কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১০৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گاؤں میں جمعہ پڑھنے کا بیان
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک (رض) جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع (بستی، گاؤں) ھزم النبیت ١ ؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ کہا : ہم چالیس تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٨ (١٠٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١١١٤٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام ہزم النبیت تھا۔
حدیث نمبر: 1069 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ، يُقَالُ لَهُ: نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ، قُلْتُ: كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب جمعہ اور عید ایک دن پڑ جائیں
ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان (رض) کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم (رض) سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، معاویہ نے پوچھا : پھر آپ نے کس طرح کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا : جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/العیدین ٣١ (١٥٩٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٦ (١٣١٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٧٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٥ (١٦٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ذاتی طور پر مسلمان کو اختیار ہے کہ عید کی نماز کے بعد چاہے تو جمعہ نہ پڑھ کر صرف ظہر پڑھ لے اسی طرح جس مسجد میں جمعہ نہیں قائم ہوتا اس میں لوگ ظہر پڑہ لیں، لیکن جس مسجد میں جمعہ قائم ہوتا ہو وہاں جمعہ قائم ہوگا، کیوں کہ نبی اکرم ﷺ نیز عثمان (رض) نے عام لوگوں کو جمعہ کی چھوٹ دے کر فرمایا : ” ہم تو جمعہ پڑھیں گے “۔
حدیث نمبر: 1070 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعَ ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب جمعہ اور عید ایک دن پڑ جائیں
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر (رض) نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ١ ؎ ابن عباس (رض) اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا : انہوں (ابن زبیر رضی اللہ عنہ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/صلاة العیدین (٨٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔
حدیث نمبر: 1071 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِفَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًاوَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَابَ السُّنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب جمعہ اور عید ایک دن پڑ جائیں
عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر (رض) کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئے تو آپ نے کہا : ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دراصل عبداللہ بن زبیر (رض) گھر سے نکلے ہی نہیں (جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے) اس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے ظہر بھی نہیں پڑھی، حالانکہ ایسی بات نہیں، آپ نے گھر میں ظہر پڑھ لی تھی، کیونکہ عید کے دن جمعہ معاف ہے ظہر نہیں۔ یہ اسلام کا عام قاعدہ ہے کہ جس سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہے اس کے لئے ظہر پڑھنی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 1072 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: اجْتَمَعَ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَيَوْمُ فِطْرٍ عَلَى عَهْدِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَجَمَعَهُمَا جَمِيعًا فَصَلَّاهُمَا رَكْعَتَيْنِ بُكْرَةً لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب جمعہ اور عید ایک دن پڑ جائیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہوگی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٦ (١٣١١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1073 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ. قَالَ عُمَرُ: عَنْ شُعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں کون سی سورت پڑھے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر میں سورة السجدة اور هل أتى على الإنسان حين من الدهر پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٧ (٨٧٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٨ (٥٢٠) ، سنن النسائی/الافتتاح ٤٧ (٩٥٦، ٩٥٧) ، والجمعة ٣٨ (١٤٢٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦ (٨٢١) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٣٠٧، ٣١٦، ٣٢٨، ٣٣٤، ٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٦١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1074 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں کون سی سورت پڑھے
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ جمعہ میں سورة الجمعہ اور إذا جاءک المنافقون پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٦١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1075 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے کپڑوں کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش ! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر (رض) کو دیا تو عمر نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے ؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ، چناچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٧ (٨٨٦) ، والعیدین ١ (٩٤٨) ، والھبة ٢٧ (٢٦١٢) ، ٢٩ (٢٦١٩) ، والجھاد ١٧٧ (٣٠٥٤) ، واللباس ٣٠ (٥٨٤١) ، والأدب ٩ (٥٩٨١) ، ٦٦ (٦٠٨١) ، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٨) ، سنن النسائی/الجمعة ١١ (١٣٨٣) ، والعیدین ٤ (١٥٦١) ، والزینة ٨٣ (٥٢٩٧) ، ٨٥ (٥٣٠١) ، (تحفة الأشراف : ٨٠٢٣، ٨٣٣٢٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ١٦ (٣٥٨٩) ، مسند احمد (٢/٢٠، ٣٩، ٤٩) ویأتی ہذا الحدیث فی اللباس (٤٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1076 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ، يَعْنِي: تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: كَسَوْتَنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَافَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے کپڑوں کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں عمر بن خطاب (رض) نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٨) ، سنن النسائی/العیدین ٤ (١٥٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1077 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے کپڑوں کا بیان
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ١ ؎۔ عمرو کہتے ہیں : مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام (رض) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٨٣ (١٠٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٣٤، ١١٨٥٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجمعة ٨ (١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے لئے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ الگ کپڑے رکھنا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 1078 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ، أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ. قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْيُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنا
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خریدو فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢) ، سنن النسائی/المساجد ٢٣ (٧١٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩) ، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کیوں کہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ باندھ کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے اس لئے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
حدیث نمبر: 1079 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ، وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منبر بنانے کا بیان
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی (رض) کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا ؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا : قسم اللہ کی ! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ ﷺ بیٹھے، آپ ﷺ نے ایک عورت کے پاس۔ جس کا سہل نے نام لیا۔ یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ ﷺ کے پاس بھیج دیا، آپ ﷺ نے اسے (ایک جگہ) رکھنے کا حکم دیا، چناچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا : لوگو ! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٧) ، والجمعة ٢٦ (٩١٧) ، صحیح مسلم/المساجد ١٠ (٥٤٤) ، سنن النسائی/المساجد ٤٥ (٧٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٧٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٩ (١٤١٦) ، مسند احمد (٥/٣٣٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٥ (١٢٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1080 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٌ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَفَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَافَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَفَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منبر بنانے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا جسم (بڑھاپے کی وجہ سے) جب بھاری ہوگیا تو تمیم داری (رض) نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، کیوں نہیں !، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنادیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٧٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1081 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ، قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ: أَلَا أَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ، أَوْ يَحْمِلُ عِظَامَكَ ؟ قَالَ: بَلَىفَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منبر رکھنے کی جگہ کا بیان
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے منبر اور (قبلہ والی) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلا ة ٩١ (٤٩٧) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٩ (٥٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٦، ٥٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1082 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْحَائِطِ كَقَدْرِ مَمَرِّ الشَّاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زوال سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنا
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا : جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث مرسل (منقطع) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ (رض) سے سماع نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٨٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 1083 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ نِصْفَ النَّهَارِ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: إِنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ مُرْسَلٌ، مُجَاهِدٌ أَكْبَرُ مِنْ أَبِي الْخَلِيلِ، وَأَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے وقت کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ١٦(٩٠٤) ، سنن الترمذی/الجمعة ٩ (٥٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٨، ١٥٠، ٢٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1084 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے وقت کا بیان
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٢٥ (٤١٦٨) ، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٦٠) ، سنن النسائی/الجمعة ١٤ (١٣٩٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٤ (١١٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٦، ٥٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤(١٥٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1085 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے وقت کا بیان
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : والاستئذان ٣٩ (٦٢٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٨٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٥٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦١ (الجمعة ٢٦) (٥٢٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٤ (١٠٩٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1086 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی اذان کا بیان
سائب بن یزید (رض) کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان (رض) کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چناچہ زوراء ١ ؎ پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢) ، ٢٢ (٩١٣) ، ٢٤ (٩١٥) ، ٢٥ (٩١٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (الجمعة ٢٠) (٥١٦) ، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٧ (١١٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٥٠٤٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام۔ ٢ ؎ : تکبیر کو شامل کرکے یہ تیسری اذان ہوئی ، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان (رض) کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) کی سنت کی اتباع کی۔
حدیث نمبر: 1087 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَافَلَمَّا كَانَ خِلَافَةُ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی اذان کا بیان
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر (رض) کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٧٩٩) (منکر) (زہری سے اس حدیث کو سات آدمیوں نے روایت کی ہے مگر کسی کے یہاں بین یدی کا لفظ نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1088 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ،وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ.
তাহকীক: