কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ২৩৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ ( پیر ) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے ( اور اتوار کو روزہ رکھا ہے ) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ كَانَ بِمِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ فَصَامَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَشَهِدَ رَجُلَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْأَحَدِ، فَقَالَ: لَا يَقْضِي ذَلِكَ الْيَوْمَ الرَّجُلُ وَلَا أَهْلُ مِصْرِهِ، إِلَّا أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ أَهْلَ مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَامُوا يَوْمَ الْأَحَدِ، فَيَقْضُونَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم الشک کو روزہ رکھنا مکروہ ہے
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار (رض) کے پاس تھے، ان کے پاس ایک (بھنی ہوئی) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی (کھانے سے احتراز کرتے ہوئے) الگ ہٹ گیا اس پر عمار (رض) نے کہا : جس نے ایسے (شک والے) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١١(١٩٠٦ تعلیقاً ) ، سنن الترمذی/الصوم ٣ (٦٨٦) ، سنن النسائی/الصیام ٢٠ (٢١٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣ (١٦٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٥٤) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصوم ١(١٧٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2334 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأَتَى بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١٤(١٩١٤) ، صحیح مسلم/الصیام ٣ (١٠٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٢٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصوم ٢ (٦٨٥) ، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢١٧١) ، ٣٨ (٢١٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥ (١٦٥٠) ، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٣٤٧، ٤٠٨، ٤٣٨، ٤٧٧، ٤٩٧، ٥١٣، ٥٢١) ، سنن الدارمی/الصوم ٤ (١٧٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2335 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُقَدِّمُوا صَوْمَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَوْمٌ يَصُومُهُ رَجُلٌ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الصَّوْمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دے
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٣٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصوم ٣٧ (٧٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤ (١٦٤٨) ، مسند احمد (٦/٣٠٠، ٣١١) ، سنن الدارمی/الصوم ٣٣ (١٧٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اور یہ صرف نبی اکرم ﷺ کے لئے خاص تھا، کیونکہ آپ ﷺ نے امت کو نصف شعبان کے بعد روزے سے منع فرمایا ہے، تاکہ رمضان کے لئے قوت حاصل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 2336 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخر شعبان میں روزہ رکھنے کی کراہت
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے : اے اللہ ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نصف شعبان ہوجائے تو روزے نہ رکھو ، علاء نے کہا : اے اللہ ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ (رض) کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا : عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن ابن مہدی) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا : ایسا کیوں ہے ؟ وہ بولے : کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ شعبان کو (روزہ رکھ کر) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ١ ؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٣٨ (٧٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥ (١٦٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٥١) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصوم ٣٤ (١٧٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس لئے کہ وہ بات آپ ﷺ کے لئے خاص تھی ، اور یہ بات عام امت کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 2337 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَدِينَةَ، فَمَالَ إِلَى مَجْلِسِ الْعَلَاءِفَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ، فَلَا تَصُومُوا، فَقَالَ الْعَلَاءُ: اللَّهُمَّ إِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَ شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَ أَبُو عُمَيْسٍ، وَ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا يُحَدِّثُ بِهِ. قُلْتُ لِأَحْمَدَ: لِمَ ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ، وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي خِلَافُهُ، وَلَمْ يَجِئْ بِهِ غَيْرُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوال کا چاند دیکھنے کی دو آدمیوں کی شہادت
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے (جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے ؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے : وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا : تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے ؟ کہنے لگے : یہ عبداللہ بن عمر (رض) ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے (ابن عمر (رض) نے) کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٢٧٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2338 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ مِنْ جَدِيلَةَ قَيْسٍ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَ، ثُمّ قَالَ: عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ، نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا، فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ: مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدُ، فَقَالَ: هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ثُمَّ قَالَ الْأَمِيرُ: إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مِنِّي، وَشَهِدَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ، قَالَ الْحُسَيْنُ: فَقُلْتُ لِشَيْخٍ إِلَى جَنْبِي: مَنْ هَذَا الَّذِي أَوْمَأَ إِلَيْهِ الْأَمِيرُ ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ كَانَ أَعْلَمَ بِاللَّهِ مِنْهُ، فَقَالَ: بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوال کا چاند دیکھنے کی دو آدمیوں کی شہادت
نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں (چاند کی رویت پر) اختلاف ہوگیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٤، ٥/٣٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2339 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ لَأَهَلَّا الْهِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا. زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ: وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر رمضان کے چاند پر ایک ہی گواہ مرتب ہو تب بھی روزہ رکھیں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا : میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ ﷺ نے اس اعرابی سے پوچھا : کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟ اس نے جواب دیا : ہاں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا : کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے جواب دیا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٧ (٦٩١) ، سنن النسائی/الصوم ٦ (٢١١٥) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٤، ١٩١١٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے ، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے عن عکرمہ عن النبی ﷺ … مرسلاً روایت کیا ہے )
حدیث نمبر: 2340 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر رمضان کے چاند پر ایک ہی گواہ مرتب ہو تب بھی روزہ رکھیں
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند (کی روئیت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آگیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا : کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چناچہ آپ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کردیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٤، ١٩١١٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 2341 حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ الْحَرَّةِ، فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلًا. وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر رمضان کے چاند پر ایک ہی گواہ مرتب ہو تب بھی روزہ رکھیں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چناچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٥٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2342 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمْرَقَنْدِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی تاکید
عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٩ (١٠٩٦) ، سنن الترمذی/الصوم ١٧ (٧٠٩) ، سنن النسائی/الصیام ٢٧ (٢١٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٩٧، ٢٠٢) ، سنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2343 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کو دوپہر کا کھانا بھی کہا گیا ہے
عرباض بن ساریہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا : بابرکت غداء پر آؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ١٣ (٢١٦٥) ،(تحفة الأشراف : ٩٨٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٦، ١٢٧) (حسن لغیرہ) (ابو رہم مجہول ہیں، حدیث کے شواہد سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : الصحيحة للألباني : 3408، وتراجع الألباني : 192 )
حدیث نمبر: 2344 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْالْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کو دوپہر کا کھانا بھی کہا گیا ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2345 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کا وقت
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب (رض) خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٨ (١٠٩٤) ، سنن الترمذی/الصوم ١٥ (٧٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٢٤) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الصیام ١٨ (٢١٧٣) ، مسند احمد (٥/٧، ٩، ١٣، ١٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2346 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْنَعَنَّ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضُ الْأُفْقِ الَّذِي هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کا وقت
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں : راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہوجائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٣ (٦٢١) ، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٨) ، أخبارالآحاد ١ (٧٢٤٧) ، صحیح مسلم/الصوم ٨ (١٠٩٣) ، سنن النسائی/الأذان ١١ (٦٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٦) (تحفة الأشراف : ٩٣٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٦، ٣٩٢، ٤٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2347 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ التَّيْمِيِّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ: يُنَادِي، لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا. قَالَ مُسَدَّدٌ: وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا، وَمَدَّ يَحْيَى بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کا وقت
طلق (رض) سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہوجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ١٥ (٧٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٣) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2348 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْيَمَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کا وقت
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ حتى يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے (سورۃ البقرہ : ١٨٧) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے : اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١٦(١٩١٦) ، و تفسیر البقرة ٢٨ (٤٥٠٩) ، صحیح مسلم/الصیام ٨ (١٠٩٠) ، سنن الترمذی/تفسیر البقرة ١٧ (٢٩٧٠ م) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٧٧) ، سنن الدارمی/الصوم ٧ (١٧٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 2349 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ الْمَعْنَى، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: أَخَذْتُ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ: إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ. وقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب صبح کی اذان ہو اور کھانے پینے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٠٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٢٣، ٥١٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2350 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ، فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ افطار کرنے کا وقت
عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب ادھر سے رات آجائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤٣(١٩٥٤) ، صحیح مسلم/الصیام ١٠ (١١٠٠) ، سنن الترمذی/الصوم ١٢ (٦٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٨، ٣٥، ٤٨) ، سنن الدارمی/الصوم ١١ (١٧٤٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2351 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ افطار کرنے کا وقت
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : بلال ! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر اور شام ہوجانے دیں تو بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال (رض) نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! ابھی تو دن ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، چناچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا : جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آگئی تو روزے کے افطار کا وقت ہوگیا ، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤١) ، ٤٣ (١٩٥٥) ، ٤٥ (١٩٥٨) ، والطلاق ٢٢ (٥٢٩٧) ، صحیح مسلم/الصیام ١١(١١٠١) ، (تحفة الأشراف : ٥١٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٨٠، ٣٨٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2352 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: يَا بِلَالُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ ؟ قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
তাহকীক: