﷺ نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا، حشرج بن زیاد کہتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا : دادی ! وہ حصہ کیا تھا ؟ تو وہ کہنے لگیں : کچھ کھجوریں تھیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٨٣١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٧١، ٣٧١) (ضعیف) (اس کے رواة رافع اور حشرج دونوں مجہول ہیں، اور بعض ائمہ کے نزدیک رافع لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یہ ضعیف روایت ہے اس سے استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ صحیح روایت کے مطابق جہاد میں شریک ہونے والی عورتوں کا مال غنیمت میں کوئی متعین حصہ نہیں ہے البتہ انہیں ایسے ہی کچھ دے دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2729 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ ؟ فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَنَا دَوَاءُ الْجَرْحَى وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ وَنَسْقِي السَّوِيقَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُمْنَ. حتَّى إِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ يَا جَدَّةُ وَمَا كَانَ ذَلِكَ قَالَتْ:‏‏‏‏ تَمْرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور غلام کو غنیمت کو مال میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے یا نہیں؟
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے (ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا) حکم دیا، چناچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے (اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں (آبی اللحم) نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/السیر ٩ (١٥٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٧ (٢٨٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٢٣) ، سنن الدارمی/ السیر ٣٥ (٢٥١٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2730 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:‏‏‏‏ كَانَ حَرَّمَ اللَّحْمَ عَلَى نَفْسِهِ فَسُمِّيَ آبِي اللَّحْمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور غلام کو غنیمت کو مال میں سے کچھ حصہ ملنا چاہیے یا نہیں؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں بدر کے دن (پانی کم ہونے کی وجہ سے) صحابہ کے لیے چلو سے پانی کا ڈول بھر رہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٣٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2731 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَمِيحُ أَصْحَابِي الْمَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ ہو کر لڑے تو کیا اس کو مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجھاد ٥١ (١٨١٧) ، سنن الترمذی/السیر ١٠ (١٥٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٧ (٢٨٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٧، ١٤٨) ، سنن الدارمی/السیر ٥٤ (٢٥٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2732 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْفُضَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَحْيَى إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے حصہ کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا : ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٦ (٢٨٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٨١١١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجھاد ٥١ (٢٨٦٣) ، المغازي ٣٨ (٤٢٢٨) ، صحیح مسلم/الجھاد ١٧ (١٧٦٢) ، سنن الترمذی/السیر ٦ (١٥٥٤) ، مسند احمد (٢/٢، ٦٢، ٧٢، ٨٠، ١٤٣، ١٥٢) ، سنن الدارمی/السیر ٣٣ (٢٥١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2733 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِرَجُلٍ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے حصہ کا بیان
ابو عمرہ کے والد عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم چار آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا، تو آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دیا، اور گھوڑے کو دو حصے دئیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (٤/١٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2734 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے حصہ کا بیان
اس سند سے بھی ابو عمرہ سے اسی حدیث کے ہم معنی مروی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ ہم تین آدمی تھے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سوار کو تین حصے ملے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٧٢) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
حدیث نمبر: 2735 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَمْرَةَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ زَادَ فَكَانَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ.
tahqiq

তাহকীক: