কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
کتاب الزکوٰة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৮ টি
হাদীস নং: ১৬১৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں والذکر والأنثى بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے ذكر أو أنثى کے الفاظ ( نکرہ کے ساتھ) ذکر کئے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٧٨ (١٥١٢) ، ( تحفة الأشراف : ٧٧٩٥، ٧٨١٥، ٨١٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1613 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، زَادَ مُوسَى: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ فِيهِ: أَيُّوبُ وَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فِي حَدِيثِهِمَا: عَنْ نَافِعٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو، یا انگور نکالتے تھے، جب عمر (رض) کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع (صدقہ فطر) مقرر کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الزکاة ٤١ (٢٥١٨) ، ( تحفة الأشراف : ٧٧٦٠) (ضعیف) (عمر (رض) کا ذکر وہم ہے صحیح یہ ہے کہ ایسا معاویہ (رض) نے کیا، عبدالعزیز بن أبی رواد سے یہاں وھم ہوگیا ہے ان سے وہم ہو بھی جایا کرتا تھا )
حدیث نمبر: 1614 حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَتِ الْحِنْطَةُ، جَعَلَ عُمَرُ نِصْفَ صَاعٍ حِنْطَةً مَكَانَ صَاعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَشْيَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کرلیا، عبداللہ (ایک صاع) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہوگیا تو انہوں نے جو دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٧٨ (١٥١١) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤) ، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٦) ، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٥١٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢) ، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧) ، دی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1615 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ (رض) حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی : میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کرلیا، اور ابوسعید نے کہا : لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں : اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے أو صاعًا من حنطة بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٧٢ (١٥٠٥) ، ٧٣ (١٥٠٦) ، ٧٥ (١٥٠٨) ، ٧٦ (١٥١٠) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٥) ، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٣) ، سنن النسائی/الزکاة ٣٧ (٢٥١٣) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٩) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٦٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٣) ، مسند احمد (٣/٢٣، ٧٣، ٩٨) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1616 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَ عَبْدَةُ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ: أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
اس سند سے اسماعیل (اسماعیل ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر : ١٦١٦ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے نصف صاع من بُرٍّ نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٦٩) (ضعیف )
حدیث نمبر: 1617 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحِنْطَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں : لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد أبو داود بروایة سفیان بن عیینة، وروایة یحییٰ القطان صحیحة موافقة لرقم : ١٦١٦، ( تحفة الأشراف : ٤٢٦٩) (حسن) (یحییٰ القطان کی روایت حسن ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہے، اس لئے ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 1618 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، سَمِعَ عِيَاضًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا، إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، زَادَ سُفْيَانُ: أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، قَالَ حَامِدٌ: فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر میں نصف صاع گیہوں کی دلیل
عبداللہ بن ابوصعیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے (ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں غنيٍ أو فقيرٍ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٠٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٣٢) (ضعیف) (نعمان بن راشد کے سبب یہ روایت ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 1619 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَمُسَدَّدٌ: عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى، زَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر میں نصف صاع گیہوں کی دلیل
ثعلبہ بن صعیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں أو صاع بر أو قمح بين اثنين کا اضافہ کیا ہے (یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں : چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٠٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1620 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ، زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اتَّفَقَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر میں نصف صاع گیہوں کی دلیل
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ (جزم کے ساتھ بغیر شک کے) کہا ١ ؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری (عبداللہ بن یزید) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔ ٢ ؎ : عدوی تصحیف ہے۔
حدیث نمبر: 1621 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ: قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ قال أَبُو دَاوُدَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ: : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ خالی ہے
حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا : اپنے روزے کا صدقہ نکالو ، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا : اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں ؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر ، پھر جب علی (رض) آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کردی ہے، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کرلو ١ ؎ تو بہتر ہے ۔ حمید کہتے ہیں : حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٣٦ (٢٥١٠) ، ( تحفة الأشراف : ٥٣٩٤) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابن عباس (رض) سے نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو ۔
حدیث نمبر: 1622 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حُمَيْدٌ: أَخْبَرَنَا، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رُخْصَ السِّعْرِ، قَالَ: قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَى صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى مَنْ صَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৩
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ وجوب زکوة سے قبل زکوٰةدینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر بن خطاب (رض) کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہم نے (زکاۃ دینے سے) انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن جمیل اس لیے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کردیا، رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں ١ ؎، اور رہے رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی قدر اور ہے ٢ ؎، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے ۔ راوی کو شک ہے صنو الأب کہا، یا صنو أبيه کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٣ (٩٨٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٩٢٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٤٩ (١٤٦٨) ، سنن النسائی/الزکاة ١٥ (٢٤٦٣) ، مسند احمد (٢/٣٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنے سامان اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے وقف کر رکھا ہے، پھر ان کی زکاۃ کیسی ، اسے تو انہوں نے اللہ ہی کی راہ میں دے رکھا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بن مانگے اپنی خوشی سے یہ چیزیں اللہ کی راہ میں دیدیں ہیں، تو وہ بھلا زکاۃ کیوں نہیں دیں گے، تمہیں لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہوگی۔ ٢ ؎ : باب سے مطابقت اسی لفظ سے ہے یعنی : ” اس سال کی زکاۃ اور اسی کے مثل آئندہ کی زکاۃ بھی “۔
حدیث نمبر: 1623 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الْأَبِ أَوْ صِنْوُ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৪
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ وجوب زکوة سے قبل زکوٰةدینے کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں کہ عباس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے زکاۃ جلدی (یعنی سال گزرنے سے پہلے) دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ راوی نے ایک بار فرخص له في ذلك کے بجائے فأذن له في ذلك روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، (یعنی : اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٣٧ (٦٧٨) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٧ (١٧٩٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٠٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٠٤) ، سنن الدارمی/الزکاة ١٢ (١٦٧٦) (حسن )
حدیث نمبر: 1624 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، قَالَ مَرَّةً: فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৫
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ زکوة کا ایک شہر سے دوسرے شہر میں لے جانا
عطا کہتے ہیں زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین (رض) کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا : مال کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا ؟ ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لیتے تھے، اور اس کو صرف کردیا جہاں ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں صرف کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٤ (١٨١١) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٨٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شہر کے لوگوں سے زکاۃ وصولی جائے اسی شہر کے فقراء اور محتاجوں میں وہ تقسیم ہو، اگر وہاں کے لوگوں کو ضرورت نہ ہو تو دوسرے شہر کے ضرورتمندوں کی طرف اسے منتقل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1625 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ زِيَادًا أَوْ بَعْضَ الْأُمَرَاءِ بَعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ لِعِمْرَانَ: أَيْنَ الْمَالُ ؟ قَالَ: وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي أَخَذْنَاهَا مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْنَاهَا حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৬
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بےنیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے ، لوگوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں ۔ یحییٰ کہتے ہیں : عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا : مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ١ ؎ تو سفیان نے کہا : ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٢٢ (٦٥٠) ، سنن النسائی/الزکاة ٨٧ (٢٥٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٦ (١٨٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١) ، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی حکیم بن جبیر ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت زبید کر رہے ہیں جس سے یہ ضعف جاتا رہا۔
حدیث نمبر: 1626 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْغِنَى ؟ قَالَ: خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ. قَالَ يَحْيَى: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ حِفْظِي: أَنَّ شُعْبَةَ لَا يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے : میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ١ ؎، اسدی کہتے ہیں : میں نے (اپنے جی میں) کہا : ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں : چناچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور منقی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، أو كما قال یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٩٠ (٢٥٩٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٦٤٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصدقة ١(٣) ، مسند احمد (٤/٣٦، ٥/٤٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں الحاف ہے یعنی الحاح اور شدید اصرار، ایسا سوال کرنا قرآن کے مطابق ناپسندیدہ عمل ہے۔
حدیث نمبر: 1627 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَنَّهُ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ، مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا، قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ لَلِقْحَةٌ: لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ، أَوْ كَمَا قَالَ: حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ كَمَا قَالَ مَالِكٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا ، میں نے (اپنے جی میں) کہا : میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ (ہشام کی روایت میں ہے : چالیس درہم سے بہتر ہے) ، چناچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ١ ؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٨٩ (٢٥٩٦) ، ( تحفة الأشراف : ٤١٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اللہ کے رسول ﷺ سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا جیسا کہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے۔
حدیث نمبر: 1628 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ، فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ هِشَامٌ: خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَسْأَلْهُ شَيْئًا، زَادَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَتِ الْأُوقِيَّةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৯
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ (رض) کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : محمد ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ١ ؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو ؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بےنیاز کردیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ (ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے) ۔ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کس قدر مال آدمی کو غنی کردیتا ہے ؟ (نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا : غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا : اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا : اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٤٦٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٨٠، ١٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : متلمس ایک شاعر گزرا ہے، اس نے بادشاہ عمرو بن ہند کی ہجو کی تھی، بادشاہ نے کمال ہوشیاری سے اپنے عامل کے نام خط لکھ کر اس کو دیا اور کہا کہ تم اس لفافے کو لے کر فلاں عامل کے پاس جاؤ، وہ تمہیں انعام سے نوازے گا، خط میں ہجو کے جرم میں اسے قتل کردینے کا حکم تھا، راستہ میں متلمس کو شبہہ ہوا، اس نے لفافہ پھاڑ کر خط پڑھا تو اس میں اس کے قتل کا حکم تھا، چناچہ اس نے خط پھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی جان بچا لی۔
حدیث نمبر: 1629 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلَاهُ، فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا، وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا، فَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ فَلَفَّهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ، وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتُرَانِي حَامِلًا إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لَا أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ ؟ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ، وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ ؟ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ، قَالَ: قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ، وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبْعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ، وَكَانَ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا عَلَى هَذِهِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي ذَكَرْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩০
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
زیاد بن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا : آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ١ ؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٦٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : ان آٹھ قسموں کا ذکر اس آیت میں ہے : إنما الصدقات للفقراء والمساکين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم (سورة التوبة : ٦٠) ، ” زکاۃ صرف فقراء، مساکین اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے “۔
حدیث نمبر: 1630 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩১
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٣٥٥) ، وقد أخرجہ : خ /الزکاة ٥٣ (١٤٧٦) ، و تفسیر البقرة ٤٨ (٤٥٣٩) ، صحیح مسلم/الزکاة ٣٤ (١٠٣٩) ، سنن النسائی/الزکاة ٧٦ (٢٥٧٢) ، موطا امام مالک/ صفة النبی ٥ (٧) ، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٣١٦، ٣٩٣، ٤٤٥، ٤٥٧) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢ (١٦٥٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1631 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩২
کتاب الزکوٰة
পরিচ্ছেদঃ مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے : لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے المتعفف الذي لا يسأل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے فذاک المحروم کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٧٦ (٢٥٧٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٢٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٦٠) (صحیح) دون قوله : ” فذاک المحروم “ فإنه مقطوع من کلام الزهري
حدیث نمبر: 1632 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ، قَالَ: وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ، زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَجَعَلَا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَصَحُّ.
তাহকীক: