কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১১৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوٰة کسوف میں قرأت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی، آپ ﷺ نے سورة البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الصلاة ٥١ (٤٣١) ، الکسوف ٩ (١٠٥٢) ، صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٧) ، سنن النسائی/الکسوف ١٧ (١٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٩٨، ٣٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1189 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَذَا عِنْدَ الْقَاضِي، وَالصَّوَابُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خُسِفَتِ الشَّمْسُفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا بِنَحْوٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوٰة کسوف میں لوگوں کو شرکت کی دعوت دینا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز (کسوف) جماعت سے ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الکسوف (١٠٦٥) ، صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١) ، سنن النسائی/الکسوف ١٨ (١٤٩٥) ، ٢١ (١٤٩٨) (تحفة الأشراف : ١٦٥٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1190 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِيعُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گہن ہو تو صدقہ دیا جائے
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧١٤٨، ١٧١٧٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1191 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گہن لگنے پر غلام آزاد کرنا
اسماء (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الکسوف ١١ (١٠٥٤) ، والعتق ٣ (٢٥١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٤٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1192 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت کسوف میں دو رکعت پڑھنے کا بیان
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الکسوف ١٦ (١٤٨٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٢ (١٢٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧١، ٢٧٧) (منکر) (دیکھئے حدیث نمبر : ١١٨٥ )
حدیث نمبر: 1193 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت کسوف میں دو رکعت پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر اخیر سجدے میں آپ ﷺ نے پھونک ماری اور اف اف کہا : پھر فرمایا : اے میرے رب ! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا ؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے ؟ ، پھر رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہوگیا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الکسوف ١٤ (١٤٨٣) ، ٢٠ (١٤٩٧) ، سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٣٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الکسوف ٣ (١٠٤٥) ، ٨ (١٠٥٨) ، صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٠) ، مسند احمد (٢/١٧٥) (صحیح) (ہر رکعت میں دو رکوع کے ذکر کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے )
حدیث نمبر: 1194 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ: أُفْ أُفْ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ، فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت کسوف میں دو رکعت پڑھنے کا بیان
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا، تو میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا، اس وقت آپ نے (نماز کسوف کی دونوں رکعتوں) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٣) ، سنن النسائی/ السکوف ٢ (١٤٦١) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/ ٦١، ٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1195 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفُ الشَّمْسِ الْيَوْمَ ؟ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُو رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُحَمِّدُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تاریکی وغیرہ کے موقع پر نماز پڑھنا
نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک (رض) کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا : ابوحمزہ ! کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آجاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی نضر بن عبداللہ قیسی مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1196 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَنَسًا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ كَانَ يُصِيبُكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ الْمَسْجِدَ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے پر سجدہ کرنا
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی فلاں بیوی کا انتقال ہوگیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گرپڑے، ان سے کہا گیا : کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی بڑا حادثہ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہوسکتی ہے ؟۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ المنا قب ٦٤ (٣٨٩١) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٣٧) (حسن )
حدیث نمبر: 1197 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا، وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی نماز کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (حسب معمول) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١ (٣٥٠) ، وتقصیر الصلاة ٥ (١٠٩٠) ، فضائل الصحابة ٧٦ (٣٧٢٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٥) ، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ١ (٩) ، مسند احمد (٦/٢٣٤، ٢٤١، ٢٦٥، ٢٧٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩(١٥٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اضافہ صرف چار رکعت والی نماز ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرات مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔
حدیث نمبر: 1198 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ، رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی نماز کا بیان
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے کہا : مجھے بتائیے کہ (سفر میں) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے : اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کردیں گے ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا : جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٥ (٣٠٣٤) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٣ (١٠٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٥، ٣٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قصر نماز حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پر امن ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1199 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْيَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى: إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَصَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی نماز کا بیان
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1200 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصر کی مسافت
یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٧١) ، وقد أخرجہ : حم (٣/ ١٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قصر کے لئے مسافت کی تحدید میں رسول اکرم ﷺ کا کوئی صریح قول نہیں ہے، فعلی احادیث میں سب سے صحیح یہی حدیث ہے ، اس کے مطابق (اکثر مسافت تین فرسخ کے مطابق) نو میل کی مسافت سے قصر کی جاسکتی ہے ، جو کیلو میٹر کے حساب سے ساڑھے چودہ کیلو میٹر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1201 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ،فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ، شُعْبَةُ شَكَّ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصر کی مسافت
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٥ (١٠٨٩) ، والحج ٢٤ (١٥٤٦) ، ٢٥ (١٥٤٨) ، ١١٩ (١٧١٤) ، والجہاد ١٠٤ (٢٩٥١) ، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (٥٤٦) ، سنن النسائی/الصلاة ١١ (٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦، ١٥٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ١١٠، ١١١، ١٧٧، ١٨٦، ٢٣٧، ٢٦٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٨) ، ویأتي في الحج برقم ١٧٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے تو اس کے لئے قصر کرنا جائز ہوجاتا ہے، ذوالحلیفہ مدینہ سے (مکہ کے راستے میں) تیرہ کیلو میٹر کی دوری پر ہے ، جو اہل مدینہ کی میقات ہے ، اس وقت یہ ” ابیار علی “ سے بھی مشہور ہے۔
حدیث نمبر: 1202 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں اذان دینے کا بیان
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا ١ ؎ اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان (٢٦/٦٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں تنہا آدمی کے لیے بھی اذان مشروع ہے۔
حدیث نمبر: 1203 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کو شک کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر نماز پڑھے تو درست ہے
مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے کہا : ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو، انہوں نے کہا : جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے : سورج ڈھل گیا یا نہیں ١ ؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٨٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٥ (١١١١) ، ١٦ (١١١٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٧) ، مسند احمد (٣/ ١١٣، ٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام کو وقت ہوجانے کا یقین ہے تو مقتدیوں کے شک کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 1204 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ، صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کو شک کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر نماز پڑھے تو درست ہے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا : گرچہ نصف النہار ہوتا ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ نصف النہار ہوتا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المواقیت ٢ (٤٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٠، ١٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1205 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
معاذ بن جبل (رض) نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی ٢ ؎ پھر اندر (قیام گاہ میں) ٣ ؎ چلے گئے، پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٦) ، والفضائل ٣ (٧٠٦/١٠) ، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٤ (١٠٧٠) ، وانظر مایأتي برقم : ١٢٢٠ ، (تحفة الأشراف : ١١٣٢٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجمعة ٤٢ (٥٥٣) ، موطا امام مالک/قصرالصلاة ١(٢) ، مسند احمد (٥/٢٢٩، ٢٣٠، ٢٣٣، ٢٣٦، ٢٣٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢(١٥٥٦) (صحیح ) وضاحت : : جمع کی دو قسمیں ہیں : ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اول وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے ، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لئے ہوئی ہے، اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے، کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا مشکل ہے۔ ٢ ؎ : اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین (دو نماز کو ایک وقت میں ادا کرنے) کی رخصت ایام حج میں عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے۔ ٣ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ جمع بین الصلاتین کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1206 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَفَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کو صفیہ ١ ؎ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے (اور چلتے رہے) یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے، تو عرض کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کرتے، پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( (تحفة الأشراف : ٧٥٨٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٦ (١٠٩١) ، والعمرة ٢٠ (١٨٠٥) ، والجہاد ١٣٦ (٣٠٠٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٧ (٥٥٥) ، سنن النسائی/المواقیت ٤٣ (٥٩٦) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١(٣) ، مسند احمد (٢/٥١، ٨٠، ١٠٢، ١٠٦، ١٥٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢(١٥٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : صفیہ ، ابن عمر (رض) کی بیوی تھیں، مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک یہ ہے کہ ” حالت نزع کی خبر دی گئی “ ، نسائی کی ایک روایت میں یہ ہے کہ صفیہ نے خود خط لکھا کہ میں حالت نزع میں ہوں جلدی ملیں۔
حدیث نمبر: 1207 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَسَارَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ، فَقَالَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فِي سَفَرٍ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، فَنَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ ﷺ عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس (رض) سے، ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٠٦، (تحفة الأشراف : ١١٣٢٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1208 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلُ ذَلِكَ إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الْمُفَضَّلِ، وَاللَّيْثِ.
তাহকীক: