কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
کتاب الزکوٰة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৮ টি
হাদীস নং: ১৫৭৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
معاذ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس (٣٠) پر ایک سالہ بیل یا گائے لیں، اور چالیس (٤٠) پر دو سالہ گائے، اور ہر بالغ مرد سے (جو کافر ہو) ایک دینار یا ایک دینار کے بدلے اسی قیمت کے کپڑے جو یمن کے معافر نامی مقام میں تیار کئے جاتے ہیں (بطور جزیہ) لیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٨ (٢٤٥٥) ، ( تحفة الأشراف : ١١٣١٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الزکاة ١٢(٢٤) ، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٣، ٢٤٧) ، سنن الدارمی/الزکاة ٥ (١٦٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1576 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمًا دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
اس سند سے بھی معاذ (رض) سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الزکاة ٥ (٦٢٣) ، سنن النسائی/الزکاة ٨ (٢٤٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٢ (١٨٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ١١٣٦٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الزکاة ١٢ (٢٤) ، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٣، ٢٤٧) ، دی/الزکاة (١٦٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1577 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالنُّفَيْلِيُّ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن بھیجا، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا، لیکن اس میں یہ کپڑے یمن میں بنتے تھے کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ راوی کی تشریح یعنی محتلمًا کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے جریر، یعلیٰ ، معمر، شعبہ، ابو عوانہ اور یحییٰ بن سعید نے اعمش سے، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ہے، یعلیٰ اور معمر نے اسی کے مثل اسے معاذ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٥٧٨) ، ( تحفة الأشراف : ١١٣٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1578 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، لَمْ يَذْكُرْ ثِيَابًا تَكُونُ بِالْيَمَنِ، وَلَا ذَكَرَ يَعْنِي مُحْتَلِمًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ جَرِيرٌ،وَيَعْلَى، وَمَعْمَرٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ يَعْلَى، وَمَعْمَرٌ: عَنْ مُعَاذٍ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
سوید بن غفلہ (رض) کہتے ہیں کہ میں خود گیا، یا یوں کہتے ہیں : جو رسول اللہ ﷺ کے محصل کے ساتھ گیا تھا اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کی کتاب میں لکھا تھا : ہم زکاۃ میں دودھ والی بکری یا دودھ پیتا بچہ نہ لیں، نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے ، رسول اللہ ﷺ کا مصدق اس وقت آتا جب بکریاں پانی پر جاتیں اور وہ کہتا : اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو، ایک شخص نے اپنا کو بڑے کوہان والا اونٹ کو دینا چاہا تو مصدق نے اسے لینے سے انکار کردیا، اس شخص نے کہا : نہیں، میری خوشی یہی ہے کہ تو میرا بہتر سے بہتر اونٹ لے، مصدق نے پھر لینے سے انکار کردیا، اب اس نے تھوڑے کم درجے کا اونٹ کھینچا، مصدق نے اس کے لینے سے بھی انکار کردیا، اس نے اور کم درجے کا اونٹ کھینچا تو مصدق نے اسے لے لیا اور کہا : میں لے لیتا ہوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ مجھ پر غصہ نہ ہوں اور آپ مجھ سے کہیں : تو نے ایک شخص کا بہترین اونٹ لے لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر اس میں لا تفرق کی بجائے لا يفرق ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ١٢ (٢٤٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١١ (١٨٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٥) ، سنن الدارمی/الزکاة ٨ (١٦٧٠) (حسن )
حدیث نمبر: 1579 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: سِرْتُ، أَوْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: لَا تَأْخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ، وَلَا تَجْمَعَ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا تُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَكَانَ إِنَّمَا يَأْتِي الْمِيَاهُ حِينَ تَرِدُ الْغَنَمُ، فَيَقُولُ: أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ، قَالَ: فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى نَاقَةٍ كَوْمَاءَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا صَالِحٍ، مَا الْكَوْمَاءُ ؟ قَالَ: عَظِيمَةُ السَّنَامِ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَيْرَ إِبِلِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، قَالَ: فَخَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، ثُمَّ خَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَقَبِلَهَا، وَقَالَ: إِنِّي آخِذُهَا وَأَخَافُ أَنْ يَجِدَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِي: عَمَدْتَ إِلَى رَجُلٍ فَتَخَيَّرْتَ عَلَيْهِ إِبِلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا يُفَرَّقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
سوید بن غفلہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھا : زکاۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے ، اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ١٥٥٩٣) (حسن )
حدیث نمبر: 1580 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِوَلَمْ يَذْكُرْ رَاضِعَ لَبَنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ N/A
ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھا: زکاۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے ، اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ رَاضِعَ لَبَنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
مسلم بن ثفنہ یشکری ١ ؎ کہتے ہیں نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا، میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، چناچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا، جس کا نام سعر بن دیسم تھا، میں نے کہا : مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہ بولے : بھتیجے ! تم کس قسم کے جانور لو گے ؟ میں نے کہا : ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے، انہوں نے کہا : بھتیجے ! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں : میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں رہا کرتا تھا، ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے : ہم رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے ہیں، تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو، میں نے کہا : مجھے کیا دینا ہوگا ؟ انہوں نے کہا : ایک بکری، میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا، جس کی جگہ مجھے معلوم تھی، وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا، انہوں نے کہا : یہ بکری پیٹ والی (حاملہ) ہے، ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے، پھر میں نے کہا : تم کیا لو گے ؟ انہوں نے کہا : ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہوگئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہوگئی ہو، میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا، اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا : اسے ہم نے لے لیا، پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کرلیے چلے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے، انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ١٥ (٢٤٦٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٥٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١٤، ٤١٥) (ضعیف) (اس کے راوی مسلم لین الحدیث ہیں، نیز اس میں مذکور معمر شخص مبہم ہے ) وضاحت : ١ ؎ : روح نے مسلم بن ثفنہ کے بجائے مسلم بن شعبہ کہا ہے۔ اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ شافع وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ١٥٨٢/م۔
حدیث نمبر: 1581 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: رَوْحٌ يَقُولُ: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ نَافِعُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ، قَالَ: فَبَعَثَنِي أَبِي فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ، فَأَتَيْتُ شَيْخًا كَبِيرًا يُقَالُ لَهُ: سِعْرُ بْنُ دَيْسَمٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ، يَعْنِي لِأُصَدِّقَكَ، قَالَ ابْنَ أَخِي: وَأَيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ، قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا نَتَبَيَّنَ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ ابْنَ أَخِي: فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي، فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ، فَقَالَا لِي: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ، فَقُلْتُ: مَا عَلَيَّ فِيهَا، فَقَالَا: شَاةٌ، فَأَعْمَدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةٍ مَحْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَاةُ الشَّافِعِ، وَقَدْنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، قُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ ؟، قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ: فَأَعْمَدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا، فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا، ثُمَّ انْطَلَقَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ أَيْضًا: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، كَمَا قَالَ: رَوْحٌ. حدیث نمبر: 1582 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ فِيهِ: وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا : جو صرف اللہ کی عبادت کرے، لا إله إلا الله کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٩٦٤٥) (صحیح )
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ N/A
اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ فِيهِ: وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی، میں نے اس سے کہا : ایک بنت مخاض دو ، یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولا : بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ (اس پر) سواری کی جاسکے، یہ لو ایک اونٹنی جوان، بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا : میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں، البتہ رسول اللہ ﷺ تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے، اب اگر آپ ﷺ قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کردیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا : ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی، لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو اس نے آپ ﷺ سے کہا : اللہ کے نبی ! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا، قسم اللہ کی ! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ ﷺ نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا : تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کردیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، اللہ کے رسول ! اسے لے لیجئے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کرلیں گے ، وہ شخص بولا : اے اللہ کے رسول ! اسے لے لیجئے، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود ( تحفة الأشراف : ٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٢) (حسن )
حدیث نمبر: 1583 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمَّا جَمَعَ لِي مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهِ إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ، فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ، فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ، وَهَهِيَ ذِهْ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ آجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَقَالَ: فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ (رض) کو یمن بھیجا اور فرمایا : تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ١ (١٣٩٥) ، ٤١ (١٤٥٨) ، ٦٣ (١٤٩٦) ، المظالم ٩ (٢٤٤٨) ، المغازي ٦٠ (٤٣٤٧) ، التوحید ١ (٧٣٧٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧ (١٩) ، سنن الترمذی/الزکاة ٦ (٦٢٥) ، والبر والصلة ٦٨ (٢٠١٤) ، سنن النسائی/الزکاة ١ (٢٤٣٧) ، ٤٦ (٢٥٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١ (١٧٨٣) ، ( تحفة الأشراف : ٦٥١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٣) ، سنن الدارمی/الزکاة ١ (١٦٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1584 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ١٩ (٦٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٤ (١٨٠٨) ، ( تحفة الأشراف : ٨٤٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جیسے گناہ زکاۃ نہ ادا کرنے میں ہے، ویسے ہی گناہ جبراً زکاۃ والے سے زیادہ لینے میں بھی ہے۔
حدیث نمبر: 1585 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مصدق کو راضی کرنے کا بیان
بشیر بن خصاصیہ (رض) سے روایت ہے (ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں : ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا) وہ کہتے ہیں : ہم نے عرض کیا : زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپالیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٠٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٨٤) (ضعیف) (اس کے راوی دیسم لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1586 حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: دَيْسَم، وَقَالَابْنُ عُبَيْدٍ، مِنْ بَنِي سَدُوسٍ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ: وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ بَشِيرًا، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، أَفَنَكْتُمُ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مصدق کو راضی کرنے کا بیان
اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٢٢) (ضعیف ) وضاحت : W
حدیث نمبر: 1587 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مصدق کو راضی کرنے کا بیان
جابر بن عتیک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں، اسے لینے دو ، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہوگا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہوگا، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہوگی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣١٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی صخر لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1588 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الْغُصْنِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَأْتِيكُمْ رُكَيْبٌ مُبْغَضُونَ، فَإِنْ جَاءُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مصدق کو راضی کرنے کا بیان
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، انہوں نے پوچھا : اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے فرمایا : تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں : جریر (رض) کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٥٥ (٩٨٩) ، سنن النسائی/الزکاة ١٤ (٢٤٦٢) ، ( تحفة الأشراف : ٣٢١٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الزکاة ٢٠ (٦٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١١ (١٨٠٢) ، مسند احمد (٤/٣٦٢) ، سنن الدارمی/الزکاة ٣٢ (١٧١٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1589 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ، يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا، قَالَ: فَقَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ ظَلَمُونَا ؟ قَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ. زَادَ عُثْمَانُ: وَإِنْ ظُلِمْتُمْ. قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ زکوة وصول کرنے والا زکوة دینے والے کے حق میں دعائے خیر کرے
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد (ابواوفی) اصحاب شجرہ ١ ؎ میں سے تھے، جب نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے : اے اللہ ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما، میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٦٤ (١٤٩٧) ، المغازي ٣٥ (٤١٦٦) ، الدعوات ١٩ (٦٣٣٢) ، ٣٣ (٦٣٥٩) ، صحیح مسلم/الزکاة ٥٤(١٠٧٨) ، سنن النسائی/الزکاة ١٣ (٢٤٦١) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٨ (١٧٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٥١٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٥، ٣٨١، ٣٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان لوگوں میں سے تھے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ٢ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ جو خود سے اپنی زکاۃ ادا کرنے آئے عامل کو اس کو دعا دینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 1590 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍقَالَ: فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کی عمروں کا بیان
ابوداؤد کہتے ہیں میں نے اونٹوں کی عمروں کی یہ تفصیل ریاشی اور ابوحاتم وغیرہ وغیرہ سے سنا ہے، اور نضر بن مشمیل اور ابوعبید کی کتاب سے حاصل کی ہے، اور بعض باتیں ان میں سے کسی ایک ہی نے ذکر کی ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے : اونٹ کا بچہ (جب پیدا ہو) حواء ر کہلاتا ہے۔ جب دودھ چھوڑے تو اسے فصیل کہتے ہیں۔ جب ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں لگ جائے تو دوسرے سال کے پورا ہونے تک اسے بنت مخاض کہتے ہیں۔ جب تیسرے میں داخل ہوجائے تو اسے بنت لبون کہتے ہیں۔ جب تین سال پورے کرے تو چار برس پورے ہونے تک اسے حِق یا حقہ کہتے ہیں کیونکہ وہ سواری اور جفتی کے لائق ہوجاتی ہے، اور اونٹنی (مادہ) اس عمر میں حاملہ ہوجاتی ہے، لیکن نر جوان نہیں ہوتا، جب تک دگنی عمر (چھ برس) کا نہ ہوجائے، حقہ کو طروق ۃ الفحل بھی کہتے ہیں، اس لیے کہ نر اس پر سوار ہوتا ہے۔ جب پانچواں برس لگے تو پانچ برس پورے ہونے تک جذعہ کہلاتا ہے۔ جب چھٹا برس لگے اور وہ سامنے کے دانت گراوے تو چھ برس پورے ہونے تک وہ ثنی ہے۔ جب ساتواں برس لگے تو سات برس پورے ہونے تک نر کو رباعی اور مادہ کو رباعیہ کہتے ہیں۔ جب آٹھواں برس لگے اور چھٹا دانت گرا دے تو آٹھ برس پورے ہونے تک اسے سدیس یا سدس کہتے ہیں۔ جب وہ نویں برس میں لگ جائے تو اسے دسواں برس شروع ہونے تک بازل کہتے ہیں، اس لیے کہ اس کی کچلیاں نکل آتی ہیں، کہا جاتا ہے بزل نابه یعنی اس کے دانت نکل آئے۔ اور دسواں برس لگ جائے تو وہ مخلف ہے، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں، البتہ یوں کہتے ہیں : ایک سال کا بازل ، دو سال کا بازل ، ایک سال کا مخلف ، دو سال کا مخلف اور تین سال کا مخلف ، یہ سلسلہ پانچ سال تک چلتا ہے۔ خلفہ حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ ابوحاتم نے کہا : جذوعہ ایک مدت کا نام ہے کسی خاص دانت کا نام نہیں، دانتوں کی فصل سہیل تارے کے نکلنے پر بدلتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم کو ریاشی نے شعر سنائے (جن کے معنی ہیں) : جب رات کے اخیر میں سہیل (ستارہ) نکلا تو ابن لبون حِق ہوگیا اور حِق جذع ہوگیا کوئی دانت نہ رہا سوائے ہبع کے۔ ہبع : وہ بچہ ہے جو سہیل کے طلوع کے وقت میں پیدا نہ ہو، بلکہ کسی اور وقت میں پیدا ہو، اس کی عمر کا حساب سہیل سے نہیں ہوتا۔ تخریج دارالدعوہ : .
قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُهُ مِنْ الرِّيَاشِيِّ، وَأَبِي حَاتِمٍ، وَغَيْرِهِمَا، وَمِنْ كِتَابِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، وَمِنْ كِتَابِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَحَدُهُمُ الْكَلِمَةَ، قَالُوا: يُسَمَّى الْحُوَارُ، ثُمَّ الْفَصِيلُ إِذَا فَصَلَ، ثُمَّ تَكُونُ بِنْتُ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ إِلَى تَمَامِ سَنَتَيْنِ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي الثَّالِثَةِ فَهِيَ ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِذَا تَمَّتْ لَهُ ثَلَاثُ سِنِينَ فَهُوَ حِقٌّ، وَحِقَّةٌ إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ لِأَنَّهَا اسْتَحَقَّتْ أَنْ تُرْكَبَ وَيُحْمَلَ عَلَيْهَا الْفَحْلُ وَهِيَ تَلْقَحُ، وَلَا يُلْقَحُ الذَّكَرُ حَتَّى يُثَنِّيَ، وَيُقَالُ لِلْحِقَّةِ: طَرُوقَةُ الْفَحْلِ لِأَنَّ الْفَحْلَ يَطْرُقُهَا إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ، فَإِذَا طَعَنَتْ فِي الْخَامِسَةِ فَهِيَ جَذَعَةٌ حَتَّى يَتِمَّ لَهَا خَمْسُ سِنِينَ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ حِينَئِذٍ ثَنِيٌّ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ سِتًّا، فَإِذَا طَعَنَ فِي السَّابِعَةِ سُمِّيَ الذَّكَرُ رَبَاعِيًا وَالْأُنْثَى رَبَاعِيَةً إِلَى تَمَامِ السَّابِعَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ وَأَلْقَى السِّنَّ السَّدِيسَ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ إِلَى تَمَامِ الثَّامِنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التِّسْعِ وَطَلَعَ نَابُهُ فَهُوَ بَازِلٌ أَيْ بَزَلَ نَابُهُ، يَعْنِي طَلَعَ، حَتَّى يَدْخُلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ حِينَئِذٍ مُخْلِفٌ، ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ، وَلَكِنْ يُقَالُ: بَازِلُ عَامٍ، وَبَازِلُ عَامَيْنِ، وَمُخْلِفُ عَامٍ، وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ، وَمُخْلِفُ ثَلَاثَةِ أَعْوَامٍ إِلَى خَمْسِ سِنِينَ، وَالْخَلِفَةُ الْحَامِلُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: وَالْجَذُوعَةُ وَقْتٌ مِنَ الزَّمَنِ لَيْسَ بِسِنٍّ، وَفُصُولُ الْأَسْنَانِ عِنْدَ طُلُوعِ سُهَيْلٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَنْشَدَنَا الرِّيَاشِيُّ: إِذَا سُهَيْلٌ أَوَّلَ اللَّيْلِ طَلَعْ فَابْنُ اللَّبُونِ الْحِقُّ وَالْحِقُّ جَذَعْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَسْنَانِهَا غَيْرُ الْهُبَعْ وَالْهُبَعُ الَّذِي يُولَدُ فِي غَيْرِ حِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ اموال کی زکوة کہاں پر لی جائے
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ جلب صحیح ہے نہ جنب لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٨٧٨٥، ١٩٢٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٠، ٢١٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جلب زکاۃ دینے والا اپنے جانور کھینچ کر عامل کے پاس لے آئے، اور جنب زکاۃ دینے والا اپنے جانور دور لے کر چلا جائے تاکہ عامل کو زکاۃ لینے کے لئے وہاں جانا پڑے۔
حدیث نمبر: 1591 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ اموال کی زکوة کہاں پر لی جائے
محمد بن اسحاق سے آپ ﷺ کے فرمان : لا جلب ولا جنب کی تفسیر میں مروی ہے کہ لا جلب کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کرلی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور جنب فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے : وہ کہتے ہیں : جنب یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٨٧٨٥، ١٩٢٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٠، ٢١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس تفسیر کی رو سے جلب اور جنب کے معنی ایک ہوجا رہے ہیں، اور جنب کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنب یہ ہے کہ جانوروں کا مالک جانوروں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر دور کرلے تاکہ محصل کو انہیں ڈھونڈنے اور ان کے پاس پہنچنے میں زحمت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
حدیث نمبر: 1592 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فِي قَوْلِهِ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، قَالَ: أَنْ تُصَدَّقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبَ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَالْجَنَبُ عَنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفَرِيضَةِ أَيْضًا لَا يُجْنَبُ أَصْحَابُهَا، يَقُولُ: وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ، وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ.
তাহকীক: